معصوم طیبہ کے ساتھ انصاف ہوا؟؟ فرخندہ رضوی

0
374

طیبہ اغوا ہو گئی ۔۔۔۔مگر کیسے؟

آج ایک بار پھر کسی ٹیلوثزن پر خبر چل رہی تھی ،میں چونک سی اُٹھی ابھی تو کل ہی خبر پتہ چلی کے پیسے لے کراور بچی کے بیانات پرکیس ختم کر دیا گیا ہے ۔۔ خبر کچھ یوں ہے ایک بچی جس کا نام طیبہ عمر دس سال ایڈیشنل جج خرم علی کے گھر ملازم تھی ،اس کی تصویر ظُلم کا منہ بولتا ثبوت ۔اُس کے منہ اور آنکھوں پر مار کے نشان اور جھلسے ہوئے ہاتھ ظُلم و جبر کی انتہا کی گئی تھی ،جب یہ خبر میڈیا میں سراہت کرنے لگی تو نوٹس لیاگیا بھلا ہو میڈیا والوں کا ان کے شور مچانے پر یہ بات جنگل کی ٓگ کی طرح پھیل گئی ۔بچی نے بیان دیا کہ معمولی معمولی غلطیوں پر بیگم صاحبہ یعنی جج صاحب کی اہلیہ عرف مانو باجی اکثر مارپیٹاکرتی تھیں ۔اَب کی بار تو انتہا ہی کر ڈالی ۔ایک جھاڑوں گم ہونے پر چولہا جلایا اور بچی کے ہاتھ اُس پر رکھ دئیے ۔

معاملہ کیونکہ میڈیا میں آچکا تھا چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکوٹ نے معاملے کا نوٹس لیا ۔تحقیقات کی ہدایت کی معاملے کی انکوائری کا آغاز ہوامتعلقہ جج کا بیان ریکارڈ ہوا مقدمہ درج ہو گیا حالانکہ یہ طے ہے ایک بار کوئی بھی کیس کوٹ میں چلا جائے اسکا فیصلہ اتنی جلدی پاکستان کی عدالتوں میں نہیں ہوتا ۔یہاں معاملے کی انکوائری کا ادھر بیان ریکارڈ ہوا اُدھر نتیجہ نکل آیا ۔مگر ہوا وہی ایک طرف لاواث بچی دوسری طرف بااثر حاضر سروس جج۔۔

مقدمہ چلا تفشیشی افسر نے ننھی مظلوم بے سہارا بچی کے بیانات میں تضاد کی نشاندہی کی ،جج صاحب کی اہلیہ کی قبل از گرفتاری ضمانت پہلے ہی منظور ہو چکی تھی ۔۔( طیبہ کے والدین ابھی کنفرم نہیں کہ اصلی ہیں بھی یا نہیں یا تو اسے اغوا کیا گیا یا پھر کسی یتیم خانے سے لیا گیا تھا ) بچی سے بیانات لے کر راضی نامہ لکھ کر عدالت میں جمع ہو گیا ۔اسی بیانات کو مدنظر رکھتے ہوں لے دے کر کیس ختم کر دیا گیا ۔۔

اَب بچی کا پتہ بھی نہیں چل رہا کون لے گیا خبر یہی میڈیا پر نشر ہو رہی ہے کہ بچی اغوا ہو گئی ہے ۔۔

اب تو محلے داروں نے بھی گواہی دے ڈالی کہ اکثر ہی جج صاحب کی بیگم بچی کو مارتی پیٹتی تھی اور کبھی کبھار محلے والے بھی اُسے چوری چوری کھانا دیتے تھے ۔سوال یہ نہیں کہ طیبہ کون تھی اُس کے ماں باپ اصلی ہیں یا نقلی ۔۔میرے خیال میں تو سب سے پہلے سزا اس جج کو ملنی چاہیے دو جرم تو اِس پر ثابت ہوتے ہیں ایک یہ کہ کم عمر لڑکی کو ملازم رکھا ،دوسرا جُرم کرنے والی کو سزا سے بچایا ۔۔جو آدمی عدالت میں انصاف کی کُرسی پر بیٹھا ہواُس کے اپنے گھر کے اندر ہوئے ظُلم سے انصاف نا کر سکا ہو ۔وہ دوسروں کو کیا انصاف دے گا ۔۔

خطا وسزا وار دونوں ہی ہیں جنہوں نے اس معصوم بچی کو ملازمت کے لئیے ان کے حوالے کیا ۔اور جن کے گھر میں ظُلم ہوا ۔۔۔مگر یہ سب کون کرے گا ۔یہاں غریبی پھر ہار گئی امیر کے ہاتھوں ۔اس بات کا فیصلہ کون کرے گا ۔۔۔؟کون پوچھے گا اِن کو؟

میری سوچ یہی تک۔۔۔۔ مجرم کون ؟؟؟

فرخندہ رضوی

SHARE

LEAVE A REPLY