بھارتی سپریم کورٹ نے سیاست دانوں کو مذہب، ذات پات، عقائد، برادری اور زبان کے نام پر ووٹ مانگنے سے روک دیا۔

ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ کا یہ اہم فیصلہ بھارت کی 5 ریاستوں میں انتخابات سے قبل سامنے آیا۔

بھارتی سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ’اس طرح سے ووٹ حاصل کرنے کو بدعنوانی پر مبنی اور ناجائز سمجھا جائے گا۔‘

عدالتی بینچ کا کہنا تھا کہ ’انتخابات ایک ایسا عمل ہے جس کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں، جبکہ لوگوں کا اپنے رب سے تعلق ایک انفرادی انتخاب ہے، اس لیے ریاست کو منع کیا جاتا ہے کہ وہ لوگوں کے اس معاملے میں مداخلت نہ کرے۔‘

یہ بھی پڑھیں: ہندوستان: ’بیک وقت تین طلاقیں خواتین کے حقوق کے خلاف‘
سپریم کورٹ کے 7 رکنی بینچ نے یہ فیصلہ ہندوتوا کیس میں مختلف درخواست گزاروں کے دلائل سننے کے بعد سنایا۔

بھارتی عدالت عظمیٰ نے مذہب اور ذات پات کے نام پر ووٹ مانگنے کے سیاسی بھونچال لانے والے اس سوال کو 1990 میں درخواست دائر ہونے کے بعد اٹھایا تھا۔

چیف جسٹس ٹی ایس ٹھاکر کی سربراہی میں بھارتی سپریم کورٹ کے 7 رکنی بینچ کے 4 ججز نے فیصلے سے اتفاق جبکہ 3 ججز نے اختلاف کیا۔

ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق جن ججز نے فیصلے سے اختلاف کیا ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کے کسی فیصلے سے ملک میں جمہوریت کی جڑیں کمزور ہوں گی۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ جن 5 ریاستوں میں پانچ ماہ بعد اسمبلی انتخابات ہونے جارہے ہیں وہاں عقائد اور ذات پات کا بڑا عمل دخل پایا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: دہلی عدالت نے رام – لیلا کی نمائش روک دی
واضح رہے کہ تقریباً 20 سال قبل بھارت کی ایک عدالت نے ہندوازم کو ’زندگی گزارنے کا طریقہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ انتخابات کے دوران امیدوار مذہب کی بنیاد پر ووٹ مانگ سکتا ہے۔

تاہم عدالت کے اس فیصلے کے خلاف کئی درخواستیں دائر کی گئیں، جن میں فیصلے کو چیلنج کیا گیا تھا۔

SHARE

LEAVE A REPLY