مرکزاطلاعات فلسطین
فلسطین کے علاقے غزہ کی پٹی میں بجلی کے مسلسل بحران نےعوام کا جینا محال کردیا ہے۔ دوسری جانب اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ کی قیادت میں ہزاروں شہریوں نے بجلی بحران پر فلسطینی اتھارٹی کے خلاف احتجاجی مظاہرے شروع کیے ہیں۔

مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق غزہ کی پٹی میں ہزاروں کی تعداد میں شہریوں نے سڑکوں پرنکل کراحتجاجی مظاہرے کیے ہیں۔

شمالی غزہ کی پٹی میں ہونے والی احتجاجی ریلی کے دوران فلسطینی صدر محمود عباس اور فلسطینی وزیراعظم رامی الحمد اللہ کے پتلے نذرآتش کیے۔

گذشتہ روز بھی نماز جمعہ کے اجتماعات کے بعد غزہ کے مختلف علاقوں میں فلسطینی صدر محمود عباس کے خلاف احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں بینرز اور کتبے اٹھا رکھے تھے جن پر غزہ کی پٹی میں جاری بجلی کے بحران کی ذمہ داری صدر محمود عباس پرعاید کی گئی تھی۔

خیال رہے کہ غزہ کی پٹی میں فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے ایندھن کی سپلائی روکے جانے کے نتیجے میں 12  سے 18 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ کی جا رہی ہے۔ بعض مقامات پر لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ 6 سے 8 گھنٹوں کے درمیان ہے۔

حماس کے رکن قانون ساز کونسل مشیر المصری نے غزہ میں فلسطینی اتھارٹی کے خلاف نکالی گئی ایک ریلی سے خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ محمود عباس اور وزیراعظم رامی الحمد اللہ غزہ میں بجلی بحران کے ذمہ دار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینی اتھارٹی صہیونی ریاست کے ساتھ مل کرغزہ کے عوام کو بلیک میل کرنے اور ان پرپابندیاں عاید کرنے کی مجرمانہ کوشش کررہی ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY