آسٹریلیا نے میتھیو ویڈ کی دلیرانہ سنچری کی بدولت پاکستان کو پہلے ایک روزہ میچ میں 92 رنز سے شکست دے سیریز میں 1-0 کی برتری حاصل کر لی۔

گابا میں کھیلے گئے پانچ ایک روزہ میچوں کی سیریز کے پہلے میچ میں آسٹریلیا نے ٹاس جیت کر بیٹنگ کیلئے سازگار وکٹ پر خود بلے بازی کا فیصلہ کیا جو ابتدا میں غلط ثابت ہوا۔

محمد عامر نے دن کی ابتدا میں عمدہ اسپیل کرایا اور ڈیوڈ وارنر کو اپنی سوئنگ سے بھرپور پریشان کیا ۔

اس عمدہ باؤلنگ کا صلہ انہیں جلد ہی مل گیا جب پانچویں اوور میں انہوں نے وارنر کی وکٹیں بکھیر دیں۔

ابھی آسٹریلین ٹیم اس صدمے سے نکلی بھی نہ تھی کہ اگلی ہی گیند پر عامر نے اسٹیون اسمتھ کو آؤٹ کر کے آسٹریلین صفوں میں کھلبلی مچا دی۔

13 رنز پر دو وکٹیں گرنے کے بعد ٹریوس ہیڈ اور کرس لن نے بیٹنگ لائن کو سنبھالا دیا اور ٹیم کی ففٹی مکمل کرائی لیکن 52 کے مجموعے پر حسن علی کی گیند پر غیر ضروری شاٹ کھیلنے کی پاداش میں کرس لن اپنی وکٹ گنوا بیٹھے۔

ٹریوس ہیڈ نے جارحانہ بیٹنگ سے پاکستانی باؤلرز کو دباؤ میں لینے کی کوشش کی لیکن عماد وسیم نے 39 رنز بنانے بلے باز کی اننگز کا جلد خاتمہ کردیا۔

مچل مارش عماد وسیم کے خلاف مسلسل جدوجہد کرتے نظر آ رہے تھے اور بالآخر چار رنز بنانے کے بعد انہی کی وکٹ بن گئے جس کے ساتھ ہی 78 رنز پر آدھی آسٹریلین ٹیم پویلین لوٹ چکی تھی۔

اس موقع پر گلین میکس ویل کا ساتھ نبھانے میتھیو ویڈ پہنچے اور دونوں نے اننگز کو آگے بڑھانا شروع کیا۔

ابتدائی طور پر محتاط میکس ویل نے جلد ہی اپنا روایتی انداز اپنایا اور پاکستانی اسپنرز کو آڑے ہاتھوں لینا شروع کیا لیکن اس سے قبل کے 60 رنز بنانے والے بلے باز میچ پاکستان کی گرفت سے باہر لے جاتے، حسن علی نے ان کی اننگز کا خاتمہ کردیا۔

جیمز فالکنر بھی مشکل وقت میں ٹیم کے کام نہ آ سکے اور پانچ رنز بنانے کے بعد محمد نواز کی پہلی وکٹ بنے۔

تاہم دوسرے اینڈ پر موجود ویڈ جواں مردی سے کھیلتے رہے اور اپنی نصف سنچری مکمل کی۔

انہوں نے ٹیل اینڈرز کے ساتھ ذمے دارانہ انداز میں بیٹنگ کی اور اپنی ٹیم کو 268 رنز کے معقول مجموعے تک پہنچانے کے ساتھ ساتھ ون ڈے کرکٹ میں پہلی سنچری بھی مکمل کر لی۔

آسٹریلیا نے مقررہ اوورز میں نو وکٹ کے نقصان پر 268 رنز بنائے، ویڈ 100 رنز بنا کر ناقابل شکست رہے۔

پاکستان کی جانب سے حسن علی تین وکٹیں لے کر سب سے کامیاب باؤلر رہے جبکہ عماد وسیم اور محمد عامر نے دو دو وکٹیں حاصل کیں۔

پاکستان نے ہدف کا تعاقب شروع کیا تو اظہر علی اور شرجیل خان نے 38 رنز کا مناسب آغاز فراہم کیا لیکن اسی موقع پر شرجیل جیمز فالکنر کو وکٹ دے بیٹھے جبکہ چند لمحوں بعد ٹانگوں میں کھنچاؤ کے سبب اظہر بھی ریٹائرڈ ہرٹ ہو گئے۔

ایک عرصے بعد ٹیم میں واپس آنے والے محمد حفیظ کی اننگز صرف رنز تک محدود رہی۔

عمر اکمل نے اپنے کزن بابر اعظم کے ساتھ اسکور کو 79 تک پہنچایا لیکن مچل اسٹارک نے ان کو ٹریوس ہیڈ کی مدد قابو کیا۔

اس موقع پر ٹیم کی توجہ کا محدور بابر اعظم تھے جنہوں نے محمد رضوان کے ساتھ مل کر ٹیم کی سنچری مکمل کرائی لیکن 33 کے انفرادی اسکور پر وہ تھرڈ کی جانب شاٹ کھیلنے کی کوشش میں سلپ میں کھڑے اسٹیون اسمتھ کو آسان کیچ تھما بیٹھے۔

اس کے بعد پاکستانی کھلاڑی وکٹ پر سیٹ ہو کر وقفے وقفے سے وکٹیں گنواتے رہے اور بڑھتے ہوئے رن ریٹ کے دباؤ تلے پوری بیٹنگ لائن 176 رنز پر ڈھیر ہو گئی۔

عماد وسیم نے 29، اظہر علی 24، محمد رضوان 21 اور شرجیل خان نے 18 رنز بنائے۔

آسٹریلیا نے پہلے میچ میں 92 رنز سے فتح کے ساتھ ہی پاکستان کے خلاف سیریز میں 1-0 کی برتری بھی حاصل کر لی ہے۔

آسٹریلیا کی جانب سے جیمز فالکنر چار وکٹیں لے کر سب سے کامیاب باؤلر رہے جبکہ پیٹ کمنز نے تین اور مچل استارک نے دو وکٹیں لیں۔

میتھیو ویڈ کو فتح گر سنچری اسکور کرنے پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔

سیریز کا دوسرا ٹیسٹ میچ اتوار کو کھیلا جائے گا۔

قبل ازیں ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرنے والی آسٹریلین ٹیم نے نوجوان کھلاڑیوں کرس لن اور بلی اسٹین لیک کو ڈیبیو کرایا ہے جبکہ گلے میں انفیکشن کے سبب شعیب ملک بھی پہلا میچ نہیں کھیل سکے اور ان کی جگہ عمر اکمل کو فائنل الیون میں شامل کیا گیا ہے۔

پاکستانی ٹیم میں ایک عرصے بعد عمر اکمل کی واپسی ہوئی ہے جنہوں نے اپنا آخری ایک روزہ میچ ورلڈ کپ کواورٹر فائنل میں آسٹریلیا ہی کے خلاف کھیلا تھا جبکہ باؤلنگ ایکشن کی درستی کے بعد محمد حفیظ بھی ٹیم میں شامل ہیں۔

واضح رہے کہ پاکستانی ٹیم ٹیسٹ میچوں کی طرح ون ڈے میں بھی آسٹریلیا کے خلاف بدترین ریاکرڈ کی حامل ہیے اور گزشتہ 20 میں سے 16 ایک روزہ میچ ہار چکی ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY