حضو ر (ص) کی حج کے لیئے روانگی او ر منا سکِ حج
گزشتہ نشست میں ہم حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے با رے میں کچھ آحا دیث بیا ن کر رہے تھے ۔جیسا کہ ہم نے پہلے بھی عرض کیا تھا کہ اس کے با رے میں بعد میں با ت کر یں گے۔ اس لیئے کہ اس کے با رے میں حضو ر نے تفصیل کے ساتھ اپنے قیا م غدیر خم کے مو قعہ پر ارشادات سے نوازا ہے۔
حجة ا لو داع 10 ھ:
یہ آپ کو تواریخ میں کئی نا موں سے ملے گا۔اس کو حجةا لبلاغ بھی کہا گیا ہے اور حجة الاسلام بھی کہا گیا ہے۔وجہ یہ ہے کہ اس کے کچھ ہی عرصہ کے بعد حضور (ص) کا وصال ِ پر ملا ل ہو گیا، اور چو نکہ اس میں حضور (ص) نے الوداعی تقریر فر ما ئی تھی لہذا یہ حجةالوداع کہلا یا۔ ویسے حضو ر (ص)نے اپنے وصال کی پیشن گو ئی کا فی پہلے سے شروع کردی تھی تا کہ لو گ ذہنی طو ر پر تیا ر رہیں ۔جس کی مثا ل متعدد احا دیث میں ملتی ہے مثلا ً حضرت معاذ (رض) والی وہ حدیث جو کہ تقریبا سب نے ہی نے بیان کی ہے مگر امام احمد (رح) نے بہت ہی تفصیل سے بیان کی ہے۔ کہ جب حضرت معاذ (رض) کو یمن کا حاکم بنا کر بھیجا تو حضو ر (ص) پا پیا دہ ان کے سا تھ تھے، اور وہ سواری پر تھے ۔ آپ نصیحت فر ما تے جا رہے تھے اور ہمرا ہ بھی چل رہے تھے ۔ آپ نے فر مایا کہ ” اے معاذ (رض) جنت کی چا بی لا الہ اللہ کی گواہی دینا ہے ،اے معاذ (رض) برائی کے پیچھے نیکی کر ،وہ اسے مٹا دے گی، اور لوگوں کے سا تھ حسن ِ سلو ک سے پیش آ“ اور اس کے بعد انہیں دس با توں کی نصیحت فر ما ئی ۔(1) کسی چیز کو اللہ تعا لیٰ کا شریک نہ بنا نا چاہے تجھے قتل کر دیا جا ئے(2) والدین کی نا فر ما نی نہ کر نا خواہ وہ تجھے اپنے ما ل اور اہل و عیا ل سے دستبر داری کا حکم دیں(3)فرض نما زکو جا ن بو جھ کر نہ چھو ڑنا،بلا شبہ فرض نما ز جا ن بو جھ کر جو چھوڑتا ہے اللہ تعالی ٰاس کی ذمہ دا ری سے بر ی ہو جا تا ہے(4)شراب نو شی نہ کر نا بلا شبہ یہ ہر برا ئی کی جڑ ہے(5) معصیت سے بچنا ،کیو نکہ معصیت اللہ کی نا راضگی کا جواز پیدا کر تی ہے(6) جنگ میں فرار نہ اختیار کر نا چا ہے لوگ ہلا ک ہو جا ئیں(7) جب لو گوں کو مو ت آئے ( اور )تو ان میں مو جو د ہو تو ثابت قدم رہنا (8) اپنے اہل و عیا ل پر اپنی وسعت کے مطا بق خر چ کر نا(9) اپنے عصا ءکو ادب کی خا طر ان پر نہ اٹھا نا۔(10) اللہ کی خاطر ان سے محبت رکھنا۔ دوسرے راویوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ اس کے بعد یہ بھی فر ما یا کہ ”آسودگی سے اجتنا ب کر نا کہ اللہ کے بندے آسودہ نہیں ہو تے “۔ اس کے علاوہ کچھ اور ہدا یات بھی تھیں جو کہ قوانین نصاب سے تعلق رکھتی ہیں جو ہم پہلے بیان کر چکے ہیں جیسے زکا ت وغیرہ ۔