پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان نے پاناما اسکینڈل پر پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) سمیت دیگر اپوزیشن جماعتوں کے گرینڈ الائنس میں شمولیت کا عندیا دے دیا۔

بنی گالہ میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کا کہنا تھا کہ ‘اگر اپوزیشن جماعتیں اس مسئلے پر کوئی اتحاد قائم کرتی ہیں، تو ہم اس کیلئے تیار ہیں لیکن یہ عام انتخابات کیلئے نہیں ہے’۔

پی پی پی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کی وطن واپسی اور ان کے مستقل میں کردار پر کسی قسم کا تبصرہ کرنے سے گریز کرتے ہوئے عمران خان نے مستقبل میں پاناما اسکینڈل پر اپوزیشن کے کسی بھی اتحاد میں شامل ہونے کا اظہار کیا۔

آصف زرداری کی جانب سے قومی اسمبلی کیلئے ضمنی انتخابات میں شرکت اور حکومت کو ‘مشکل وقت’ دینے کے اعلان پر پوچھے گئے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ ‘جس طرح کرکٹ میں بیٹنگ کے دوران ہر گیند کھیلنے والی نہیں ہوتی میں بھی اس بال کو چھوڑ رہا ہوں’۔

عمران خان، جن کی جماعت نے 2008 کے عام انتخابات کا بائیکاٹ کیا تھا جس کے باعث پی پی پی نے مرکز میں اپنی حکومت قائم کرلی تھی، کا کہنا تھا کہ ‘میں دیکھنا چاہتا ہوں کی پی پی پی، مسلم لیگ نواز کی مخالفت کرے، 2008 اور 2013 کے درمیان دونوں جماعتوں نے مل کر حکومت کی اور اس وقت ملک میں کوئی اپوزیشن نہیں تھی’۔

انھوں نے کہا کہ ‘یہاں تک کے پاناما لیکس معاملے کے سامنے آنے سے قبل بھی دونوں جماعتیں ساتھ تھیں’۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ 2013 کے عام انتخابات سے اب تک پی پی پی سے کم نسشتیں ہونے کے باوجود پی ٹی آئی نے ملک میں اصل اپوزیشن کا کردار ادا کیا ہے۔

عمران خان نے کہا کہ پی پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور پی پی پی پنجاب نے درست اپوزیشن کا کردار ادا کرنے کی کوشش کی لیکن دیکھتے ہیں کہ زرداری کی واپسی کے بعد ان کی جماعت مخالفت میں اضافہ کرتی ہے یا اس میں کمی آتی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں پی ٹی آئی چیئرمین کا کہنا تھا کہ وہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ پی پی پی، وزیراعظم کو پارلیمنٹ میں کیسے جوابدہ بناتی ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY