خدا را کوئی تو مجھے بتائے کہ ؟ ۔۔ ڈاکٹر نگہت نسیم

0
104

مولا علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں
” ہرشخص کی قیمت وہ ہنر ہے … جو اس میں ہے ”
دوستو!
ڈونلڈ ٹرمپ اپنے ہنر کی قیمت جانتا تھا اس لیئے بیس جنوری دوہزار سترہ کے دن سرکاری اعزاز کے ساتھ پنتالیسویں امریکی صدر ہونے کی حثیت حلف اٹھا چکے ہیں ۔۔ وہ جس پھبن سے آئے ہیں یوں لگتا ہے جیسے کمزوروں کی طاقت ۔۔ دہشت گردوں کی موت بن کر آئے ہیں ۔۔ اب وہ امریکہ کی بند فیکٹریاں کھلوا سکیں یا نہیں ۔۔۔ اسلام کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکہ انتہا پسند دہشت گردوں کو مٹا سکیں یا نہیں پر وہ اپنی قیمت جانتے ہیں ۔۔ اس لئے انہوں نے سارے امریکہ نوازوں کو اور امریکی دغا بازوں کو بتا دیا ہے کہ امریکی خزانوں کے بل بوتے پر ہونے والی عیاشیاں ختم ۔۔۔
امریکہ فرسٹ ۔۔۔ امریکہ فرسٹ ۔۔ امریکہ فرسٹ

سب سے زیادہ قابل توجہ بات یہ ہے کہ ان کا کہنا ہے کہ وہ ہر فیصلے میں “امریکی قوم ” کے مفادات کو سب سے پہلے رکھ کردوسرے ملکوں سے تعلقات رکھیں گے ۔۔۔ اور چاہے ڈونلڈ ٹرمپ یہ بھی نا کر سکے ۔۔ پھر وہ اپنے ہنر کو جانتے ہیں ۔۔ اپنی قیمت پہچانتے ہیں ۔۔۔ جبھی تو للکارتے ہیں ۔۔۔ ۔۔ ان کی تقریروں کے جوش نے ہیلری کلنٹن جیسی سخت جان عورت کو اور اس کے دائیں کندھے پر ہاتھ براک اوباما کو بھی ٹھنڈا کر دیا ۔۔۔ گھر کے اندر سرکاری لابی دم سادھے بیٹھی رہی ۔۔۔ آٹھ لاکھ کا مجمع تالیاں بجاتا رہا ۔۔ وہ کہتا رہا “ ہوشیار مشتری باش“

انسان کی کامیابی اس کے اپنے ہنر سے آشنائی ہے چاہے وہ مثبت ہو یا منفی ۔۔ جس کی تازہ ترین مثال ڈونلڈ ٹرمپ ہیں ۔ان کے خلاف ہونے والے مظاہرے امریکیوں کی نئے صدر کی استقبالیہ روایت ہے ۔۔۔
احباب میری بات سے متفق نہیں ہیں تو وقت انہیں اتفاق کرنا بتا دے گا۔ میرا دل کہتا انہوں نے بانسری یونہی نہیں چھیڑی ۔ ۔۔ کچھ احباب کو ان کی پالیسیز میں جنرل مشرف کی جھلک نظر آئی جیسے “ پاکستان فرسٹ “ ۔۔ مشرف ایسا کر سکتے تھے اور پاکستان ضرور فرسٹ ہوسکتا تھا جو مشرف کو مشرف با اسلام نا کیا جاتا ۔ ۔۔ یعنی ان کی آمد مارشل لا کی چھتری تلے نا ہوتی ۔ وہ اگر آج ٹرمپ کی طرح عوامی حمایت کے ساتھ آتے تو وہ کیا سے کیا ہو سکتے تھے پر حکمران جو کرتے ہیں وہ ان کی مجبوری بھی ہو سکتی ہے ۔۔۔ حالانکہ میرا دل نہیں مانتا اس بات کو پر سیاسی گیانی یہی کہتے ہیں ۔

کچھ لوگ گوں کو سمجھ ہی نہیں آئی کہ ہوا کیا ہے ۔۔ عالمی سطح پر رد عمل علیحیدہ ۔۔ سوشل میڈیا کے گلی محلے میں بحثوں کے انبار لگ چکے ہیں ۔۔ اس وقت تک ت وڈونلڈ ٹرمپ صدارت ک اپہلا د گزار کر سو بھی چکے ہونگے ۔۔ اور باتیں اب بھی ہو رہی ہیں کیونکہ سورج کی شرارت عروج پر ہے وہ کہیں صبح لے آتا ہے اور کہیں رات ۔۔باتوں کے اپنے عروج و ذوال ہوتے ہیں ، ان کی گونج ہوتی ہے ۔ آخر ڈونلڈ ٹرمپ میں ایسا کیا ہے جو بیرونی اور امریکی میڈیا کے عتاب کا شکار بنے رہنے کے باوجود دنیا کے سب طاقتور انسان بن گئے ۔۔

