کبھی ہم کبھی تم ، مال بیچ میں گم ۔۔۔ از ۔۔۔ شمس جیلانی

0
199

آپ نے دیکھا ہوگا کہ پہلے صرف بعض ڈرامے ہی ایک سے زیادہ ایکٹ کے ہوتے تھے۔ جب سے ہمارے ماہرین کھیل اور کود، برادرِبزرگ بھارت سےتربیت لیکر آئے ہمارے ہاں بھی پاپ اور پن کا ذکر اور پاپ ڈراموں کا دورشروع ہوگیا۔اب تو ایک ایک ڈرامہ کئی سو ایکٹ بلکہ ہزاروں اقساط پہ مشتمل بھی ہوتا ہے کہانی جب تک آگے بڑھتی رہتی ہے جب تک قبولیت نہیں کھوتی اور قبولیت کا معیار یہ ہے کہ جب تک لوگ ٹائٹل دیکھ کر ٹی وی بند کرنا نہ شروع کر دیں اسکی زندگی کوطول خود بخود ملتا رہتا۔ پہلے ایسی ہی ایک کہانی کتابی شکل میں تھی جس کی عوام میں دھوم تھی اور داستاان الف لیلا کہلاتی تھی۔ جسے لوگ دیکھ کر ہی کان بند کر لیتے کہتے تھے کہ کیا یہ الف لیلا بیٹھے ہو، ا ب ایسی اتنی داستانیں ہیں کہ“ ہو کیر“ ! لوگ موجودہ حا لا ت کے بارے میں پریشان ہیں کہ یہ کیا ہو رہا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ عوام کی یاداشت بہت کمزور ہے۔ انہیں کل تو بہت دور کی بات ہے ابھی کی بات بھی یاد نہیں رہتی۔ کہ ذہنوں پر اتنا دباؤ ہے کہ خدا کی پناہ؟ عوام ایک لا ئن سے فارغ ہوتے ہیں تو دوسری میں کھڑے ہو جاتے ہیں، پھر دوسری سے تیسری میں اور تیسری سے چوتھی میں حتیٰ کہ دن چھوٹا پڑا جاتا، لین دین کی کھڑکی کا شٹر گرجاتا ہے۔ البتہ جو با اثر ہیں۔ ان کے کاغذات کلرک گھر پہونچا آتا ہے۔ لوگ ہم سے پوچھتے ہیں یہ کیا ہورہا ہے۔جواب یہ ہے کہ یہ میثاق جمہوریت کے کرشمے ہیں۔ اس کی خوبی یہ ہے کہ اس میں جتنی شقیں لکھی ہوئی نہیں ہیں اسے دس گنا بغیر لکھی ہو ئی ہیں بس انہیں پر عمل ہو رہا۔ جس کی جناب زرداری اور نوز شریف صاحب نے N.R.O سے پہلےایک دوسرے کو یہ خوشخبری دی تھی کہ ہم اور آپ ہی نہیں بلکہ ہمارے بچے بھی ملکر حکو مت کریں گے لہذا وہ نہ صرف خود حکومت کر رہے بلکہ بچوں کو بھی تیار کر رہے ہیں ۔ یہ ایک پاپ ڈرامہ ہے جوکہ پچھلی دہائی سے جا ری ا ور کب تک رہیگا وہ اللہ ہی جانتا ہے۔

اس میں جو بھی رنگ میں بھنگ ڈالنے کی کو شش کریگا۔ اس کو آگے نہیں بڑھنے دیا جا ئے گا چاہے کچھ بھی پڑے ، تاکہ وہ تھک کر بھاگ جا ئے۔ بہت سے بھاگ بھی گئے جو بچے ہیں وہ بھی جلدی ہی بھاگ جا ئیں گے۔ آپ کچھ بھی کر لیں یہ کہانی آگے بڑھ کر نہیں دے گی۔ کیونکہ من حیثیت القوم ہم اس کے عادی ہیں کہ ہمارے حصہ کا کام بھی کوئی اور کردے؟ آپ نے دیکھا نہیں ہے جو بہت ہی سعادتمند اولاد ہوتی ہے وہ بجا ئے خود نمازجنازہ پڑھانے کہ جو کہ مستحب ہے ۔ مولوی صاحب سے پڑھواتی ہے کہ جو کام پیسوں سے ہوجائے تو خودآدمی کیوں کرے؟پھر چالیسویں کے بعد میں ہمیشہ کے لیے کوئی مولوی قبر پر فاتحہ خوانی کے لیے رکھ دیتے ہیں ۔ تاکہ یہ صدقہ جاریہ جاری رہے۔ اور دوسرے والدین خوش ہوکر تعریف کرتے رہتے ہیں کہ دیکھو کتنے سعادتمند بچے ہیں للہ ایسی اولاد سب کو دے۔اس سے دیکھنے والوں کو تحریص پیدا ہوتی ہے کہ وہ بھی وہی ذرائع اختیار کریں تاکہ ان کے بچے بھی ان کی قبر پر مولوی فاتح خونی کے لیے مولوی رکھدیں ۔ جبکہ یہ دولت عجب چیز ہے کہ جتنی آسانی سے حاصل ہوتی ہے اتنی آسانی سے خرچ ہوجا تی ہے۔اور جتنی مشکل سے جڑ تی ہے اتنی مشکل سے خرچ ہوتی ہے۔ ایسے میں کوئی ایک آدھ نیکوکار کبھی غلطی سے نکل آئے تو جلد ہی اپنی حرکتوں کی بنا پر نکا لا جا تا ہے۔

