الزائمر کی نئی امید افزا تھراپی

0
284

امریکی اور سوئس محققین نے الزائمر کے خلاف ایک نئی امید افزا تھراپی کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔

یہ تھراپی یادداشت کی کمزوری کے عمل کو سست بنانے اور اس بیماری کی ایک بنیادی وجہ کے خلاف جنگ میں مؤثر ثابت ہو گی۔
الزائمر کے 165 مریضوں کو اس مطالعاتی جائزے میں شامل کیا گیا۔ ان میں سے نصف کو پلاسیبو دیا گیا جبکہ نصف کو ماہانہ بنیادوں پر

Aducanumab

نامی اینٹی باڈی انجیکشن لگایا گیا۔ یہ اینٹی باڈی دراصل ’انسانی مونوکلونل اینٹی باڈی‘ ہے۔ اس اینٹی باڈی کو ایک سال تک الزائمر کے مریضوں میں ٹیکے کے ذریعے منتقل کیا گیا، جس کے کامیاب نتائج سامنے آئے۔

الزائمر دماغی مرض ہے جس کا مکمل اور موثر علاج اب تک سامنے نہیں آ سکا ہے
اس تحقیق پر کام کرنے والے امریکی اور سوئس ریسرچرز کے مطابق مریضوں کو لگائے جانے والے اس ٹیکے کے اثرات یہ مرتب ہوئے کہ الزائمر کے ان مریضوں میں ’ادراکی انحطاط‘ کی رفتار کافی کم ہو گئی اور یادداشت کو متاثر کرنے والے جرثومے بھی بہت حد تک پسپا ہو گئے۔
محققین نے اپنی اس تحقیق کے دوران کیے جانے والے مشاہدوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ

 اینٹی باڈی دماغ کے ایک خاص حصے کو اپنا ہدف بناتی ہے، جہاں موجود حل ہونے اور حل نہ ہونے والے دونوں طرح کے پروٹین کو اپنے ساتھ ملا لیتی ہے اور اس طرح ذہنی انحطاط کا عمل سست ہو جاتا ہے۔
الزائمر کی اس نئے طریقہ علاج کے موجد امریکا اور سوئٹزرلینڈ سے تعلق رکھنے والے محققین کی اس رسرچ کے نتائج حال ہی میں سائنس کے معروف جریدے’نیچر‘ میں شائع ہوئے ہیں۔

الزائمر انسانوں کو اندرونی طور پر ختم کر دیتا ہے اور اس کے شکار افراد تیزی سے موت کی طرف بڑھنے لگتے ہیں
جرمنی کے سینٹرآف نیورو ڈی جینیریٹیو ڈیزیزز سے منسلک دماغی عارضے الزائمر کے ایک ماہر ڈاکٹر کرسٹیان ہاس نے ماضی میں الزائمر کے علاج کے طریقوں کے سامنے آنے والے نتائج اور اس بار کی تحقیق کے نتائج کا موازنہ کرتے ہوئے کہا، ’’اسی نقطہ نگاہ اور اسی اینٹی باڈی کی مدد سے ماضی میں الزائمر کے مریضوں کے دماغ سے اس بیماری کا سبب بننے والے جراثیم کو ختم کرنے میں کامیابی حاصل ہوئی تھی تاہم محققین ان مریضوں کی یادداشت کی کمزوری کے عمل کو روکنے یا میموری یا قوت حافظہ کو مستحکم بنانے میں کامیاب نہیں ہو سکے تھے۔ اس اعتبار سے نئی ریسرچ کی کامیابی ایک اہم پیش رفت ہے‘‘۔
اس جرمن ماہر کا کہنا ہے کہ الزائمر کے مریضوں کے علاج کے عمل میں دماغ میں پائے جانے والے اُن جراثیموں کو، جو اس بیماری کا سبب بنتے ہیں، ختم کرنا ضروری نہیں بلکہ مریض کی میموری یا یادداشت کو مستحکم بنانا نہایت ضروری ہے۔
الزائمر ایک دماغی بیماری ہے جو زوال عقل کی ایک عام شکل ہے۔ حواس خمسہ کو متاثر کرنے والی یہ بیماری دماغی خلل کا مجموعہ ہے اور یہ مریض کو موت کے مُنہ میں دھکیل دینے کا سبب بھی بن سکتی ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY