سعودی عرب کی وزارت داخلہ نے قطیف میں ایک عدالت کے جج شیخ محمد الجیرانی کے اغوا کے الزام میں تین مشتبہ افراد کی گرفتاری کا اعلان کیا ہے۔
وزارت داخلہ نے اتوار کے روز جاری کردہ ایک بیان کہا ہے کہ تحقیقات سے ان تینوں مشتبہ ملزموں کے جرم سے براہ راست تعلق کا پتا چلا ہے۔بیان میں اغوا کاروں کو خبردار کیا گیا ہے کہ وہ جج کو کسی قسم کے نقصان پہنچانے سے گریز کریں اور انھیں غیرمشروط اور فوری طور پر رہا کردیں۔
وزارت داخلہ کے ترجمان میجر جنرل منصور الترکی نے الریاض میں ایک کانفرنس کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ تینوں گرفتار افراد کا داعش سے کوئی تعلق ہے اور نہ ان کے بیرون ملک کوئی روابط تھے۔
سعودی حکومت نے جج کی بازیابی میں معاون اطلاع فراہم کرنے والے شخص کو دس لاکھ ریال انعام کے طور پر دینے کا اعلان کررکھا ہے۔اگر اس اطلاع کی بنیاد پر واقعے میں ملوّث کسی مشتبہ ملزم کی گرفتاری عمل میں آتی ہے تو یہ انعامی رقم بڑھا کر پچاس لاکھ ریال تک کی جاسکتی ہے اور اگر اس اطلاع کی بنیاد پر دہشت گردی کی کسی کارروائی کو ناکام بنایا جاتا ہے تو ستر لاکھ ریال انعام کے طور پر دیے جائیں گے۔
یادرہے کہ سعودی عرب کے مشرقی علاقے قطیف میں نامعلوم مسلح افراد کے ایک گینگ نے وقف عدالت کے شیعہ جج شیخ محمد الجیرانی کو گذشتہ ماہ اغوا کر لیا تھا۔انھیں نامعلوم مسلح افراد جزیرے طاروت میں واقع ان کے گھر کے باہر سے زبردستی اٹھا لے گئے تھے۔
سعودی عرب کے وزیر عدل اور سپریم جوڈیشیل کونسل کے سربراہ ولید بن محمد السمعانی نے قطیف میں شیخ محمد الجیرانی کے اغوا پر گہری تشویش کا اظہار کیا تھا۔انھوں نے ان کے تحفظ کے حوالے سے بھی تشویش ظاہر کی تھا۔
پولیس نے اس کے بعد اغواکاروں کی تلاش اور شیخ جیرانی کی بہ حفاظت بازیابی کے لیے ایک بڑی کارروائی شروع کردی تھی۔جیرانی ایک محب وطن شیعہ عالم ہیں اور وہ سعودی عرب میں ایران کے دہشت گرد گروپوں کے مخالف رہے ہیں۔

SHARE

LEAVE A REPLY