کیپٹن کرنل شیر خان (نشانِ حیدر) کی پیدائش

٭ 7 / جولائی 1999ء کو معرکہ کارگل کے عظیم ہیرو، پاکستان کے نامور سپوت اور سندھ رجمنٹ کی جانب سے پہلا نشان حیدر حاصل کرنے کا اعزاز حاصل کرنے والے کیپٹن کرنل شیر خان نے جام شہادت نوش کیا۔
وہ یکم جنوری 1970ء کو ضلع صوابی کے مشہور گائوں نواں کلی میں پیدا ہوئے تھے۔ آپ نے اپنے گائوں سے میٹرک کرنے کے بعد گورنمنٹ کالج صوابی سے ایف ایس سی کا امتحان پاس کیا۔ 1987ء میں پاک فضائیہ میں ائیرمین کی حیثیت سے بھرتی ہوئے۔ ٹریننگ کے بعد بطور الیکٹرک فٹر/ایرو ناٹیکل انجینئر رسالپور میں تعینات ہوئے۔ دو سال تک ائیر فورس میں اپنے فرائض انجام دیتے رہے۔ بعد ازاں انہوں نے پاکستان آرمی میں کمیشنڈ آفیسر کے لیے کوشش کی، پہلی بار ناکام ہو گئے لیکن دوسری مرتبہ کامیاب ہو گئے۔ اس طرح انہوں نے نومبر 1992ء میں پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول کو جوائن کیا اور 1994ء میں گریجویٹ لانگ کورس مکمل کیا۔ 1995ء میں سندھ رجمنٹ میں شمولیت اختیار کی۔ 1998ء میں آپ کی منگنی ہوئی۔ 1999ء میں شادی کی تیاریاں زور و شور سے جاری تھیں کہ آپ کو 18400 فٹ بلند کارگل کے بلند محاذ پر دفاع کا کام سونپا گیا۔ 28 جون 1999ء کو بھارتی افواج نے دراس کے علاقے پر شدید ترین حملہ کیا۔ میجر عاصم کی قیادت میں صرف 24 پاکستانی فوجیوں نے دشمن کے خلاف زبردست مزاحمت کی۔ کیپٹن کرنل شیر خان میجر عاصم کے معاون تھے۔ دشمن کے دبائو کے پیش نظر مزید سترہ پاکستانی فوجی بھیجے گئے اور پھر کل 41 فوجیوں کی قیادت کیپٹن کرنل شیر خان نے کی اور بھارتی فوج کو زبردست جانی نقصان اٹھاکر پسپا ہونا پڑا۔ غازی میجر عاصم نے خود 300 بھارتی فوجیوں کی لاشیں گنیں پاکستانی افواج کی اس معرکہ آرا کامیابی میں کیپٹن کرنل شیر خان سمیت 9 پاکستانی فوجیوں نے جام شہادت نوش کیا۔ واضح رہے کہ آپ کا نام آپ کے دادا خان غالب نے ’’کرنل شیر‘‘ رکھا تھا جبکہ فوج میں آپ کا عہدہ کیپٹن کا تھا یوں آپ ’’کیپٹن کرنل شیر خان‘‘ کے نام سے مشہور ہوئے۔13 / اگست 1999ء کو حکومت پاکستان نے آپ کے اس عظیم کارنامے پر پاکستان کا اعلیٰ ترین فوجی اعزاز ’’نشان حیدر‘‘ عطا کیا۔
———————–

