ٹرمپ مخالف مظاہرے، واشنگٹن میں سخت سیکیورٹی انتظامات

0
160

منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جمعے کے روز حلف برادری کی تقریب سے قبل دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی عملی طور پر ایک قلعے میں تبدیل ہو چکا ہے۔

توقع کی جا رہی ہے کہ یہ تقریب دیکھے کے لیے 25 لاکھ سے زیادہ لوگ واشنگٹن آئیں گے۔

پولیس کا اندازہ ہے اس موقع پر 9 لاکھ سے زیادہ افراد اکھٹے ہوں گے۔ لیکن ٹرمپ کے حامیوں اور مخالفین کا کہنا ہے کہ وہ دارالحکومت میں لوگوں کا سيلاب لے آئیں گے جس میں کیپیٹل ہل، وہائٹ ہاؤس اور پریڈ کے علاقے شامل ہیں۔

واشنگٹن میں آنے والوں میں بڑی تعداد ان لوگوں کی بھی ہوگی جو مسٹر ٹرمپ کی حلف برداری کے موقع پر احتجاجي مظاہرے کریں گے۔ یہ مظاہرے عورتوں، تارکین وطن اور مسلمانوں سے متعلق ان کے بیانات کے خلاف ہوں گے۔ اس کے علاوہ وہ لوگ بھی مظاہروں میں شامل ہوں گے جو میکسیکو کی سرحد پر دیوار بنانے کے خلاف ہیں اور وہ افراد بھی مظاہروں کا حصہ بنیں گے جو صحت کی دیکھ بھال کے پروگرام أوباما کیئر کی منسوخی سے متعلق ٹرمپ کے عزائم کو اپنے لیے نقصان دہ سمجھتے ہیں۔

حلف برداری کی تقريبات میں امن و امان کی بحالی اور کسی ناخوش گوار صورت حال سے بچنے کے لیے دارالحکومت میں 28 ہزار سیکیورٹی اہل کار تعینات کیے گئے ہیں۔ مخصوص علاقوں میں میلوں لمبی باڑیں لگائی گئی ہیں۔ سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کی گئی ہیں اور سیکیورٹی کے طور پر ریت سے بھرے ہوئے ٹرکوں کا انتظام بھی کیا گیا ہے۔

مظاہرین کا کہنا ہے ان کے لگ بھگ 30 گروپ احتجاج کے لیے واشنگٹن آئیں گے جس کے لیے انہوں نے اجازت نامے حاصل کر لیے ہیں۔

مظاہرین کی تعداد کا تخمینہ پونے تین لاکھ افراد لگایا جا رہا ہے۔

ایک احتجاجي گروپ ’ جے 20 ‘ نے کہا ہے کہ وہ نیشنل مال پر واقع تمام 12 سیکیورٹی چوکیوں کے سامنے مظاہرے کریں گے۔

ٹرمپ کے خلاف سب سے بڑا مظاہرہ ہفتے کے روز ہوگا جس میں ڈھائی لاکھ عورتیں شرکت کریں گی۔ منتظمین نے واشنگٹن کے اس مظاہرے کے ساتھ ساتھ ملک کے دوسرے شہروں میں بھی احتجاجي پروگرام ترتیب دیے ہیں۔

پولیس کے قائمقام سربراہ پیٹر نیوشام نے کہا ہے کہ پولیس اہل کار بڑے پیمانے پر گرفتاریوں کے لیے تیار ہیں، لیکن حکام کا کہنا ہے یہ اقدام غیر ضروری ہوگا۔ انہوں نے واشنگٹن کے این بی سی چینل فور پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایسا کرنا بھی پڑا تو ان کے مقدمات کو جلد از جلد نمٹانے کی کوشش کی جائے گی۔

VOA

SHARE

LEAVE A REPLY