سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف نے انکشاف کیا ہے کہ سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے ان کی ‘مدد’ کی اور عدالتوں پر موجود دباؤ ختم کرنے کے لیے حکومت سے معاہدہ کیا، جس کے بعد انھیں بیرون ملک جانے دیا گیا۔

نجی چینل دنیا نیوز کے پروگرام ‘ٹونائٹ وِد کامران شاہد’ میں گفتگو کرتے ہوئے پرویز مشرف کا کہنا تھا، ‘میں ان کا باس رہا ہوں اور میں آرمی چیف بھی رہا ہوں، تو انھوں نے میری مدد کی’۔

پرویز مشرف کا کہنا تھا کہ ان کے خلاف (حکومت کی جانب سے) سیاسی کیسز بنائے گئے تھے، جس کے بعد ان کا نام ایگزٹ کنٹرل لسٹ (ای سی ایل) میں ڈال دیا گیا۔

سابق صدر نے عدلیہ کے کردار پر بھی تنقید کی اور کہا ‘بدقسمتی سے کہنا پڑتا ہے کہ عدالتیں پس منظر میں دباؤ میں کام کر رہی ہوتی ہیں اور اسی کے تحت فیصلے دے رہی ہوتی ہیں تو پس منظر میں موجود دباؤ کو ختم کرنے میں آرمی چیف (جنرل راحیل شریف) کا کردار تھا’۔

پرویز مشرف نے بتایا کہ جنرل راحیل شریف نے حکومت سے معاہدہ کیا اور عدالتوں پر حکومت کی جانب سے ڈالے جانے والے دباؤ کو ختم کیا، جس کے بعد انھیں علاج کے لیے باہر جانے کی اجازت دے دی گئی۔

SHARE

LEAVE A REPLY