ساری دنیا دہشت گردی کے خلاف متفق ہے۔ پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دہشت گردی ختم کیوں نہیں ہورہی ہے۔ اس کی سیدھی سادھی سی وجہ یہ ہے کہ کچھ لوگ نہیں چاہتے کہ یہ ختم ہو ان کا کھوج لگانے کی ضرورت ہے۔ بجائے کھوج لگانے کہ ا گر دنیا انہیں کو یا ان کے کارندوں کو مختلف علاقوں کا چودھری بنا کر بٹھادے ۔ تو پھر انہیں ختم کون کریگا؟ کیونکہ ا ن میں سے جو گروہ جس کے لیے اچھا ہوگا وہ اچھا شدت پسند ہو گا جو اس کے خلاف ہوگا برا شدت پسند ہوگا۔ جبکہ بلا تفریق شدت پسندی شدت پسندی ہے جو کہ اسلام کے قطعی خلاف ہے کیونکہ سلام توازن پر زور دیتا ہے۔ ہادی اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیشہ عوام کو سہولیات فراہم کیں اور اپنے ماننے والوں اور عاملوں کو یہ ہی تلقین فرمائی کہ “ آسانیاں فراہم کرنا مشکلات نہیں چونکہ ہر ایک پر یہ بات عیاں ہے لہذا مجھے یہاں مثالیں دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ اور اگر کسی اور کا رویہ اس سے مختلف ہے جو حضور (ص) کا راستہ ہے جس پر انہوں (ص) نے عملی طورچل کر بھی دکھا دیا اورہمیں تاکید بھی کردی کہ “ میراہی راستہ سیدھا راستہ ہے۔ جو اس پر چلے گا وہ فلاح پا جا ئے گا ورنہ گمراہ ہو جائے گا“ حضور (ص) کے سیدھے راستہ کو چھوڑ کر اگر کوئی دوسرا رستہ صحیح بتاتا ہے تو جانتے ہوئے کہ یہ حضور (ص) کا راستہ نہیں اس کااتباع کرنا کسی مومن کے لیے ممکن ہی نہیں ہے؟ پھر یہ جاننا ضروری ہے کہ آخر مسئلہ ہے کیا؟ جواب یہ ہے کہ کسی برائی کا کھوج لگانے کےلیے یہ معلوم کرنا ضروری ہوتا ہے کہ پہلے یہ معلوم کیا جا ئے کہ کس کے پیچھے کون ہے ؟جبکہ سارے مسلمانوں کو برا کہنے سے یہ مسئلہ حل نہیں ہو سکتا اس سے معصوم مسلمانوں کے خلاف بلا وجہ نفرت بڑھے گی جو کہ اکثریت میں ہیں، دوسرے انصاف کے بھی خلاف ہے جس کے لیے یورپ اور امریکہ مشہور ہیں۔ کیونکہ اسلام نے غیر اسلامی ملکوں میں رہنے والے مسلمانوں کو حکم دیا ہوا ہے کہ وہ مقامی قوانین کی پابندی کریں اور وہاں کے حکام کا بھی اتباع کریں (سوائےدین کے) اس کی پہلی مثال تاریخ یہ ملتی ہے کہ حضور (ص) نے ان لوگوں کو جن پر ان کے اپنوں نے مکہ معظمہ میں جینا تنگ کردیا، تو انہیں حکم دیا کہ وہ حبشہ (ایتھوپیا) ہجرت کر جائیں اس لیے کے کہ وہاں کا عیسائی بادشاہ جو اس دور میں “ نجاشی “کہلاتا تھا وہ انتہائی منصف حکمراں ہے۔ یہاں ترجیح کیا تھی وہ “انصاف پسند ہونا“ ہم کتنے انصاف پسند ہیں اور اسلامی ممالک میں انصاف کی کیا حالت ہے اس پر تحقیق آپ پر چھوڑتا ہوں؟ اب میں فتنے کی جڑ کی طرف آتا ہوں کہ اان نفرتوں کا ذمہ دار کون ہے؟ یہ تو سب جانتے ہیں کہ نفرتوں کی عمر تقریبا ایک سوسال ہے، اب دیکھئے کہ دنیا میں اس سوسال میں ایسی کیا تبدیلیاں ہوئیں تو پتہ چل جا ئے گا کہ ذمہ دار کون ہے۔