حضرات ہم نے یہ مضمون اپنے اڈے پر چڑھا تو دیا تھامگر پریشان تھے کہ اس پاپی مضمون کا اختتمام کیسے کریں اتنی عمر کہاں سے لائیں گے کہ اسے اڈے پہ سے اتار سکیں۔ اور فریقین نے کہیں تر دید کردی تو قسطیں اور بڑھ جائیں گی۔ مگر اللہ نے ہماری مشکل آسان کردی کہ جناب نواز شریف صاحب نے اس کی تصدیق کردی کہ ہم ابھی تک میثاق جمہوریت پر گامزن ہیں اور جو اس پر شک کرتا ہے وہ اپنا علاج کرا ئے؟ چونکہ انہوں نے دوسرے فریق کی طرح یہ نہیں کہا کہ عہد (میثاق ِجمہوریت جیسے) کوئی قرآن اور حدیث تھوڑی ہیں کہ اس کی پابندی کی جا ئے۔ نواز شریف صاحب نے اس کے بجا ئے اچھا مسلمان ہو نے کا ثبوت دیا کہ وہ اس پر قائم ہیں اور اس کو نباہ بھی رہی ہیں ۔ اور جو نہیں مانتے انہیں یہ بھی مشورہ دیا کہ وہ اپنا علاج کرائیں۔ یہ ان دونوں کا آپس کامعاملہ ہے ہم کون کے خوامخواہ؟ رہا علاج ان میں سے ایک فریق پہلے بھی اپنا نہ صرف علاج کراتا ہے۔ بلکہ میڈیکل سرٹیفکٹ بھی پیش کرتا رہا۔ اسے دوبارہ چیک اپ کرانے میں کوئی حرج بھی نہیں ہے۔ رہے ہم تو اس مضمون کو اڈے پر سے اتار رہیں تاکہ ہمارا اڈا خالی ہو اور آپ کو کسی اور موضوع پر مضامین مل سکیں اور آئندہ ایسے پاپ ڈراموں سے بچ کررہنگے کہ ہمارا اڈا کہیں پھر نہ پھنس جا ئے اور آپ سمجھیں کہ کمپیوٹر فریزڈ ہوگیا ہے۔ یا بڑے میں میاں سدھار گئے جو بہکی باتیں کرتے تھے ۔ اب آپ سوچیں گے کہ ہم اس پاپ اسٹوری سے کیسے جان چھڑائیں گے؟ تو وہ ہمارے لیے بڑا آسان ہے کہ ایسے مواقع پر دین کا سہارا لیتے ہیں۔ تو ہمارا اصول یہ ہے کہ جو کوئی اچھا کام کرے اس کی تعریف کریں اور غلط کرے تو اس کی مذمت کریں ۔ لہذا یہ بیان سننے کے بعد اب ہمیں یقین ہوگیا ہے کہ وہ اپنے وعدوں پر قائم رہنے والے ایک اچھے مسلمان ہیں۔باقی جو کچھ الزام ہیں وہ بہتان ہیں ۔ اور جو کہ ہمارے ہاں عام رواج ہے کہ بغیر تحقیق کے مخالفین لگاتے رہتے ہیں ۔ پھر ہمیں منع بھی کیا گیا ہے کہ توبہ کے بعد کسی تائب کے گناہ اسے نہ یاد دلا ئے جائیں ۔ ہماری اس حرکت سے حسد میں آکر آپ ہمیں لوٹا کہہ سکتے ہیں۔ مگر یہ عملی طور پر غلط ہے کہ اسم لوٹے سے جو تصور ذہن میں ابھرتا ہے وہ لوٹ پوٹ کا ہے۔ جبکہ لوٹا آسانی سے لڑکتا بھی نہیں ہے۔ لہذا ہم جیسے لوگوں کو بجا ئے لوٹے کہ بدھنا کہا جا ئے تو زیادہ مناسب ہو گا؟کہ جب چاہے جہاں چاہے اور جس طرف چاہے لڑسکتا ہے۔ دیکھئے چونکہ ہمیں حسن ظن رکھنے کا بھی حکم ہے۔ لہذا ہمیں آپ لاہور ماڈل ٹاؤن کا واقعہ یاد نہ دلا ئیں۔ ممکن ہے کہ جیسا وہ کہہ رہے ہیں ان کو خبر ہی نہ ہو اور غلطی سے کسی سپاہی کی انگلی رائفل کے ٹریگر پر پڑ گئی ہو۔

شمس جیلانی

SHARE

LEAVE A REPLY