اقوام متحدہ میں شام کے دارالحکومت دمشق میں اسد رجیم اور انقلابیوں کے درمیان جاری لڑائی کے دوران لاکھوں شہریوں کو پانی سے محروم کرنے کے اقدام کو’جنگی جرم‘ قرار دیا ہے۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ اسد رجیم کی انتقامی پالیسی اور خانہ جنگی کے نتیجے میں 55 لاکھ افراد پانی کی نعمت سےمحروم ہو رہے ہیں۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق شام میں انسانی حقوق کی صورت حال پرنظر رکھنے کے لیےقائم کردہ ’یو این‘ ایکشن گروپ کے چیئرمین یان ایگلاند نے جنیوا میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ فی الحال یہ سمجھنا مشکل ہےکہ دمشق میں پانی کس نے بند کیا ہے مگر پانی کی بندش نے 55 لاکھ افراد کو زندگی کی بنیادی ضرورت سےمحروم کر دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ صرف دمشق میں ساڑھے پانچ ملین افراد پانی سے محروم ہوئے ہیں یا انہیں انتہائی محدود مقدار میں وادی بردی کی طرف سے پانی مہیا جا رہا ہے۔ مگر وادی بردی میں پانی کے تمام ذخائر تخریب کاری اور خانہ جنگی کے نتیجے میں ناقابل استعمال ہو چکے ہیں۔
اقوام متحدہ کے عہدیدار کا کہنا تھا کہ 22 دسمبر سے دمشق میں جاری پانی کے بحران سے دارالحکومت دمشق اور مضافات میں 40 لاکھ افراد پانی سے محروم ہو چکے ہیں۔
مسٹر ایگلانڈ کا کہنا ہے کہ ہم دمشق میں پانی کے تعطل کی عالمی سطح پر تحقیقات کے خواہاں ہیں مگر اس سے بھی پہلے دمشق کے متاثرین کو پانی کی فراہمی ناگزیر ہے۔
ایک سوال کے جواب میں ایلان ایگلاند نے پانی کے وسائل کو تخریب کاری سے تباہ کرنا اور شہریوں کو پانی کی نعمت سے محروم کرنا جنگی جرم ہے۔ اگر شہریوں کو پانی میسر نہیں آئے گا تو وہ خطرناک نوعیت کے امراض کا شکار ہو سکتے ہیں اور اس کی ذمہ دار اس گروپ پرعاید ہو گی جو پانی بند کرنے میں قصور وار ٹھہرے گا۔
خیال رہے کہ دمشق کو پانی کی زیادہ تر سپلائی نواحی علاقے وادی بردی سے ہوتی ہے۔ دمشق سے 15 کلومیٹر کی مسافت پر واقع یہ علاقہ شامی اپوزیشن کے کنٹرول میں ہے۔ مشق حکومت نے الزام عاید کیا ہے کہ اپوزیشن نے پانی کے وسائل میں ڈیزل ملا کر اسے آلودہ کر دیا ہے۔ جب کہ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ انہوں نے پانی آلودہ کیا اور نہ ہی دمشق کو پانی سپلائی بند کی ہے۔ شامی فوج کے جنگی طیاروں نے بمباری کرکے پانی کے تمام ذخائر تباہ کر دیے ہیں۔
درایں اثناء ایک دوسری پیش رفت میں اقوام متحدہ کے امن مندوب اسٹیفن دی میستورا نے روس اور ترکی کی کوششوں سے آستانہ میں ہونے والے مذاکرات کا خیر مقدم کیا ہے۔ انہوں نے شام کے تمام متحارب فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ آستانہ مذاکرات کامیاب بنانے کے لیے موثر اقدامات کریں۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ شام میں خانہ جنگی روکنے کی کوششوں کا خیر مقدم کرتے ہیں، توقع ہے کہ یہ کوششیں آئندہ ماہ جنیوا میں ہونے والے شام امن مذاکرات کو نتیجہ خیز بنانے میں مدد فراہم کریں گی۔

SHARE

LEAVE A REPLY