اسلام آباد میں اہل قلم کی کانفرنس یا میلہ مویشیاں۔ صفدر ھمدانی

2
781

سچ کہنا،سچ لکھنا اور سچ سوچنا اب تو یوں لگتا ہے جیسے سزا ہے جو خالق لوح و قلم نے ہم جیسے مردود حرم افراد کو دے رکھی ہے ۔ میں کالم لکھنے سے نوے فیصد گریز کرتا ہوں اور قریبی احباب مستقل یہ تقاضا کرتے ہیں کہ آپ نے لکھنا چھوڑ دیا ہے ۔ ایسا نہیں ہے۔دراصل میں زیادہ آسانی سے اظہار اشعار میں کر لیتا ہوں اور شاعری کا کمال یہ ہے کہ ایک پورا کالم ایک شعر میں سمو جاتا ہے

اس بار پچھلے چند روز سے طبیعت انتہائی بوجھل ہے اور اسکی وجہ متعدد ایسی روح کشید خبریں کہ سمجھ نہیں آتا کہ ہم اگر روئے زمین پر زندہ ہیں تو کس جرم کی سزا میں

اسی دوران یہ خبر ملی کہ اکادمی ادبیات پاکستان کے زیر اہتمام اسلام آباد میں کافی عرصے کے بعد ایک عالمی اہل قلم کانفرنس ہو رہی ہے جو پانچ سے آٹھ جنوری تک منعقد ہو گی اور افتتاح اسکا پانامہ کیس والے وزیراعظم نواز شریف کریں گے۔ خوشی اس بات کی اس لیئے ہوئی کہ ایسے ہی وزیر اعظم اور ایسی ہی حکومتیں دوسرے شعبوں کی طرح شاعروں ادیبوں کو بھی کرپٹ بنانے میں مہارت رکھتے ہیں اور ایسے کتنے ہی معروف نام ہم نے کرپٹ بنتے دیکھے بھی ہیں

اس اہل قلم کانفرنس کے کرتا دھرتا مشیر وزیر اعظم عرفان صدیقی تھے اور شنید یہ ہے کہ انہوں نے بڑے طمطراق سے عطا الحق قاسمی کو کاٹ کے اس کانفرنس کا سارا انتظام اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ میں عرفان صدیقی کو ستر کے عشرے کے وسط سے اسوقت سے جانتا ہوں جب وہ کالج میں عام سے لیکچرر تھے اور راولپنڈی سے ویگن میں سفر کر کے اسلام اباد ریڈیو پر میرے اور مرحوم برکت اللہ کے پاس انتہائی قلیل مشاہرے پر فیچر لکھنے آیا کرتے تھے، اس رو سے میں انکی قلمی قابلیت اور اہلیت سے بخوبی آگاہ ہوں۔ پھر وہ ایک دن صدر تارڑ کے پریس انچارج بن گئے اور پھر اس حکومت میں نواز شریف کی حکومت میں مشیر اور تقریر نویس۔ اس بارے میں مزید کسی اور وقت لکھونگا۔ اسوقت تو یہ معلوم ہے کہ ضرب قلم والی تقریر بھی عرفان صدیقی کی ہی لکھی ہوئی تھی اسی لیئے وزیراعظم کی آواز اور الفاظ ایک دوسرے کا ساتھ نہیں دے پارہے تھے اور انکا ارشاد کردہ ہر لفظ سفید جھوٹ لگ رہا تھا

وزیراعظم نواز شریف نےکہا ہے کہ ادیبوں کی رہنمائی میں آپریشن ضرب قلم کی بھی شدید ضرورت ہے ، دیکھنا چاہیے کہ کس طرح علمی و ادبی سرگرمیوں کو فروغ دے کر انتہا پسندی اور عدم برداشت کے رویے پر قابو پایا جاسکتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ علامہ اقبال کی شاعری نے دنیا بھرکے لوگوں کو خودی کا درس دیا اور اس خطے کی کئی قوموں نے علامہ اقبال کے افکار کو مشعل راہ بنایا،کئی قوموں نےعلامہ اقبال کی شاعری سےانقلاب پیداکیے، علم وادب سےمحروم ہوئے تو پستی اورغلامی کا شکار ہوئے۔

کاش نواز شریف کو ان لفاظ میں سے کسی ایک لفظ کے معانی معلوم ہوتے تو وہ عرفان صدیقی کو عہدے سے برخاست کر دیتے کہ ان سے کیا کہلوا دیا گیا ہے۔

