عالمی سلامتی کونسل نے شام میں ترکی اور روس کی مساعی سے فائربندی کے معاہدے کی حمایت کی ہے اور متحارب فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ فائر بندی معاہدے پر عمل درآمد یقینی بنائیں۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سلامتی کونسل کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ کونسل نے اپنے بند کمرہ اجلاس کے دوران روس اور ترکی کی مساعی سے شام میں فائر بندی معاہدے کی حمایت کی ہے۔ سلامتی کونسل انقرہ اور ماسکو کی کوششوں سے شام میں جنگ بندی معاہدے کو ملک میں کئی سال سے جاری خون خرابے کی روک تھام کے حوالےسے انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیتی ہے۔ شام میں حالیہ جنگ بندی معاہدے کے نتیجے میں ملک میں جاری سیاسی تنازع کے حل میں بھی پیش رفت کی راہ ہموار ہوئی ہے۔
سلامتی کونسل میں شام میں قیام امن کے حوالے سے پیش کی گئی قرارداد پر ’پرچم اٹھانے‘ پر ہی اکتفاء کیا کیا گیا ہے۔ یہ قرارداد 29 دسمبر 2016ء کو پیش کی گئی تھی۔ سلامتی کونسل نے شام مین امن وامان کے قیام کے لیے پہلے سے منظور کردہ قراردادوں پرعمل درآمد یقینی بنانے پر بھی زور دیا گیا۔
سلامتی کونسل نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ شام میں جنگ بندی معاہدہ رواں ماہ کزاکستان کے دارالحکومت آستانہ میں ہونے والے اجلاس کی تیاری کی جانب اہم قدم ہے اور اگلے مرحلے میں آٹھ فروری 2017ء کو اقوام متحدہ کی زیرنگرانی ہونے والے مذاکرات کے لیے بھی اہمیت کا حامل ہے۔
سلامتی کونسل نے شام میں جنگ سے متاثرہ علاقوں تک امداد کی فوری رسائی کو یقینی بنانے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔
درایں اثناء امریکا، فرانس اور برطانیہ نے روس اور ترکی کے مابین شام میں جنگ بندی معاہدے کی تفصیلات فراہم نہ کرنے بالخصوص جنگ معاہدے کا حصہ بننے والے شامی اپوزیشن کے گروپوں کی فہرست ظاہر نہ کرنے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔
اقوام متحدہ کے فرانس کے قائم مقام سفیر الکسی لامیک نے کہا کہ سلاتمی کونسل میں ترکی اور روس کے اشتراک سے شام میں جنگ بندی کا جو معاہدہ پیش کیا گیا ہے اس کی تفصیلات مبہم ہیں۔
تینوں مغربی ملکوں نے شام میں اسدی فوج کی جانب سے شہریوں پر مسلسل بمباری جاری رکھنے کی مذمت کی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ شام میں جنگ بندی معاہدے کے باوجود اسدی فوج نے دمشق کے قریب وادی بردی میں نہتے شہریوں پر گولہ باری کی ہے۔
خیال رہے کہ ترکی اور روس کی وساطت سے سلامتی کونسل میں شام میں جنگ بندی معاہدے ابتدائی تفصیلات میں معاہدے پر فوری عمل درآمد کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
ایک مغربی سفارت کار کا کہنا ہے کہ روس نے شام کے لیے تیار کردہ فائر بندی معاہدے کے کئی نکات میں ترامیم قبول کی ہیں۔ اقوام متحدہ بھی آستانہ میں ہونے والے مذاکرات کو سیاسی مفاہمت کے حوالے سے اہم ترین مرحلہ قرار دیتی ہے۔
نیوزی لینڈ کے سفیر جیرار فان بوھیمن نے گذشتہ روز صحافیوں کو بتایا کہ جب تک روس اور ترکی کی طرف سے شام کے لیے تیار کردہ معاہدے کی تفصیلات سامنے نہیں آجاتیں اور اس معاہدے کے نتائج کو نہیں سمجھا جاتا اس وقت تک نیوزی لینڈ فائر بندی معاہدے کی کھل کر حمایت نہیں کرسکتا۔

SHARE

LEAVE A REPLY