حلب کے معصوم دہشت گرد۔محمد عرفان فانی

0
121

سنا ہے حلب کے بچے اب اماں اور ابا کی قبروں پہ جاکر سوتے ہیں———- اماں کی قبر پہ سر رکھ کر فریاد کرتے ہیں اماں مجھے نیند نہیں آرہی لوری سنا دو——— میرے کپڑے گرد و غبار سے آلوہ ہیں انکو دھو کر دے دو——— میرے جسم سے خون بہے رہا ہے زخموں پہ پٹی باندھو
‏::
ابا سے فریاد کرتے ہیں——– ابا بھوک لگی ہے کھانا لاکر دے دو——— کپڑے پھٹ گے ہیں نئے کپڑے پہنا دو——– کھیلونے ملبے کے نیچے گم ھو گے ہیں لاکر دے دو———- در بدر پھٹکتے پھر رہے ہیں ہمیں آسرا دے دو——- دیکھو نا ابا حالت کیا ھو گی ہے
‏::
جہاں دیکھتے ہیں لاشیں بکھری پڑھی نظر آتی ہیں————- لوگ خون میں تڑپتے نظر آرہے ہیں——– اماں تماری خون آلودہ چادر کہیں کھو گی ہے——– تماری خون سے تر کپڑے ملبے میں گم ھو گے ہیں——- کہیں گھر نہیں مل رہا——– سب کچھ کھو گیا ہے
‏::
اماں توں نے کہا تھا چاند ہے بیٹا میرا————- ماں کیا چاند کی آنکھیں بھی آندھی ھو جاتی ہیں————– ماں کیا چاند کے چہرے سے بھی خون بہتا ہے
‏::
بولو نہ ماں——— کیا چاند بھی رویا کرتا ہے——— تڑپا کرتا ہے——— ایڑیاں رگڑ رگڑ کر گریہ و زاری کرتا ہے———- ماں کیا چاند پہ بھی بارود برسا کرتے ہیں——— ماں یہ دیکھو میرا خون کتنا بہے رہا ہے——— میرے جسم میں کتنے زخم آئے ہیں———– ماں چاند کے ساتھ کیا ایسے ہی ھوتا ہے………….؟؟؟؟
اب سے میں ابا اور آپکے درمیان سویا کروں گا بلکل اسیطرح جسطرح بیڈ پہ ایک طرف آپ سوتی تھی دوسری طرف ابا اور درمیان میں میں سوتا تھا——– اماں مجھے لوری سنا دو میں سو جاوں——- بہت نیند آئی ہے——– اماں مجھے بارود کی آوازوں سے ڈر لگتا ہے مجھے اپنی چھاتی سے لگا کر سلا دو_

حلب کے ہزاروں بچوں کے قتل میں سعودیہ،ایران اور بشارالاسد برابر کے مجرم ہیں۔آج کوی ایک ایسا اسلامی ملک نہیں تو بدامنی کا شکار نہ ہو۔۔۔۔۔کسی جگہ آپ کو ایران نواز اور کسی بدامنی کے پیچھے آپ کو سعودیہ نواز دہشت گرد نظر آیٔیں گے۔ان دونوں ملکوں نے آپنے مفادات کی جنگ میں دوسرے پرامن اسلامی ممالک کو خانہ جنگی کی طرف دھکیل دیا ہے۔میں ماضی میں کیوں جاؤں آج ہمارے سامنے یمن،شام کا امن تباہ ہوا اور ان دونوں ممالک میں کہی آپ کو سعودی نواز اور کہی آپ کو ایران نواز نظر آیٔیں گے جنہوں نے انقلاب ،جہاد اور خلافت کا نام لے کر پرامن ملک کو خانہ جنگی کی طرف دھکیل دیا۔۔۔۔۔
یہ کہانی حلب کے بچوں کی ہی نہیں بلکہ اس طرح کی ہزاروں داستانیں آپ کو افغانستان،عراق،یمن،لببان اور فلسطین میں نظر آیٔیں گی۔اس وقت امت کو ایسی قیادت کی ضرورت ہے جو شیعہ سنی کی سوچ سے نکل کر ایک امت بن کر سوچھے۔۔۔دعا ہے اللہ تعالی سے امت محمدی کو ایسی قیادت نصیب فرمایٔیں۔ اپنی دعاؤں میں مجھے ضرور یاد رکھیے گا۔

محمد عرفان فانی

SHARE

LEAVE A REPLY