مجھے آمر مطلق ضیا الحق کے دور کی اہل قلم کانفرنسیں بھی یاد ہیں جب عرفان صدیقی کا کردار اسوقت کے کرنل سالک ادا کرتے تھے جو بعد میں بریگیڈیر ہو گئے۔ میں ان خوش بختوں میں سے ہوں جس نے ایسی ہی ایک کانفرنس میں اپنے خالو فارغ بخاری، ماموں رضا ہمدانی، دوست عزیز نصیر ترابی اور چند اور دیگر بیدار ضمیر شاعروں ادیبوں کے ہمراہ کانفرنس میں شرکت سے انکار کر دیا تھا کہ ہم نہ اسوقت بکاؤ مال تھے اور نہ آج ہیں۔ ہم جیسے فقیروں کو ایسے نوسربازوں سے کسی سند کی ضرورت نہیں۔

اس بار بھی ایسے ایسے چہرے نظر ائے کہ حرف و لفظ کی حرمت سے جیسے اعتبار اٹھ گیا۔ باہر بیٹھ کر حاکموں کو یزید کہنے والے انہیں یزیدوں کے دربار میں سر کے بل گئے۔ کتنے ہی ایسے تھے جنہوں نے سفارشیں کروا کے دعوت نامے لیئے۔ ہوا کیا؟ تین دن اچھے کھانے، چائے، شعر بازی اور خود اپنے پیسے دے کر مقالے بلکہ بقول جوان شاعر سرمد چنگیزی کے منہہ کالے پڑھے گئے۔ اسی جوان نے کیا خوب فقرہ کہا کہ یہ اہل قلم کانفرنس نہیں بلکہ شاعروں ادیبوں کا میلہ مویشیاں تھا

میں نے سوچا تھا کہ میں خود اس کانفرنس کا پوسٹ مارٹم کروں گا کہ میرے پاس لندن میں بیٹھ کر وہاں کی ایک ایک رپورٹ موجود ہے لیکن پھر سوچا مجھ سے زیادہ معتبر افراد نے جب حقائق بیان کیئے ہیں تو میں کیوں اپنے ہاتھ نجس کروں۔ سو تمہید اور ایک تازہ غزل کے علاوہ اس کالم میں میرا کچھ نہیں ہے

علی اکبر ناطق کا نام پاکستان اور خاص طور پر اسلام آباد کے حلقوں کے لیئے کوئی نیا نہیں ۔ انہوں نے ۔۔۔سُنتا جا شرماتا جا۔۔۔ کے عنوان سے اپنی تحریر میں بہت سے انکشافات کیئے۔ ایک اقتباس

اکادمی ادبیات پاکستان اسلام آباد میں آجکل پاکستان کے 700 ادیب اور شاعر جمع ہیں اور سب کے سب اپنے زمانے کے غالب ،میر ، موپساں اور چیخوف ہیں اوراب مسلسل کانفرنس کر رہے ہیں۔ شعر، افسانے اور مضمون زبردستی سُنا رہے ہیں۔۔ پیسے دے کر سُنا رہے ہیں۔مقالہ نگار جتنا زیادہ پیسے والا ہے اِتنے ہی زیادہ مقالے پڑھے گا ۔ یعنی مضمون نگاراکادمی کی طرف سے جمع کیے گئے سامعین کو اپنا مضمون سنانے کے دس ہزارروپیہ جمع کرائے گا ،اگر دو مضامین پڑھنا چاہتا ہے تو بیسس ہزار ۔ مضمون کے موضوع کے انتخاب کا حق بھی مضمون نگار کو ہے ،چنانچہ بہت سے مضامین کیڑے مار دواءوں، پیمپروں ،تیل مالش ،پیٹ کی چربی بنانے، صاحب کی چاپلوسی کے ہُنر اور خواتین کو شاعرات بنانے وغیرہ کے مفید ادبی موضوعات پر جمع ہو چکے ہیں ۔ بعضوں نے پانچ پانچ مضامین کے پیسے جمع کروا دیے ہیں
رات ایک دوست نے خبر دی کہ کل 4 بجے مشاعرہ شروع ہوا 200 شاعر تھے اور سب کے سب سینئر تھے، جونیئر کوئی نہ تھا لہذا حروفِ تہجی کے اعتبار سے پڑھایا گیا، رات کے 3 بج چکے لیکن شاعر ابھی تک ض کے حرف تک پہنچے ہیں اور آج صبح کی شنید ہے کہ مشاعرہ تا حال جاری ہےشاعروں نے فی شعر سنانے کا کیا دیا ؟یہ بات ابھی صیغہ راز میں ہے ۔ لیکن ایک سامع نے فون پر مجھے بتایا کہ اکادمی کا ظلم یہ ہے کہ سب پیسے خود رکھے جا رہی ہے ،سامعین کو کچھ نہیں دیتی
نوٹ ( قارئین! اوپر کی تمام عبارت میں تمام سچ ہے ۔ واللہ ایک بھی جھوٹ اور مذاق نہیں ہے

