جستجو بے ثمر فسانہ ہے
زندہ رہنا تو اک بہانہ ہے

میرے اندر خود ایک دنیا ہے
مجھکو کب خواہش زمانہ ہے

جل کے جو راکھ ہو چکا ہوں میں
یہ محبت کا شاخسانہ ہے

عزت افزائی کا شکر گزار ہوں
پانچ شعر پورے کر لیتے ہیں

سوچتا ہوں کہ اس زمانے نے
اور کیا اب مجھے دکھانا ہے

اسکو پرواہ کہاں ہے میری زبیر
اس نے بس مجھکو آزمانا ہے

زبیر منور۔ اسلام آباد

SHARE

LEAVE A REPLY