نجف اشرف میں مولا کائنات کے در پر حاضری دینے کے بعد مومن خود پر فخر محسوس کرتا ھے کے ھم اس ھستی کے دربار میں پیش ھوئے ھیں جو وصی رسول خدا ھیں دونوں جہانوں کے اسرار ر رموز کو جاننے والے ھیں شہر علم کے باب ھیں جن کی زہنی جسمانی طاقت کا دنیا میں کوئی ثانی نھیں ھے – نجف میں اکثر زائرین 13 رجب کو جاتے ھیں یا 21 رمضان کو جب مولا علی ع ۔ س کی شہادت ھوئی تھی 1ور 13 رجب کو آپ کعبہ میں پیدا ھوئے اور ایسا اعزاز پایا جو دنیا میں کسی بھی ھستی کو نصیب نھیں ھوا مولا علی کی شان میں رسول خدا ص کی بے شمار احادیث ھیں ، ویسے بھی رسول خدا کی زندگی میں کوئی دن کوئی موقعہ ایسا نھیں رہا جب مولا علی نے رسول خدا سے کسی بھی بات پر اختلاف کیا ھو یا آپکا ساتھ چھوڑ کر چلے گئے ھوں خواہ وہ جنگ کا میدان ھو یا ہجرت کا موقع ھو –

ya-ali

مولا علی ع۔ س کے مزار پر آپ س ۔ ع کی زیارت کے بعد وادی سلام میں حاضری دینے کے بعد کا سفر کربلا کی طرف ھوتا ھے جہاں امام عالی مقام حضرت حسین ع س کا مزار مبارک ھے جنھیں نہتا بھوکا پیاسا رکھ کر شھید کیا گیا تھا آپ ع ۔ س نے بدنام زمانہ اس وقت کے بادشاۃ جو انتہائی درجے کا فاسق و فاجر تھا کی بیعت کرنے سے انکار کر دیا تھا کیون نا کرتے یہ انکا دینی فریضہ بھی تھا اور فرض منصبی بھی رسول خدا حضرت محمد صلے اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بتائے گئے دین کے وارث کی حثیت سے بھی آپ نے یہ مناسب جانا کہ اگر کوئی شخص بھی دین اسلام میں خرابی پیدا کرے تو آپ اسکی مخالفت کریں گے اسکے لئے خواہ آپکو اپنی جان ھی کیوں نا دینی پڑے لیکن آپ دین کی عزت و ناموس پر آنچ نھیں آنے دینگے –

karbala

یہ الگ بات ھے کے بجائے آپ ع ۔ س سے لڑنے کے اس دور کے ظالم حکمرانوں نے خلاف انسانیت خلاف جنگی قانون کے بربریت و ظلم کا مظاھرہ کیا اور آپکے ساتھ ساتھ آپکے بچوں کو بھی بے دردی کے ساتھ زبح کیا گیا اس پر ھی ظلم ختم نھیں کیا آپکے خاندان کی مستورات کو قیدی بنا کر انپر بھی ظلم کیا گیا ان سے پہننے کی چادریں تک چھین لی گئیں انکے خیموں کو آگ لگا کر مال اسباب لوٹ لیا گیا ۔

اسی مظلوم امام کا روضہ مبارک کربلا میں ھے مظلوم امام کو بے کفن دنفایا گیا تھا آپ کے مزار کے ساتھ آپکے بھائی جو غازی عباس علمدار کے نام سے جانے جاتے ھیں کو مزار ھے – حضرت عباس کا مزار اقدس آپکے مزار سے سامنے نظر آتا ھے اب تعمیرات سے آیک صحن بنا دیا گیا ھے غازی عباس اور امام حسین مظلوم کے روضہ اقدس کے درمیان کی جگہ کو بیروں حرمین کہا جاتا ھے آدھر زائرین کے بیٹھنے کی جگہ ھے فرش سنگ مر مر سے بنایا گیا ھے اکثر لوگ یا قاٖفلہ والے ادھر بیٹھ کر مجلس کی محفل منقد کرتے ھیں امام پاک کے چہلم پر بھت زیادہ رش ھوتا ھے جس کی وجہ سے یہ وسیع و عریض صحن بھی بھرا رہتا ھے لیکن عام دنوں میں رش کم ھوتا ھے – لیکن صفائی کا ھر وقت اعلی انتظام ھوتا ھے خواہ کتنا ھی رش کیوں نو ھا جائے ادھر کے خدام کو فرق نھیں پڑتا وہ اسی حساب سے صفائی کا خیال بھی رکھتے ھیں –

harmen-karbala

حضرت علی اکبر امام مظلوم امام حسین ع س کے بیٹے – اور حضرت علی اصغر ، حضرت قاسم ع ، س جو امام کے بھتیجے ھیں امام حسن ع ۔ س کے بیٹے ھیں کے مزار بھی ادر ھی اسی احاطہ میں ھیں حضرت حبیب ابن مضاہر صحابی رسول ھیں اور امام کے بھی اصحاب ھیں کا مزار بھی ادھر ھی ھے

امام حسین ع س کی ضریع مبارک کے ساتھ ھی ، انکے علاوہ کربلا میں نہر علقمہ ھے جہاں پر حضرت عباس کو شہید کیا گیا تھا – پھر مقام حضرت علی اکبر ھے مقام علی اصغر ھے یہ وہ مقام ھے جہاں پر ان شہزادوں کو تیر مار کر شہید کیا گیا تھا اسی لئے یہ انھیں کے ناموں سے ھی جگہوں کے نام رکھے گئے ھیں پھر کربلا شہر سے کچھ فاصلے پر حضرت امام جعفر صادق کا باغ ھے اور انکا حجرہ ھے – امام زمانہ امام مھدی ع س سے منسوب ایک مسجد ھے – خیمہ گاہ ھے جہاں پر کربلا کے مسافر مظلوم امام نے اپنے خیمے لگائے تھے ایک جگہ تلہ زنبیہ کے نام سے جانی جاتی ھے یہ وہ جگہ ھے جہاں سے بی بی زینب نے ٹھہر کر اپنے بھائی کو شھید ھوتے دیکھا تھا یہ جگہ زرا اونچے ٹیلے پر تھی آج بھی یہ جگہ کچھ اونچی دکھائی دیتی ھے

tila-e-zainabia

ایک مقام مقام فضہ کے نام سے ھے کہا جاتا ھے اس مقام پر ایک شیر نمودار ھوا تھا جو ان لوگوں کو بھگانے آیا تھا جو لوگ امام مظلوم کی بے حرمتی کر رھے تھے آپ کی لاش کو پامال کرنا چاھتے تھے اور بی بی فضا جو حضرت فاطمہ سلام علیہا کے دور سے مالازمہ تھیں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا بلکہ بعض تاریخی کتب میں ھے کے بی بی فضا نے خود رو رو کر اللہ سے فریا د کی تھی کہ کوئی تو ایسا کرے کے یہ ظالم لوگ ایسا کوئی عمل نا کریں جس سے امام پاک ع ۔ س کے جسد مبارک کے بے حرمتی نا ھو – تو ایک شیر قریب کی جھاڑیوں سے آیا تھا اور ان لوگوں کو مار بھگایا تھا جو اس جرم کے مرتکب ھوئے تھے –

کربلا شہر سے کچھ فاصلے پر حضر ت حر کی قبر ھے جو امام حسین کی آواز پر لبیک کھتے ھوئے خود اپنی ھی فوج سے جہاد کرنے کو تیار ھوئے تھے – حجرت عون محمد حضرت بی بی زینب سلام علیہا کے بیٹوں کے مزار بھی کربلا سے قریبی علاقہ میں ھے ،ان تمام مقامات پر جانا اور خاص طور پر تمام حالات و واقعات کو پڑھ کر جانا بہت معنی خیز ھے عقید ت ور محبت تو ایک جزبہ ھے ھی لیکن اگر محسوس کر کے ایسی جگہ پر جایا جائے جو مظلوم کی نشانی ھو یا یا وہ مقام ھو جہاں کوئی انھونی بات ھوئی ھو تو ان احساسات کو بیان نھیں کیا جا سکتا صرٖ ف محسوس کیا جاسکتا ھے وہ بھی آنسوؤں اور آھوں کے ساتھ

اور دل یہ سوچنے پر مجبور ھوتا ھے کہ اتنا گمنڈ اتنا تکبر انسان میں کیوں آجاتا ھے جب کے فانی ھے سب مٹ جانے والا ھے اب کہاں ھے وہ تخت و تاج وہ محل جن پر گمنڈ کر کے رسول ص ۔ کے گھرانے پر اتنا ظلم کئے گئے – یاد بھی رھی تو اس طرح کے یزید کو ظلم برائی اور بربریت کا ایک سمبل بنا کر یا مثال بنا کر یاد رھی ، آج بھی جب بھی کسی کو ظلم سے تعبیر کرنا ھو تو فوری کہا جاتا ھے یہ تو یزید کے نقش قدم پر ھے اور جب حق کی بات کھنا ھو یا مظلومیت کی بات کی جائے تو حسینیت کہا جاتا ھے – یہ تو دنیا کی بات ھے اور اخرت تو ھے ھی حسین ع ۔ س کی ، جنت کے سردار کی

رافیعہ گیلانی۔ راجن پور

SHARE

LEAVE A REPLY