اسلام آباد سے ایک اور خاتون نے اپنا نام صیغہ راز میں رکھنے کی شرط پر اس بات کی تصدیق کی کہ مقالے پڑھنے والوں نے پیسے دیکر یہ رسوائی مول لی

مجھ جیسے کی بات کو یہ کانفرنسوں والے اور انکے شرکا یہ کہہ کر رد کر دیتے ہیں کہ ہمیں مدعو نہیں کیا جاتا لیکن امجد اسلام امجد کو دعوت بھی دی گئی تھی پھر انہوں نے جو کچھ لکھا اسکا بھی ایک اقتباس پڑھ لیجئے۔ مکمل کالم کا موقع اور وقت نہیں

پھرمعلوم ہوا کہ داخلے کے دروازے بند کردیے گئے ہیں کیونکہ اندر اب مزید لوگوں کے بیٹھنے کی گنجائش نہیں رہی اور سیکیورٹی والے کسی کی سننے کو تیار نہیں، کیونکہ ان کے نزدیک یہ بات سرے سے کوئی معنی ہی نہیں رکھتی کہ یہ ڈیڑھ دو سو پسماندگان ادب مہذب معاشروں میں عزت کی نگاہ سے بھی دیکھے جاتے ہیں۔میں تو برادرم ڈاکٹر انور نسیم کے ساتھ ان کے دفتر چلا آیا ۔ لیکن بعد میں جان کر مزید افسوس ہوا کہ اکادمی کے افسران نے سیکیورٹی کے متعلقہ عملے کو بار بار یہ بتانے کی کوشش کی کہ ان کے تقریباً چار سو مہمان طویل فاصلے طے کرکے چاروں صوبوں سے نہ صرف آچکے ہیں بلکہ ایک سو سے زیادہ مقامی مہمانوں کی آمد بھی متوقع ہے جب کہ آپ کے ہال میں کل 350 نشستوں کی گنجائش ہے اور یہ کہ اگر وزیراعظم صاحب زحمت کرکے ساتھ والی عمارت یعنی نیشنل لائبریری میں تشریف لے آئیں تو یہ مسئلہ آسانی سے حل ہوسکتا ہے مگر ہر بار انھیں یہی جواب ملا کہ ہمارے تجربے کے مطابق چھ سو مہمان بلائے جائیں تو زیادہ سے زیادہ ڈھائی تین سو آتے ہیں۔ اگلے سیشن میں جو اپنے طے شدہ مقام یعنی نیشنل لائبریری کے ہال میں منعقد ہوا اکثر مہمان اس بدنظمی اور بدانتظامی کا مختلف انداز میں گلہ کرتے دکھائی اور سنائی دیے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بدقسمتی سے سیاسی مداخلت اور ہمارے معاشرے کی معروف قباحتوں کی وجہ سے یہ اکادمی اب تک ان مقاصد کو بہتر اور مثالی انداز میں پورا کرنے میں زیادہ کامیاب نہیں رہی جن کی وجہ سے اس کا قیام عمل میں آیا تھا لیکن یہ زوال کا وہ منظر نامہ ہے جس کو اگر علامہ صاحب کے ایک مصرعے (’’سرکار‘‘ کے معانی کی جزوی اور ہنگامی تبدیلی کے ساتھ) سے بخوبی سمجھا اور سمجھایا جاسکتا ہے کہ تری ’’سرکار‘‘ میں پہنچے تو سبھی ایک ہوئے البتہ مزید افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے حکمرانوں کو بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام اور ادیبوں کے اس معتبر ادارے اکادمی ادبیات پاکستان میں بھی کوئی فرق نظر نہیں آتا اور یہ دونوں کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکنے میں کسی قسم کی شرم یا لحاظ محسوس نہیں کرتے۔

