سفر عشق ہر سانس میں رواں4۔ رافیعہ گیلانی۔ راجن پور

0
197

اب میں اپنے مشاہدات اور تجربات بات کرونگی لیکن اس سے پہلے ایک ضروری بات جو آپکو کرنا ھے وہ یہ کے آپ جس ملک جارھے ھیں اس ملک کی کرنسی ضرور ساتھ لے لیں ھمارے ملک میں بھی دنیا کے مخلتلف ممالک کی کرنسی مل جاتی ھے آپ بھی سفر پر روانہ ھونے سے پہلے عراق کی کرنسی ضرور لے لیں جو پاکستان کے ہر بڑے شہر میں ان لوگوں سے مل جاتی ھے جو لوگ کرنسی کا کاروبار کرتے ھیں اسکے لئے ان کاروباری حضرات کے آفس ھوتے ھیں – اگر آپ کرنسی نھیں تبدیل کر رھے تھے بھی کوئی اتنا بڑا مسلہ نھیں ھے وہاں بھی آپکو کرنسی ایکسچینجر والے مل جائیں گے لیکن وہاں آپکو تھوڑا کم قیمت ملے گی کیونکہ کاروباری لوگ کرنسی تبد یل کرنے میں دوسرے ملک کی کرنسی کی قیمت تھوڑی کم لگاتے ھیں

pak-currency

ھم نے بھی وہاں سے جاکر کرنسی تبدیل کروائی تھی لیکن اگر ھم قافلہ کے ساتھ نیں جارھے تو ھمیں راستہ میں بھی ٹیکسی یا بس میں سفر کرنے کے لئے پیسے دینا ھونگے تو ضروری ھے ھمارے پاس عراق کی کرنسی ھو جو ھم اپنے ملک سے ھی لے کر جائیں –

اب آیئے اگے بڑھتے ھوئے سفر کی بات کرتے ھیں ھم لوگ بغداد پہنچنے سے پہلے دوحہ ایئر پورٹ پہنچے تھے تو وہاں دوحہ میں ھمیں ایئر پورٹ پر طرح طرح کے لوگ دکھائی دئے دوحہ انٹر نیشل اہر پورٹ ھے ادھر سے تقریبا پوری دنیا میں ھی فلائٹ جاتی ھیں تو لوگ بھی پھر مختلف ملکوں کے ھی وہاں پر دیکھنے کو ملے کوئی گورے کوئی کالے کوئی مشرقی کوئی مغربی کوئی ایشیائی ، لیکن ایک بات بہت دکھ کی بات تھی ھم میں سے یعنی پاکستانی ایسے بھی تھے جو نیم عریاں آنگریز عورتوں کو گھور گھور کر دیکھ بھی رھے تھے اور ساتھ ھی باتیں بھی کر رھے تھے دیکھیں جی یہ کتنا بے غیرت لوگ ھیں انکے لباس دیکھیں کوئی کہہ رہا تھا یہ شیطان ابلیس کے ساتھی ھیں ھیں یہ بے حیا ھیں ، جب کہ کوئی آنگریز ایسا نھیں تھا جسے ھم عجیب لگ رھے ھوں اور وہ ھمیں گھور رہا ھو بس وہ اپنے مگن تھے ادھر ادھر جارھے تھے اس بات سے بے نیاز کے کوئی ھمیں دیکھ رہا ھے یا کوئی کیا کر رہا ھے

girl-standing-in-airport

جب کہ اگر ھمیں انکا لباس عجیب لگ رہا تھا تو ھم بھی تو انکو عجیب لگ رھے ھونگے کیونکہ اگر وہ ھم سے مختلف لباس میں تھے تو وہ ھم بھی تو ان سے مختلف تھے لیکن لوگوں پہ آوازیں کسنا ان پر ھسنا یا تمسخر اڑانا شاید ھماری قوم کی ھی فطرت ھے جب کہ یہ تعلیمات ھمارے دین اسلام کی ھیں کسی کا مزاق نا بناؤ کسی کو کم تر نا جانو اپنے دین کا یا اپنے دینی اصولوں کو دوسروں پر مسلط نا کرو کیونکہ اگر وہ اسلام کو نھیں مانتے تو یقینا اسلام کے اصولوں اور فرمان کو بھی نھیں مانتے ھونگے مگر ھماری قوم میں اتنا حوصلہ کہاں ھے کے دوسرے پر اپنی مرضی نہیں چلانی ہر کسی کی مرضی وہ جس طرح رھے جس طرح کا طریقہ جینے کے لئے اپنائے یہ فعل ہر انسان کا زاتی ھے اور ہر انسان خدا کو خود جواب دہ ھے اور خدا بھی خود ہر بندہ کے بارے میں جانتا ھے اور حساب لینا بھی خوب جانتا ھے یہ اللہ کا اختیار ھے بندے کا نھیں

