فاطمہ جناح ویمن یونیورسٹی کے پروفیسر سلمان حیدر اور سول سوسائٹی کے 3 سرگرم کارکنوں کی گمشدگی کے معاملے کی گونج اُس وقت پارلیمنٹ میں بھی سنائی دی جب سینیٹرز اور ارکان قومی اسمبلی کی جانب سے ان واقعات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے توجہ دلاؤ نوٹس جمع کرائے گئے۔

احمد رضا یاسر، وقاص گورایا اور عاصم سعید کی پراسرار گمشدگی کا معاملہ ایوان بالا میں زیربحث آیا جس کے بعد اس معاملے کو چیئرمین رضا ربانی نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کے حوالے کردیا۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے قانون سازوں نے بھی قومی اسمبلی اور سینیٹ میں علیحدہ علیحدہ توجہ دلاؤ نوٹس جمع کرائے جن میں 6 جنوری کی رات سے گمشدہ سلمان حیدر کی تلاش میں ناکام قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر تشویش کا اظہار کیا گیا اور معاملے پر بحث کا مطالبہ کیا گیا۔

سینیٹر شیری رحمٰن، فرحت اللہ بابر، سسی پلیجو اور روبینہ خالد کی جانب سے پیش کیے گئے توجہ دلاؤ نوٹسز میں وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کو سلمان حیدر، وقاص گورایا، عاصم سعید اور احمد رضا کی گمشدگی پر توجہ دینے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

قانون نافذ کرنے والے ادارے تاحال ان افراد کی موجودگی سے متعلق کسی بھی قسم کی معلوامات فراہم کرنے میں ناکام رہے ہیں، نوٹس میں کہا گیا ہے کہ یہ اہم معاملہ ہے اور اس پر ایوان میں موجود وزیر کا جواب سامنے آنا چاہیئے۔

دوسری جانب وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کی جانب سے بھی قانون نافذ کرنے والے اداروں کو سلمان حیدر کی تلاش کی کوششوں میں تیزی لانے کی ہدایات جاری کی جاچکی ہیں۔

ترجمان وزارتِ داخلہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق ایک سینئر افسر نے سلمان حیدر کے اہل خانہ سے ملاقات کرکے انہیں اس بات کی یقین دہانی کرائی ہے کہ ان کی بازیابی کے لیے تمام کوششیں کی جائیں گی اور اس سلسلے میں خفیہ اداروں کی مدد بھی حاصل کی جارہی ہے۔

انسانی حقوق کے تنظیموں اور سلمان حیدر کے دوست، جو خود بھی فاطمہ جناح ویمن یونیورسٹی کے لیکچرار ہیں، کی جانب سے 10 جنوری سے ملک گیر احتجاج کا اعلان کیا گیا ہے۔

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) کی جانب سے بھی سوشل میڈیا کارکنان کی بحالی کے لیے ملک گیر احتجاج کا اعلان کیا گیا ہے۔

ایچ آر سی پی کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق تنظیم 4 جنوری سے وقاص گورایا اور عاصم سعید، 6 جنوری کو سلمان حیدر اور 7 جنوری کو احمد رضا نصیر کی گمشدگی پر تشویش میں مبتلا ہے، یہ چاروں افراد اظہار رائے کے حوالے سے جانے جاتے ہیں، جس میں بسا اوقات سوشل میڈیا کے ذریعے انتظامیہ، انتہاپسندی اور عدم برداست پر تنقید شامل ہوتی ہے۔

تنظیم کے جاری بیان میں مزید کہا گیا کہ ‘پاکستان سماجی کارکنوں کے لیے کبھی بھی ایک محفوظ ملک نہیں رہا، کئی افراد مارے جاچکے ہیں، متعدد زخمی ہوئے، کئی کو اغوا کیا گیا اور انہیں دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا، گذشتہ ہفتے ہونے والے واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ خطرہ ڈیجیٹل دنیا تک پہنچ چکا ہے، اس بارے میں یقین تو نہیں کہ یہ چاروں کیس آپس میں جڑے ہوئے ہیں مگر اس بات کی امید ہے کہ اس حوالے سے کیس کو دیکھا جانا بھی ضروری ہے’۔

بیان کے مطابق، ‘دھمکیوں اور تشدد نے کبھی بھی پاکستانی کارکنوں کو اپنے خیالات کے اظہار اور ان مسائل کی نشاندہی سے نہیں روکا جن پر ذمہ دار شہریوں کو آواز بلند کرنی چاہیئے، ہم جانتے ہیں کہ گذشتہ چند دنوں میں ہونے والے واقعات سے بھی اس پر کوئی فرق نہیں پڑے گا، تاہم اس کے ساتھ ساتھ ہیومن رائٹس کمیشن بھی حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ حقوق کے محافظ اور کارکنوں کے لیے محفوظ ماحول فراہم کی ذمہ داری کو پورا کرے’۔

10 جنوری کو اسلام آباد میں نیشنل پریس کلب کے سامنے شام 4 بجے احتجاج کیا جائے گا جبکہ اسی وقت کراچی پریس کلب کے سامنے بھی مظاہرہ ہوگا، پیپلز پارٹی کی جانب اسی نوعیت کے ایک مظاہرے کا اعلان لاہور پریس کلب پر 3 بجے منعقد کرنے کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔

دوسری جانب فاطمہ جناح ویمن یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے والے سلمان حیدر کے طالب علموں کی جانب سے بھی ان کی گمشدگی پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے اور ان کی بازیابی کے لیے کوششیں تیز کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے، طلبہ نے سلمان حیدر کی صحت کے لیے بھی دعا کی اور ان کے اہل خانہ سے یکجہتی کا مظاہرہ بھی کیا

SHARE

LEAVE A REPLY