وہی جن کے ہاتھوں سے زائرینِ حرم تک کسی دور میں محفوظ نہیں رہے اور ان کے کاروبار کی بقا اسی میں ہے کہ لوگ ایک دوسرے کے خون کے پیاسے رہیں ۔ اب دوسرا سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس نفرتوں کے جن کو جو کہ پچھلی کئی صدیوں سے بوتل میں بند تھا نکالا کس نے؟ ایسی دنیا میں وہ کیا تبدیلی کہ ایک صدی میں نفرتیں اپنے عروج پر پہونچ گئیں؟ جبکہ یہ ہی مسلم امہ تھی سب اپنے اور غیروں دونوں کے ساتھ عافیت سے رہ رہے تھے؟ اگر ایسا نہ ہو تا تو مٹھی بھرمسلمان نصف سے زیادہ دنیا پر حکومت نہیں کر سکتے تھے کیونکہ دل محبت سے جیتے جاتے ہیں نفرتوں سے نہیں؟ ۔ یہ وہی انصاف کی خواور رواداری تھی کہ وہ صدیوں تک حکومت کرتے رہے۔ کیونکہ وہ مقامی لوگوں کے ہر دکھ درد میں شریک ہو تے تھے ،کیا ہم میں یہ دونوں صفتیں آج بھی باقی ہیں ؟۔ اور کیا فتنہ پرور آج چودھریوں کی کرسی براجمان نہیں ہیں ۔ بات یہاں سے شروع ہوتی ہے کہ عرب میں ایک نبی (ص) تشریف لے آئے جن کے مبعوث ہونے پر سب متفق اور منتظر تھے سوائے ان کے جو خود کو قدیمی ہونے کی وجہ سے سب سے بر تر سمجھتے تھے اور بعد میں آکر آباد ہونے والے انہیں کھٹکتے تھے۔ جبکہ آج ان کے وہی وارث بنے بیٹھے ہیں جبکہ جو منتظر تھے، وہ ،وہ لوگ تھے جو اپنے گھر بار تک چھوڑ آئے تھے۔ مگر جب وہ تشریف لے آئے تو مفا د پرستوں نے سوچاکہ ا گر یہ کامیاب ہوجاتے ہیں تو انقلاب آجائے گا غریب ا وپر آجائیں گے ہماری چودھراہٹ ختم ہو جا ئیگی ۔ لہذا ہر چودھری نے اپنی چو دھراہٹ بچانے کے لیے ہاتھ پاوں مار نے شروع کر دیئے؟ انہیں میں ایک خاندان عرب میں بھی تھا ۔اور علاقہ نجد کی سرداری ان کے پاس تھی۔ ان کے لیے بقول ان کے سردار کہ مر جانا پسند تھا مگر انہیں کسی قیمت پربھی ان نبی(ص) کا اتباع منظور نہیں تھااس لیے کہ وہ (ص) قریش میں سے تھے اور انہیں قریش کی بالا دستی کسی صورت میں قابلِ قبول نہ تھی جبکہ پورے جبکہ حرم شریف کا مجاور اور متولی ہونے کی وجہ سے قریش کا سب پہلے ہی سے احترام کرتےتھے۔ لہذا پہلے تو وہ قبیلہ اس پاک ہستی (ص) کی مخالفت میں زمین اور آسمان ایک کیے رہا۔ جب سارا عرب سرنگوں ہو گیا تو بھی وہ نہ مانا ۔ مگر جب وہ مجبور ہوگیا تو اس نے مجبوراً اسلام کا لبادہ اوڑھ لیا۔ پھر اسے اسلام میں اصلاح کی سوجھی اور فقہ حنبلیہ کی بدعت کی تطہیر کے نام پر اسے ہر چیز میں بدعت نظر آنے لگی ،؟کیونکہ وہ اس راز سے واقف تھا کہ جو جن کبھی یہ ہی نعرہ لیکر خارجیوں کی شکل میں ا سلام کی ابتدائی صدی ابھرا تھا اور پھر صدیوں تک کسی کے قابو میں نہیں آیا تھا۔ حتیٰ کہ ہلاکوں نے پکڑ کر اسے بوتل میں بند کردیا تھا اسے اپنی توحید پرستی جتا کراس کو قید سے چھڑالیا جا ئے جو کہ بروقت ِ ضرورت کام میں لاکر اقتدار تک پہونچنے کا زینہ بنے؟