محمد رفیق تارڑ صدرِ پاکستان کے عہدہ پر فائز ہوئے

محمد رفیق تارڑ ضلع گوجرانوالہ2 / نومبر 1929ء کو میں پیر کوٹ کے مقام پر پیدا ہوئے۔ اسلامیہ کالج گوجرانوالہ سے گریجویشن کرنے کے بعد1951ء میں یونیورسٹی لاء کالج لاہور سے ایل ایل بی کی سند حاصل کی۔ 1955ء میں لاہورہائیکورٹ میں بطور ایڈووکیٹ پریکٹس شروع کی اور 1966ء میں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اور سیشن جج بنائے گئے۔ 1971ء میں پنجاب لیبر کورٹ، لاہور کے چیئرمین بنے۔ 1974ء میں لاہور ہائی کورٹ بنچ میں شامل ہوئے اور 1980ء میں الیکشن کمیشن کے رکن بنے۔ 1989ء میں لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس بنے۔ بعد ازاں سپریم کورٹ کے سینئر ایسوسی ایٹ جج کے عہدے پر فائز ہوئے ۔ مارچ 1997ء میں سینٹ آف پاکستان کے رکن بنے ۔دسمبر 1997ء میں فاروق لغاری کے استعفے کے بعد پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں محمد نواز شریف نے انہیں صدر پاکستان کے عہدے کے لیے نامزد کیا۔ یوں وہ بھاری اکثریت سے پاکستان کے صدر منتخب ہوگئے۔ یکم جنوری 1998ء کو انہوں نے اپنے عہدے کا حلف اٹھایا اور وہ 20 / جون 2001ء تک اس عہدے پر فائز رہے
————————

فضل الٰہی چوہدری کی پیدائش

فضل الٰہی چوہدری یکم جنوری 1904ء کو مرالہ تحصیل کھاریاں ضلع گجرات میں پیدا ہوئے تھے۔ وہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے فارغ التحصیل تھے۔ تحریک پاکستان میں انہوں نے مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے حصہ لیا اور 1946ء میں پنجاب اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ قیام پاکستان کے بعد وہ پنجاب کے وزیر تعلیم اور وزیر صحت رہے۔ 1956ء میں وہ مغربی پاکستان اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور اس اسمبلی کے اسپیکر رہے۔
وہ 1962ء اور 1965ء میں قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور 1965ء سے 1969ء تک قومی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر رہے۔
1970ء میں وہ پاکستان پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر تیسری مرتبہ قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور پہلے قومی اسمبلی کے اسپیکر اور پھر صدر پاکستان کے منصب پر منتخب ہوئے۔ اس آخری عہدے پر وہ 16 ستمبر 1978ء تک فرائض انجام دیتے رہے۔ وہ ایک طویل عرصے تک مسلم لیگ سے وابستہ رہے اور 1967ء میں پاکستان پیپلز پارٹی میں شامل ہوئے۔ 1970ء کے عام انتخابات میں وہ پاکستان پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کے رکن اور 1972ء میں عبوری آئین کے نفاذ کے بعد اس اسمبلی کے اسپیکر منتخب ہوئے۔ وہ 7 اگست 1973ء تک اس عہدے پر فائز رہے۔
وہ 10 / اگست 1973 ء کو پاکستان کے پہلے صدر منتخب ہوئے ان کا مقابلہ نیشنل عوامی پارٹی کے امیدوار امیر زادہ خان سے تھا جنہیں ان کے 139 ووٹوں کے مقابلے میں صرف 45 ووٹ ملے۔۔ وہ پاکستان کے پہلے صدر تھے جن کا انتخاب 1973ء کے دستور کے تحت پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے ارکان نے کیا تھا۔
فضل الٰہی چوہدری 16 / ستمبر 1978ء تک اس عہدے پر فائز رہے۔ یکم جون 1982ء کو ان کا انتقال ہوگیا۔ وہ مرالہ گوجرہ‘ تحصیل کھاریاں ضلع گجرات میں آسودہ خاک ہیں۔
———————–

