گوشہ نشیں بھی ہے ہوسِ سیر میں بھی ہے
نادان دل مرا اثرِ غیر میں بھی ہے

پوشاکِ گل پہن کے میں نکلا تو ہوں مگر
کانٹا سی ایک چیز مرے پَیر میں بھی ہے

شاعر بنا دیا مجھے کرکے تباہ حال
اک خاص دوستانہ روش بَیر میں بھی ہے

جس طرح دل کی بات میں کرتا ہوں شعر میں
بالکل یہی کمالِ سخن غیر میں بھی ہے

اپنی حدوں میں سارے خدا ایک ہی سے ہیں
صحنِ حرم میں جو ہے وہی دیَر میں بھی ہے

اک نیم بے لباس بھکارن کو دی ہے بھیک
اور خواہشِ گنہ عملِ خَیر میں بھی ہے

اشفاق اُس سے کون سا رشتہ میں اب رکھوں
وہ میرے ساتھ بھی ہے صفِ غیر میں بھی ہے

اشفاق حسین

SHARE

LEAVE A REPLY