پھر رخصت ہو تے ہو ئے فر ما یا کہ ” معا ذ(رٰض) ممکن ہے کہ اس سال کے بعد مجھ (ص) سے دو با رہ نہ مل سکواور شا ید تم اس مسجد اور میرے (ص)مزار کے پا س سے گزرو“ اس پرجب حضرت معاذ (رض) رو نے لگے توفر ما یا ”معا ذ (رض) مت رو ، رو نا شیطا ن سے ہے “۔ حجةالبلاغ اس کا نام اس لیئے پڑا کہ اس میں حضور (ص)نے تما م احکا مات اسلام کے نہ صرف پہنچا دیئے بلکہ عملی طو ر پر کر کے بھی دکھا دئے جس میں حج کے احکا ما ت بھی شا مل تھے ۔ اور آپ (ص) نے وقوف عرفہ میں خطا ب فر ما تے ہو ئے لو گوں سے شہا دت لی کہ میں نے دین تم تک پہنچا دیا؟ اور لوگوں نے کہا بے شک ! اس کے بعد آپ نے اللہ تعا لیٰ سے مخا طب ہو کر فر ما یا کہ ” اے اللہ تو گواہ رہنا“۔اور اللہ تعالیٰ نے وہیں یہ آیت نازل فر ما دی کہ ”آج کے دن میں نے تمہا رے دین کو مکمل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت کی تکمیل کر دی ہے اور تمہا رے لیئے اسلام کو بطو ر دین پسند کیا ۔“ حجة الاسلام اس لیئے کہ مدینہ آنے کے بعد یہ پہلا حج تھا جس میں حج کے کل ارکا ن پو رے پو رے ادا کیئے گئے ،اور عملی طو ر پر حضور (ص) نے کر کے دکھا ئے ( کیو نکہ عہد جہا لت میں حج کے طریقے مشرکا نہ اور کچھ اور تھے)یہاں مو رخین کا اس پر بھی اختلا ف ہے کہ حج 6 ھ میں فرض ہوا یا 9ہجری میں۔ کچھ کا قول ہے کہ یہ ہجرت سے پہلے ہی فرض ہو گیا تھامگر اس کو زیا دہ تر محد ثین اور مورخین درست نہیں ما نتے ۔ابن ِ اسحا ق (رح) نے تحریر کیا ہے کہ دس ہجری کی ذو القعدہ تک حضور(ص) مدینہ میں ہی قیام فر ما رہے۔ آپ (ص) وفود سے ملتے رہے مختلف قبا ئل کی طر ف عا مل یا سفیر بھیجتے رہے ۔اس کے بعد حضور (ص) نے حج کی تیا ری شروع کی اور ازواج ِ مطاہرات اور صحا بہ کرام (رض) کو بھی حکم دیا کہ وہ تیا ری کر یں۔اس کے بعد جیسا کہ امام احمد (رح) نے بیان کیا ہے اور، مو طا،سنن نسا ئی ابن ِ ما جہ اور بخا ری (رض) میں متعدد حوالوں سے بھی بیا ن ہوا ہے مگر اصل را وی سب میں ام المو نین حضرت عا ئشہ (رض) ہیں ۔ انہو ں نے بیان فرما یاہے کہ حضو ر (ص) نے پچیس ذ و العقدہ کو ابو دجا نہ سماک بن حرشہ سعدی یا سبا ع بن عرطفہ انصا ری (ص) کو مدینہ پر اپنا نا ئب بنا یا اور رسول (ص)اللہ کنگھی کر نے، سر میں تیل لگا نے اور چا در اور تہہ بند ( بطور احرام )زیب تن کر نے کے بعد مدینہ سے اونٹ پر سوار ہو کر روانہ ہوئے۔ آپ (ص) نے زرد رنگ کے احرام کے سوا اور کسی چیز سے منع نہیں فر ما یا ،چو نکہ وہ زعفران سے رنگے جا تے تھے اور ان کا رنگ چھو ٹتا تھا جس سے جسم پیلے پڑ جا تے تھے ،(شاید ایک وجہ عیسائیت سے مماثلت بھی ہو۔ مولف) آپ (ص)نے مدینہ میں ظہر کی چا ر رکعت نما ز پڑھا ئی اور پھر وادی ِ عتیق میں واقع مسجد ذوالحلیقہ میں قیام فرما یا جو کہ مدینہ سے تین میل پر واقع تھی اور عصر کی دو رکعت نما ز پڑھی جس سے (یہ ثابت ہو تا ہے کہ سفر کی نیت سے جب شہر چھوڑ دیا جا ئے تو چا ہے جو بھی فا صلہ طے ہوا ہو نما ز قصر ہی پڑھی جا ئیگی ۔