ہاں ھمیں صرف اتنا کرنے کی اجازت ھے کہ ھم کسی بھی انسان اور غیر مذہب کو پیار اور معزرت و عاجزی کے ساتھ اسلام کی دعوت دے سکتے ھیں یا پھر ہر مسلمان اخلاقی طور پر اتنا اچھا اور پر درد پر احساس انسان بن جائے جسے دیکھ کر محسوس کر کے خود ھی دوسری قومیں اسلام کو پسندیدہ سمجھتے ھوئے دین اسلام میں آجائیں کیونکہ اچھے اخلاق محبت عدل و انصاف کی وجہ سے مسلمان کو اتنا اچھا سمجھیں کہ انھیں لگے کہ دنیا میں صرف ایک مسلمان قوم ھی ایسی ھے جو اچھی ھے یہ تب ھو گا جب ھم الگ الگ اپنی اپنی زات کی اصلاح کریں گے خود کو مثال بناکر ھی ہر دل عزیز بنا جاسکتا ھے یوں بے جا تنقید یا حقارت والی نظر دیکھنے سے کوئی مرعوب نھٰیں ھوتا تو کیا اچھا سمجھے گا –

اگر ھم کسی کا کوئی عیب دیکھ بھی رھے ھیں تو اس کو روکنے کے لئے محبت عاجزی کی ضرورت ھوتی ھے – اللہ پاک ھمیں توفیق دے ھم اپنی اصلاح کریں مکلمل عملی تصویر بنا کر دوسروں کے دکھائیں لوگ ھمارے بلند کردار دیکھ کر خود ھماری طرٖ ف کھچے آئیں –

آیئے اب سفر عراق کی طرف ، 6 ، 7 گھنٹے بعد ھم بغداد ایر پورٹ پہنچھے ادرھر جب ھم پہنچے رات کے تین بجے کا وقت ھوگا سامان چیک کراتے ھمیں صبح کے 4 بج گئے پھر ایر پورٹ سے باھر آئے وہاں ھمیں بس کے زریعے تیکسی یا بس سٹینڈ تک پہنچایا یہ بس ایر پورٹ کی تھی ، اب ھمیں ھمارا زیارات کا سفر شروع کرنا تھا ادرھر یہ بتاتی چلوں یہ قافلہ والے جب زائرین سے پییسے لے لیتے ھیں تو اپنا رویہ یا لہجہ ایک دم سے بدل لیتے ھیں اور بہت تنگ کرتے ھیں بعض دفعہ لہجہ بھی انتہائی سخت کرتے ھیں کیونکہ اب ھم پوری طرح انکے بس میں آچکے ھوتے ھیں

baghdad-airport

ھمارے پاسپورٹ ھمارے سفری اخراجات سب یہ ایڈوانس لے چکے ھوتے ھیں مطلب انکا پورا ھو چکا ھوتا ھے اب ھم لوگ الٹا ان کے زیر اثر ھوتے ھیں اگر ھم خود سے جائیں اور اپنی خود کی فیملی کے ساتھ جائیں تو حالات مختلف ھوتے ھیں ھم سفر بھی اپنی مرضی اور آسان طریقہ سے کر سکتے ھیں جیسے بغداد سے کاظمین کا سفر بہت کم ھے جیسے ھمارے ملک میں پنڈی اور اسلام آباد آپس میں جڑواں شہر بالکل ایسے ھی بغداد اور کاظمین ھیں – تو آپ بھی پہلے دن اپنے عراق میں داخلے کا سفر بغداد سے کاظمین جاتے ھوئے کریں کاظمین میں حضرت موسی کاظم کی مزار ھے جو شہر کے انتہائی پر رونق اور گنجان آبادی والے علاقہ میں ھے

kazmain

جاری ہے

رافیعہ گیلانی۔ راجن پور

SHARE

LEAVE A REPLY