چین نے ایک بار پھر کالعدم جیش محمد کے سربراہ مولانا مسعود اظہر کا نام اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی بلیک لسٹ میں شامل کرنے کی بھارتی درخواست کو ویٹو کردیا۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی ‘رائٹرز’ کے مطابق بھارت کی جانب سے جیش محمد اور مسعود اظہر پر جنوری مں پٹھان کوٹ ایئربیس حملے سمیت کئی حملوں کا ماسٹرمائنڈ ہونے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔

پاکستانی سیکیورٹی حکام نے پٹھان کوٹ حملے کے بعد مسعود اظہر اور ان کے ساتھیوں کے خلاف تحقیقات کی، لیکن ان کے خلاف حملے میں ملوث ہونے کے کوئی شواہد نہیں ملے۔

پندرہ ممالک کے ارکان پر مشتمل اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل جیش محمد کو پہلے ہی بلیک لسٹ کرچکی ہے، لیکن مسعود اظہر کا نام اس فہرست میں شامل نہیں کیا گیا۔

بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان وکاس سوارپ کا کہنا تھا کہ بھارت کی جانب سے مسعود اظہر کا نام اس لسٹ میں شامل کرنے کی درخواست 9 ماہ قبل کی گئی تھی، جس پر اسے سلامتی کونسل کے دیگر تمام ممبران کی بھرپور حمایت بھی حاصل تھی

انہوں نے کہا کہ ‘ہمیں چین سے توقع تھی کہ وہ تمام ممالک کو لاحق دہشت گردی کے خطرات کو اچھی طرح سمجھے گا۔’

ان کا کہنا تھا کہ ‘درخواست کی منظوری کے لیے عالمی برادری کی نااہلی ظاہر کرتی ہے کہ اس کا دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دوہرا معیار ہے۔’

چین کی وزارت خارجہ نے درخواست ویٹو کیے جانے کے حوالے سے فوری طور پر کوئی رابطہ نہیں کیا۔

بھارت طویل عرصے سے اپنے حریف پاکستان پر جیش محمد کو متنازع کشمیر سمیت بھارتی سرزمین پر حملوں کے لیے پراکسی کے طور پر استعمال کرنے کا الزام عائد کرتا رہا ہے۔

بھارت کے مطابق اس نے جیش محمد کے خلاف پاکستان کو ‘قابل کارروائی انٹیلی جنس’ بھی فراہم تھی۔

پاکستان کی جانب سے جیش محمد کی کسی بھی طرح کی مالی مدد کی نفی کی جاتی ہے۔

اگر سلامتی کونسل میں مسعود اظہر کو بلیک لسٹ کردیا جاتا تو ان کے بیرون ملک سفر کرنے پر پابندی عائد اور اثاثے منجمد کردیئے جاتے۔

یاد رہے کہ اکتوبر میں بھی چین نے اقوام متحدہ میں بھارت کی جانب سے کالعدم جیش محمد کے سربراہ مسعود اظہر کو دہشت گرد قرار دینے کی درخواست پر ایک بار پھر ویٹو کا حق استعمال کرتے ہوئے اپنے اعتراض میں مزید 6 ماہ کی توسیع کردی تھی۔

چین نے اس سے قبل اپریل میں بھی بھارت کی درخواست پر ’تکنیکی اعتراض‘ اٹھاتے ہوئے اقوام متحدہ سے درخواست کی تھی کہ وہ فی الحال اس پر عمل درآمد نہ کرے۔

SHARE

LEAVE A REPLY