ممتاز قانون دان عاصمہ جہانگیر نے سندھ اسمبلی میں امداد پتافی اورنصرت سحر کے درمیان ہونے والے جھگڑے پر تبصرہ کرتے ہوئے وفاقی محتسب سے خاتون رکن کو ہراساں کیے جانے پر نوٹس لینے کا مطالبہ کر دیا۔

عاصمہ جہانگیر کا کہنا ہے کہ اسمبلی میں ہمارے نمائندے آئے ہیں یا لفنگے؟انہیں یہ بھی نہیں معلوم کہ خواتین سے کس طرح بات کرنی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ تو عجیب شرمناک صورتحال ہے، انہیں سزا ہو، ان کی اسمبلی کی سیٹ جائے تب دیکھوں گی کہ آئندہ کون ایسے بات کرے گا

سندھ اسمبلی کے اجلاس کے دوران پیپلز پارٹی کے رکن امداد پتافی اور پاکستان مسلم لیگ فنکشنل کی رکن نصرت سحر کے درمیان خوب تکرار ہوئی۔

اجلاس میں سوال جواب سیشن کے دوران امدا پتافی نے نصر ت سحر کو ڈرامہ کوئین اور رسی جل گئی بل نہیں گیا جیسے جملے بھی بولے۔

نصرت سحر نےمیر پور خاص روڈ سے متعلق سوال کیا تو وزیر ورکس امداد پتافی نے جواب دیا کہ موسم ہے عاشقانہ۔

نصرت سحر نے انگلش میں جواب پڑھ کر سنانےکو کہا توبولے ۔۔میرے چیمبر میں آجائیں پڑھ کر سنادوں گا۔

امداد پتافی کی گلابی انگریزی پر وزیر اعلی سندھ اور وزرا بھی ہنس پڑے۔

امدا پتافی کے ان جملوں پر نصرت سحربرہم ہوگئی اور بولیں ایک وزیر بدتمیزی کررہا ہے،چیمبر میں اپنی ماں بہنوں کو بلائیں۔

اس پر قائم مقام اسپیکر نے امداد پتافی کو ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ خاتون ممبرہیں ان کو تنگ نہ کریں۔

اس نوک جھونک سے قبل پیپلزپارٹی کے رکن غلام قادر چانڈیو نے سندھ اسمبلی میں بلاول بھٹو کی ریلی میں فیصل آباد میں بجلی بند کرنے کا معاملہ اٹھا یا جس پر پیپلزپارٹی کے ارکان نے ایوان میں کھڑے ہوکر شدید احتجاج کیا۔

ایوان میں شور شرابے کے باعث قائم مقام اسپیکر شہلارضا نےاجلاس دس منٹ کے لیے ملتوی کردیا تھا

SHARE

LEAVE A REPLY