سید ضمیرجعفری کی پیدائش

٭ اردو کے نامور شاعر، ادیب اور مترجم سید ضمیر جعفری یکم جنوری 1914ء کو چک عبدالخالق ضلع جہلم میں پیدا ہوئے تھے۔
سید ضمیر جعفری کا اصل نام سید ضمیر حسین تھا۔ انہوں نے گورنمنٹ ہائی اسکول جہلم اور اسلامیہ کالج لاہور سے تعلیمی مدارج طے کرنے کے بعد صحافت کے شعبے سے عملی زندگی کا آغاز کیا۔ بعدازاں وہ فوج میں شامل ہوئے اور میجر کے عہدے تک پہنچ کر ریٹائر ہوئے۔
سید ضمیر جعفری اردو کے اہم مزاح گو شعرا میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کے شعری مجموعوں میں کارزار، لہوترنگ، مافی الضمیر، مسدس بے حالی، کھلیان، ضمیریات، قریۂ جان، ضمیر ظرافت اور نشاط تماشا کے نام سرفہرست ہیں۔ اس کے علاوہ ان کی کئی نثری کتب بھی اشاعت پذیر ہوچکی ہیں۔ حکومت پاکستان نے انہیں 1984ء میں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا تھا۔
سید ضمیر جعفری 12 / مئی 1999ء کونیویارک میں وفات پاگئے اورکھنیارہ شریف، بچہ مندرہ ضلع راولپنڈی میں سید محمد شاہ بخاری کے پہلو میں آسودۂ خاک ہوئے۔
————————

حنیف رامے کی وفات

٭ پاکستان کے نامور ادیب، شاعر، مصور، خطاط، دانشور اور سیاستدان حنیف رامے کی تاریخ پیدائش 15 / مارچ 1930ء ہے۔
حنیف رامے تحصیل ننکانہ صاحب ضلع شیخوپورہ میں پیدا ہوئے تھے۔ گورنمنٹ کالج لاہور سے ماسٹرز کرنے کے بعد وہ اپنے خاندانی کاروبار نشر و اشاعت سے منسلک ہوگئے، اسی دوران انہوں نے اپنی مصوری کا بھی آغاز کیا اور اردو کے مشہور جریدے سویرا کی ادارت کے فرائض سنبھالے۔ بعدازاں انہوں نے ایک سیاسی اور ادبی جریدہ نصرت جاری کیا۔1960ء میں انہوں نے پاکستان مسلم لیگ سے اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز کیا۔1967ء میں جب ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان پیپلزپارٹی قائم کی تو وہ نہ صرف اس کے بنیادی ارکان میں شامل ہوئے بلکہ انہوں نے اس پارٹی کے منشور اور پروگرام کی تیاری اور ترویج میں بھی بڑا فعال کردار ادا کیا اوراپنے جریدے نصرت کو سیاسی ہفت روزہ میں تبدیل کرکے اسے پارٹی کا ترجمان بنادیا۔ جولائی 1970ء میں انہوں نے روزنامہ مساوات جاری کیا۔ ان انتخابات میں حنیف رامے بھی پاکستان پیپلزپارٹی کے ٹکٹ پر لاہور سے پنجاب اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ 1972ء میں وہ پنجاب کے وزیر خزانہ کے عہدے پر فائز ہوئے اور 1974ء میں وہ پنجاب کے وزیراعلیٰ بنے۔ 1976ء میں وہ بعض اختلافات کی وجہ سے پاکستان پیپلزپارٹی چھوڑ کر مسلم لیگ (پگاڑا گروپ) میں شامل ہوگئے۔ 1977ء میں انہوں نے اپنی سیاسی جماعت مساوات پارٹی کے نام سے تشکیل دی۔ 1988ء میں وہ دوبارہ پیپلزپارٹی میں شامل ہوئے اور 1993ء میں پنجاب اسمبلی کے اسپیکر کے منصب پر فائز ہوئے۔
اس دوران حنیف رامے کے تخلیقی کاموں کا سلسلہ بھی جاری رہا۔انہوں نے کئی کتابیں تحریر کیں جن میں پنجاب کا مقدمہ، اسلام کی روحانی قدریں: موت نہیں زندگی اور نظموں کا مجموعہ دن کا پھول کے نام سرفہرست ہیں۔ وہ ایک اچھے مصور ہونے کے ساتھ ساتھ مصورانہ خطاطی کے ایک نئے دبستان کے بانی بھی تسلیم کئے جاتے ہیں۔
یکم جنوری 2006ء کو حنیف رامے لاہور میں وفات پاگئے اور لاہور ہی میں قبرستان ڈیفنس میں آسودۂ خاک ہوئے

وقار زیدی ۔ کراچی

SHARE

LEAVE A REPLY