مولف)۔اس رات حضو ر (ص) نے وہیں قیام فر ما یا اور مغرب اور عشا کی نما زیں اپنے وقت پرادا فر ما ئیں ۔ پھر فجر کی نما ز پڑھ کر اس وادی کی طرف سے روانہ ہو ئے جس کو ویرا نہ کہا جا تا تھا ۔ جب آپ (ص) وہاں سے روانہ ہو ئے تو بلند آواز سے تکبیر کہی اور تسبیح و تحلیل کر تے ہو ئے روانہ ہو گئے۔ اس سے پر صحابہ کرام (رض) میں بہت ہی اختلا ف ہے کہ حضور (ص) نے کس قسم کا حج کیا یعنی تمتع ، مفرد یا کہ قرن ۔(لہذا ہم اس بحث سے صرف نظر کر تے ہو ئے حضرت جا بر(رض) کی ایک حدیث نقل کر تے ہیں جس سے ہما رے قا رئین کو یہ پتہ چل جا ئےگا کہ حضو ر (ص) نے کس طر ح حج ادا فر ما یا اور کیا کیا منا سک کس طر ح ادا فر ما ئے جو اتبا ع کے لیئے ہم غلاموں کو میرے خیال میں کا فی ہے(مولف )۔ جو تفصیل امام احمدحنبل (رح) نے تحریر فر ما ئی ہے ۔وہ تحریرفر ما تے ہیں کہ مجھ سے حضرت یحیٰی (رض) بن سعید نے اور ان سے بیا ن کیا حضرت جعفر (رح) بن محمد نے کہ ان کو معلوم ہوا ان کے والد سے جیسا کہ ان سے بیا ن کیا انہوں نے حضرت جا بر بن (رض) عبد اللہ جب بنی سلمہ کے یہا ں تشریف فر ما تھے، تو میں ان کی خد مت میں حا ضر ہوا اور حضور (ص) کے حج کے با رے میں پو چھا تو انہوں نے فر ما یا کہ رسول (ص) اللہ نو سا ل مدینہ منورہ میں رہے مگر انہو ں (ص) نے حج نہیں فر مایا۔ پھر دسویں سا ل اعلا ن ہوا کہ رسول (ص) اللہ حج کے لیئے جا نے والے ہیں ،لہذا بہت سے لوگ جانے کے لیئے آگئے ۔اس لیئے کہ ہر ایک حضور (ص) کی اقتدا میں حج کر نے کا خوا ہشمند تھا اور جو فعل آپ (ص) کرنے جا رہے تھے وہی وہ کر نا چا ہتے تھے ۔ پس رسول(ص) اللہ25 ذوالقعدہ کو مدینہ سے ذو الحلیقہ کے لیئے روانہ ہو ئے، جب ہم وہاں پہنچے تو حضرت اسما ء (ڑض)بنت عمیس نے محمد (رح) بن ابو بکر (رض) کو جنم دیا ۔ انہو ں نے رسول (ص) اللہ کو پیغام بھیجا کہ اب میں کیا کروں ؟آپ (ص) نے ہدا یت فر ما ئی کہ غسل کر کے لنگو ٹ کس کربا ندھ لو ( اس حکم سے یہ با ت واضح ہو ئی کہ نفا س کی حا لت میں بھی عو رت حج یا عمرہ کر سکتی ہے ) پھر رسول (ص) اللہ چل پڑے اور بلند آواز سے تکبیر کہی ۔ لبیک اللھم لا شریک لک لبیک ان الحمد والنعمة لک والملک لا شریک لک ۔ اور ہم لو گوں نے بھی تلبیہ کہی ۔لو گ ذو المعا رج اور اس قسم کا دوسرا کلا م پڑھ رہے تھے جس پر حضو ر (ص) نے کو ئی اعتراض نہیں فر ما یا۔ میں نے حد ِ نظر تک رسول (ص) اللہ کے آگے پیچھے دائیں،با ئیں سوار اور پیا دہ دیکھے ۔ وہ فر ما تے ہیں کہ وہ (ص) ہما رے درمیان تھے اسی دو ران بھی ان پر وحی نا زل ہو رہی تھی ۔ آپ (ص) چو نکہ اس کی تفصیل وحی خفی ذریعہ جا نتے تھے لہذا جو آپ (ص) نے کیا ہم نے بھی اس پر عمل کیا۔ چو نکہ ہم حج کی نیت سے نکلے تھے ۔ (باقی آئندہ)

SHARE

LEAVE A REPLY