اسی دوران ایک ملک جس کی سلطنت اتنی بڑی تھی کہ اس میں سورج کبھی غروب نہیں ہو تا تھا۔ اسے یہ بات پسند نہیں آئی کہ مسلمانوں کا نام نہاد خلٰیفہ ہر جنگ میں جرمنی کا حلیف بنے ؟ اس نے اس سلطنت کو ختم کر نے کے لیے۔ پوری دنیا میں ا پنے لیے کارندے تلاش کر نا شروع کیے، لیکن عرب میں کوئی اور نہیں ملا سوائے تین ہاشمی برادران اور ایک قبیلے کے۔ انہوں نے ان تینوں برادران کو عراق،ا ردن اور شام عطا فرمادئیے، جس میں سے ایک کو تو شام والوں نے گھسنے ہی نہیں دیا۔ دوسرے کو عراق والوں نے کچھ عرصہ بعد اٹھا پھینکا۔ تیسر ان میں اردن کی شکل میں بچا ہوا ۔ چوتھا یہ قبیلہ تھا جس کے حصہ میں عرب کا وہ علاقہ آیا جوکہ مقامات مقدسہ ہو نے کی وجہ سے بہت اہم تھا ۔ وہاں وہ قدم جمانے میں کامیاب ہو گیا۔ اس نے ایک نئے فقہ کی بنا ڈالی جس کے مطابق سوا ئے ان کے سب بدعتی اور سارے بدعتی جہنمی تھے۔ ان کے نزدیک بد عت کی اپنی تعریف تھی کہ وہ یہ کہتے تھے۔ جو کوئی رسم یا چیز بھی حضور (ص) کے زمانے میں نہیں تھی اگر بعد میں جو کوئی یجاد کریگا تو وہ بھی بدعتی ہے کیونکہ عربی میں بد عت کے لغوی معنی یہ ہی ہیں؟ مگر اسلامی اصطلا ح میں یہ معنی کبھی نہیں رہے۔ بلکہ سوائے اس چھوٹے سے گروہ سب اس پر متفق ہیں کہ حضور (ص)کے مصدقہ اور مروجہ اسوہ حسنہ (ص) کے خلاف کوئی نئی بات ایجاد کی جا ئے تو وہ بد عت ہے۔اس کے ذریعہ ان کی کوشش یہ تھی کہ وہ تمام دوسرے فقوں کو ختم کر کے اپنے فقہ کو پو ری دنیا میں رواج دیں تو ان کی حیثیت مرکزی ہونے کی وجہ سے وہ پورے دنیا کے مسلمانوں کی قیادت سنبھال لیں گے اور اس طرح ان کی با دشاہی کو دوام حاصل ہو جا ئے گا۔ انہوں نے ہر جگہ پیسے خرچ کرکےاپنے مدرسے بنا ئے اور مساجد کے لیے قبضہ گروپ بنا یا ۔ لیکن وہ اپنے کر دار کو نہیں تبدیل کر سکے جو کہ ایک مسلمان خلیفہ راشد کا ہونا چاہیئے لہذا وہ ویسی قبولیت تو حاصل نہیں کر سکے جیسی اسلامی خلفاءکو حاصل تھی۔ مگر قدرت نے انہیں ایک اور موقعہ دیدیا کہ اسی دوران دنیاکی دو سپر پاور سرد جنگ سے ما ئل بہ گرمی تلوار ہو گئیں۔ اس قبیلہ نے اپنے تمام ماننے والے اداروں کو دوسری طاقت کے خلاف استعمال کیا اور دوسرے فریق کو افغانستان سے پسپا ہو نا پڑا حتٰی کہ وہ اپنی سپر پاور ہو نے کی پوزیش کو بھی پوری طرح نبھانے کےقابل نہیں رہا۔ اب کیا ہو رہا ہے۔ آپ خود سمجھ جا ئیے کہ اس سے سب واقف ہیں کہ تاریخ ہمیشہ اپنے آپ کو دہراتی ہے۔ شاید وہ خود کو دہرانے جا رہی آگے کیاہو گا یہ اللہ ہی جانتا ہے کیونکہ قر آن کی ایک آیت ہے کہ “تم دیکھتے نہیں کہ ہم دنیا کے حالات بدلتے رہتے ہیں ۔ ورنہ توز مین پر عبادت گاہیں بھی باقی نہ رہیں ؟

شمس جیلانی

SHARE

LEAVE A REPLY