آخر قدرت کیا چاہتی ہے ۔۔۔ ؟

کوئی کہہ رہا ہے مسلمانوں کا قلعہ قمع کرنے آ ئیں ہیں ۔۔ سوچتی ہوں کیا کوئی مسلمان بچا ہے ۔۔ اگر ہے تو مجھے کیوں نظر نہیں آ رہا ۔۔۔ مجھے کیوں مسلمان خوفزدہ انسانوں کا ریوڑ دیکھائی دے رہا ہے ۔۔ ایسی بھگدڑ ۔۔ جس کا جدھر رخ ہوتا اسی طرف چھپ رہا ہے ۔۔ جب عزت اور ذلت کا مالک خدا ہے تو پھر کیسا ڈرنا ۔۔ خدا پاک دنیا میں سزا انسانوں سے دلواتا ہے اور آخرت میں فرشتوں سے دلوائے گا ۔۔ سزا کا حکم ہو تو کوئی ہو اور کہیں بھی ہو ۔۔۔۔۔ یہ کیسا ایمان ہے مسلمانوں جو ایک انسان کے خوف سے ڈول رہا ہے ۔۔۔ بس یہی فرق ہے اس میں اور ہم میں ۔۔۔۔ ڈونلڈ ٹرمپ اپنی قیمت اپنے ہنر کی وجہ سے رکھتے ہیں ۔۔ ان کی ” بےباکی ” ، ” جرات اظہار ” اور ” پر خطر رستوں سے گزرنے کے شوق” نے انہیں کیا سے کیا بنا ڈالا ۔۔۔ ان تمام جادوئی باتوں کے باوجود ان کا اپنے گھر سے نکل کر سب سے پہلے چرچ جانا ۔۔ اوباما کے لیئے تحفہ لانا ۔۔ اپنے خاندان کو ہمہ وقت توجہ دینا ۔۔اپنے ماں باپ کی شکرگزاری کرنا انہیں ایک متوازن شخصیت کا درجہ دے گیا ۔

عام مسلمان سے لے کر اٹیلکچئل مسلمان تک کو ان سے نفرت اور بیزاری ہے ۔۔ اب بھلا وہ بھی کیا کریں جس کے پاس جو ہوتا ہے وہی پیش کر سکتا ہے ۔۔ اور یہ قانون فطرت ہے ۔ بھلا نفرت کرنے والے کب محبت بانٹ سکتے ہیں ۔ جن کے دل کدورتوں سے بھرے ہوں وہ وفا کیسے کریں ۔۔ جوجھگڑالوں ہوں وہ کیسے خیر بانٹ سکتے ہیں ۔۔ بے فیض سے کیسے فیض مل سکتا ہے ۔۔ پر کیا کیجئے مسلمان تو سارے اللہ والے ، سیکھے سکھائے پیدا ہوتے ہیں ۔۔ انہیں کسی کو سننے اور سمجھنے سے کیا لینا دینا ۔۔۔ ان کے لیئے جو ان کی مرضی ، سوچ، اور سمجھ کے خلاف بات کرے وہ گنہگار کافر ہو جاتا ہے ۔۔ بھلا انہیں تحمل اور تدبر سے کیا لینا دینا ۔۔

خدا راہ کوئی تو مجھے بتائے کہ کیا مسلمان دودھ پیتے بچے ہیں یا خبطی اور غبی پیدا ہوئے ہیں جوانہیں اپنے اچھے برے کا پتہ ہی نہیں چلتا ۔۔ جو کوئی کہتا ہے ان کے ڈنڈوں کے خوف سے سر جھکائے بکریوں کے ریوڑ کی طرح چل پڑتے ہو ۔۔ خدا کا خوف کھاؤ مسلمانوں ۔۔ اللہ کے واسطے آنکھیں کھولو ۔۔ اپنی غلطیوں کو تسلیم کرو ، اعتراف کرو کہ ہم سے غلطی ہوئی ہے ۔۔ اپنے دین کی بدنامی کا باعث کوئی اور نہیں خود مسلمان ہیں ۔۔ جو اپنے گھر مظبوط ہوں تو کسی کی کیا مجال جو دیواریں پھاند کر اندر آ جائیں ۔۔۔

میرے عزیز مسلمان بہنو بھائیو اپنا قلعہ مظبوط کرو پھر کسی کوگالیاں دینا ۔۔ اپنی سوچ کو پہلے روشن ، ایماندار اور کشادہ کرو پھر کسی کی سوچ ، اس کے کام ، اس کی ہار جیت پر منفی تبصرے کرنا ۔۔ یاد رکھو میرے عزیزو انسان کی سب سے عیار دشمن ” جہالت ” ہے ۔۔ اور یہ بات میں نے نہیں مولا ئے کائینات حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے کہی ہے ۔۔۔ میرا یقین کہتا ہے کہ مسلمانوں کو جب تک ملائی معجزوں اور مولوی کے شاٹ کٹ سے نجات نہیں ملے گی اس وقت تک انہیں اپنی بدنصیبی کا احساس نہیں ہو سکے گا ۔ مسلمانو آنکھیں کھولو ۔۔ حیات بے حقیقت کی حقیقت کو پہچانو ۔۔ اسی میں ہم سب کی بھلائی ہے ورنہ ۔۔۔ ورنہ ۔۔ انجام قران پاک کو ترجمے سے پڑھ کر جان لو ۔۔۔۔ آج کا منظر لکھا جا چکا دوستو ۔۔ ایماندار کی دوستی دشمنی عیاں ہے ۔۔۔سب کو اپنے اپنے دفاع کاکھلا موقع بھی دیا جا چکا ہے ۔۔۔ مقام فکر یہ ہے کہ کیا مسلمان اپنے ہنر سے واقف ہیں ۔۔ کیا وہ اپنے ہنر کی قیمت جانتے ہیں ۔۔؟

ڈاکٹر نگہت نسیم

SHARE

LEAVE A REPLY