ترک صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ ’’اس بات میں کوئی شک نہیں‘‘ کہ اس ہفتے کے آغاز پر کیا جانے والا روسی سفیر کا قتل عالم دین، فتح اللہ گولن کے ایک رُکن کی کارستانی ہے۔

اردوان نے ایک اخباری کانفرنس میں بتایا کہ ’’اس بات کی خفیہ کھوج لگانے کی کوئی ضرورت نہیں، چونکہ یہ حقیقت ہے کہ یہ عمل ’فیٹو‘ کے ایک رُکن کی جانب سے کیا گیا‘‘۔ ترک حکومت فتح اللہ گروپ کے لیے یہی مخفف استعمال کرتی ہے۔

ترک وزیر خارجہ مولو کواسوگلو نے اس ہفتے کے آغاز پر امریکی وزیر خارجہ جان کیری کو ٹیلی فون گفتگو کے دوران بتایا تھا کہ ترکی سمجھتا ہے کہ قاتل کا تعلق گولن سے ہے، جو امریکہ میں رہتے ہیں جن پر جولائی میں ترکی میں ہونے والی ناکام بغاوت کا الزام ہے۔

تاہم، بدھ کے روز کی اخباری کانفرنس میں پہلی بار صدر نے کھلے عام یہ دعویٰ کیا۔

گولن نے اِسی ہفتے حملے کی مذمت کی تھی اور امریکہ نے اس تاثر کو ’’بالکل مضحکہ خیز‘‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے، جس میں کہا گیا تھا کہ چونکہ گولن امریکہ میں موجود ہے اس لیے وہ اس قتل میں ملوث ہے یا اُنھوں نے قتل میں مدد دی ہے۔

اس سے قبل بدھ ہے کے روز روس نے بتایا کہ ترکی میں تعینات روس کے سفیر کے قتل میں ملوث حملہ آور کے بارے میں نتائج اخذ کرنا قبل از وقت ہوگا۔

SHARE

LEAVE A REPLY