مضر صحت دودھ پرسپریم کورٹ کا سخت ایکشن، پنجاب فوڈ اتھارٹی کی بندشیں کھول دیں، ڈی جی نورالامین کو پورے صوبے میں عدالتی نمائندے کے طور پر جانے اور دودھ کا ٹیسٹ کرانے کا حکم دیدیا، جسٹس ثاقب نثار نے کہاکہ دودھ کی خرابی کا معاملہ منطقی انجام تک پہنچائیں گے۔

نامزد چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثارپر مشتمل2 رکنی بنچ نے سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں از خود نوٹس کیس کی سماعت کی،درخواست گزار بیرسٹر ظفراللہ نے عدالت کو بتایا کہ پی سی ایس آئی آر لیبارٹری میں ثابت ہو چکا ہے کہ کھلے دودھ کے علاوہ ڈبہ بند دودھ میں ڈیٹرجنٹ پاوڈراور کیمیائی مادے ملائےجاتے ہیں ۔

سپریم کورٹ نےقراردیاہےکہ بچوں کو دودھ کےنام پرزہر پلانےکی اجازت نہیں دی جائے گی،دودھ کی خرابی کامعاملہ منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا ،اگر اپنےبچوں کو صحیح دودھ نہیں دے سکتےتو ہم کام نہیں کر سکتے،عدالت نے لوکل کمیشن تشکیل دیتے ہوئے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی۔

ڈی جی فوڈاتھارٹی پنجاب نورالامین مینگل نے عدالت کو بتایا کہ ناقص اورغیر معیاری دودھ بیچنے والی کمپنیوں کے خلاف قانون کے تحت نمٹا جا رہا ہے ، پانی کے300اور دودھ کے30نمونے لیبارٹری بھجوا ئے ہیں۔

اس پر عدالت نے ریمارکس دیئےکہ عدالت فوڈ اتھارٹی کی لیبارٹری سے آگاہ ہے، جہاں ترازو اور چند چیزوں کے سواکوئی معیاری مشین موجود نہیں، عدالت نے فوڈ اتھارٹی کی کارکردگی پرعدم اعتماد کا اظہار کیا۔

ججز نے ناقص دودھ فروخت کرنے والی کمپنیوں کے وکلاءسےمخاطب ہوئے کہا کہ زہریلا دودھ پلا کر شہریوں کو مارنے کی کوشش نہ کی جائے ،عدالت بچوں کو زہریلا دودھ پلانے کی اجازت نہیں دے گی۔

عدالت نے دودھ اور پانی کےنمونوں کی رپورٹ آئندہ سماعت پر پیش کرنے کا حکم دے دیااوردودھ فروخت کرنے والی کمپنیوں کا معیار جانچنے کے لئے لوکل کمیشن تشکیل دیتے ہوئے جامع رپورٹ طلب کر لی۔عدالت نے کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی

SHARE

LEAVE A REPLY