فیس بُک پر سید غضنفر حسین زیدی نے ایک پوسٹ اس طرح بھی لگائی

ڈاکوؤں کی کانفرنس : شاعر پاپولر میرٹھی

 دس جنوری کو ہونے والے اے پی سی کا ان ایڈوانس احوال عرض ہے ۔
جتنے ڈاکو تھے وہاں سب نے یوں ہی تقریر کی
اپنی گزری زندگی پر سب نے ڈالی روشنی
ایک نے یوں بھی کہا میں رہزنوں کا ہوں امام
میرے ہاتھوں سے ہوا ہے بستیوں میں قتل عام
تھا پولس کا ایک جتھا بھی برابر کا شریک
کوتوال شہر بھی کہتا تھا ہے یہ کام ٹھیک
سر پرستی لیڈروں کی بھی رہی حاصل مجھے
چہرہ دکھلاتا رہا ضو بار مستقبل مجھے
لوگ جن کو رہبران وقت کہتے تھے یہاں
در حقیقت وہ مرے اکثر رہے ہیں پاسباں
آخری ڈاکو نے آ کر اس طرح تقریر کی
عام رہزن سے الگ تھا میرا طرز رہزنی
میں بھی ڈاکو ہوں مگر میری ادا کچھ اور ہے

کیا اسکے بعد بھی مزید کچھ کہنے کی گنجائش باقی رہ جاتی ہے؟ سرمد چنگیزی کی میلہ مویشیاں والی بات پر اب ایمان مزید پختہ ہو گیا ہے۔

چلتے چلتے میرے یہ چند اشعار بھی ملاحظہ فرما لیجئے کہ مستقبل کا تاریخ نویس اس عہد کی شاعری سے بھی تو مدد لے گا۔ یہ سو فیصد اہل قلم کی بات تو نہیں لیکن اسی فیصد سے زیادہ کی ضرور ہے

اپنی ہی خواہش سے ہیں منجدھار میں اہل قلم
صاحبو خوش حلقہء سرکار میں اہل قلم

شاعروں نے اس قلم سے امتیں بیدار کیں
سو چکے اب مجمعء بیدار میں اہل قلم

گفتگو سن کر قلم شرمائے جنکی باخدا
ہم نے ایسے دیکھے ہیں گفتار میں اہل قلم

ظلم پہ تُف کے لیئے لکھتے نہیں ہیں ایک لفظ
ظالموں کے ڈھل چکے کردار میں اہل قلم

دوستی کا فخر تھے اور دوستوں کا مان بھی
اب تو خود شامل ہوئے اغیار میں اہل قلم

جو قلم کی عزت و ناموس کو بیچا کریں
ایسے چنوا دے کوئی دیوار میں اہل قلم

اک اشارہ ہی بہت کافی تھا دعوت کے لیئے
سر کے بل آنے لگے دربار میں اہل قلم

کیا کریں گے رہنمائی قوم کی بتلایئے
خود گرفتار بلا منجدھار میں اہل قلم

یہ فقط اس عہد کا ہی مرثیہ صفدر نہیں
بکتے ہیں ہر دور میں بازار میں اہل قلم

صفدر ھمٰدانی۔ لندن

تازہ ترین اضافہ

کالم کی اشاعت کے بعد ننانوے فیصد لوگوں نے مندرجات سے اتفاق کیا ہے یہاں تک کہ جو لوگ اس ادبی میلے میں شامل تھے خود  انہوں نے بھی متعدد شکایات اور تحفظات ظاہر کیئے ہیں۔ کراچی سے ایک دوست نے عجیب و غریب خبر دی ہے کہ تمام صوبوں سے اکیڈیمی کے ڈائریکٹر صاحبان کو مدعو کیا گیا تھا لیکن طرفہ تماشہ کے کراچی کے ڈائریکٹر کو دعوت ہی نہیں دی گئی۔ اور کوئی کرے یا نہ کرے کم ازکم میں تو اسکی شدید مذمت کرتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔ کیا یہ ہی جمہوریت ہے آپکی؟ 

SHARE

2 COMMENTS

  1. bhut sahi likha he aap ne maze ki bat to ye he k tamam soobo se academy k directors ko bulaya gaya lekn karachi k director ko bulaya tk nahi gaya jis ki b muzamat ki jaey to acha hoga

LEAVE A REPLY