پیپلز پارٹی کے سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا ہے کہ وزیر داخلہ نے کچھ روزپہلے سینیٹ کو یقین دہانی کرائی تھی کہ آئندہ لوگوں کو لاپتہ نہیں کیا جائے گا لیکن وزیر داخلہ کے بیان کے چھتیس گھنٹے بعد ایک اور شخص کو اٹھانے کے بعد چھوڑ دیا گیا ہے،وزیر داخلہ کے بیان کےبعد اس شخص کا اٹھایا جاناحکومت اور پارلیمنٹ کے لئے پیغام ہے۔

گزشتہ ایک ہفتے میں لاپتہ ہونے والے افراد کے معاملے پر سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ پورے ایوان پر مشتمل کمیٹی نے لاپتہ افراد کے حوالے سے بل کی منظوری کا معاملہ اٹھایا تھا جس میں حکومت سے 60روز میں قانون سازی کرنے کا کہا گیا تھا۔

فرحت اللہ بابر کا کہنا تھا کہ پہلے فاٹا، خیبر پختوانخوا، سندھ اور بلوچستان سے لوگوں کو اٹھایا جاتا تھا، اب یہ سلسلہ اسلام آباد میں بھی شروع کر دیا گیا ہے۔

چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے کہا کہ پارلیمنٹ ان افراد یا گروپوں اور سرکاری اہلکاروں کے جانب سے دی جانے والی دھمکیوں پر بہری ہے۔

وزیر قانون زاہد حامد نے ایوان کو بتایا کہ کسی پانچویں شخص کی گمشدگی کی شکایت پولیس کو موصول نہیں ہوئی، وزیر داخلہ نے پانچویں شخص کی گمشدگی کی خبروں کا نوٹس لیا ہے اور پولیس کو ہدایت کی ہے کہ خبر دینے والے رپورٹر سے رابطہ کر کے گمشدگی کے حوالے سے تفصیلات حاصل کی جائیں۔

چیئرمین سینیٹ نے وزیر مملکت برائے داخلہ کوچار لاپتہ افراد کے حوالے سے پیر تک پیش رفت سے متعلق آگاہ کرنے کی ہدایت کی

SHARE

LEAVE A REPLY