فالج اور ہارٹ اٹیک کا خطرہ بڑھانے والا مرض، جو ہر دو میں سے ایک فرد کو لاحق ہوتا ہے مگر 50 فیصد سے زائد کو اس کی موجودگی کا علم ہی نہیں ہوتا اور وہ مرض ہے ہائی بلڈ پریشر۔

یہ انتباہ کینیڈا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا۔

سینٹ بونی فیس ہاسپٹل کی تحقیق کے دوران مختلف عمر کے افراد کا جائزہ لیا گیا تو معلوم ہوا کہ ان میں 50 فیصد افراد ہائی بلڈ پریشر کے شکار تھے اور انہیں اس کا علم ہی نہیں تھا۔

خیال رہے کہ اگر ہائی بلڈ پریشر کی تشخیص ہوجائے تو اس کا علاج ادویات یا طرز زندگی میں تبدیلیاں لاکر آسانی سے ممکن ہے۔

بلڈ پریشر کو خاموش قاتل بھی کہا جاتا ہے کیونکہ اس کی علامات نہیں ہوتی۔

تحقیق کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ ہر دو میں سے ایک شخص ہائی بلڈ پریشر کا شکار ہے جبکہ ہر پچاس میں سے ایک کو سنگین ترین امراض کا خطرہ اس کی وجہ سے لاحق ہوچکا ہے۔

تحقیق کے مطابق ہائی بلڈ پریشر کے شکار اکثر افراد طبی علاج نہیں کراتے کیونکہ انہیں اس کا علم ہی نہیں ہوتا اور جنھیں علم ہوتا ہے وہ اسے اہمیت نہیں دیتے۔

محققین نے بتایا کہ اس مرض کی تشخیص کے لیے ضروری ہے کہ تیس سال کی عمر کے بعد ہر چند ماہ بعد اس کا ٹیسٹ کرانا عادت بنائی جانی چاہئے کیونکہ اس مرض کا علاج ہارٹ اٹیک، فالج اور ڈیمینشیا جیسے امراض کا خطرہ کم کرتا ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY