بائیس جنوری مولانا محمد حسین آزاد کا یوم وفات

0
225

٭ 22 جنوری اردو کے نامور انشا پرداز محمد حسین آزاد کی وفات ہے

٭ اردو کے نامور انشا پرداز ،شاعر،نقاد، مؤرخ اور ماہر تعلیم محمد حسین آزاد 5جون 1830ء کو دہلی میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد مولوی محمد باقر اردو کے پہلے اخبار نویس تسلیم کیے جاتے ہیں ، انہیں 1857ء کی جنگ آزادی میںانگریزوں نے گولی سے اڑا دیا تھا۔ محمد حسین آزاد نے دہلی کالج سے تعلیم حاصل کی اور شاعری میں استاد ابراہیم ذوق کے شاگرد ہوگئے۔ 1857ء کی جنگ آزادی کے بعد وہ لاہور پہنچے اور محکمہ تعلیم میں ملازم ہوگئے۔ 1869ء میں وہ گورنمنٹ کالج لاہور اور 1984ء میں اورینٹل کالج لاہور سے وابستہ ہوئے۔ 1887ء میں انہیں حکومت شمس العلما کا خطاب عطا کیا۔ اسی دوران 1865ء میں انہوں نے انجمن پنجاب قائم کی اور لاہور میں جدید شاعری کی تحریک کی شمع روشن کی۔ اس انجمن کے اہتمام میں انہوں نے نئے طرز کے مشاعروں کی بنیاد ڈالی جس میں مصرع طرح کی بجائے عنوانات پر نظمیں پڑھی جاتی تھیں۔ 1889ء میں بیٹی کی وفات کے بعد وہ اپنا ذہنی توازن کھو بیٹھے اور اسی عالم میں 22 جنوری 1910ء کو وفات پاگئے۔

آپ لاہور میں کربلا گامے شاہ کے احاطے میں آسودۂ خاک ہیں۔ مولانا محمد آزادی کی تصانیف میں آب حیات، نیرنگ خیال، سخن دان فارس، دربار اکبری، جانورستان، قصص ہند اور نگارستان کے نام سرفہرست ہیں۔
—————————

رضی اختر شوق کی وفات

٭22 جنوری 1999ء کو اردو کے ایک معروف شاعر رضی اختر شوق کراچی میں وفات پاگئے۔
رضی اختر شوق کا اصل نام خواجہ رضی الحسن انصاری تھا اور وہ 23اپریل 1933ء کو سہارنپور میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم حیدر آباد دکن سے حاصل کی اور جامعہ عثمانیہ سے گریجویشن کیا۔ قیام پاکستان کے بعد انہوں نے جامعہ کراچی سے ایم اے کا امتحان پاس کیا اور پھر ریڈیو پاکستان سے اپنی عملی زندگی کا آغاز کیا، جہاں انہوں نے اسٹوڈیو نمبر نو کے نام سے بے شمار خوب صورت ڈرامے پیش کئے۔ رضی اختر شوق جدید لب و لہجے کے شاعر تھے اور ان کے شعری مجموعوں میں مرے موسم مرے خواب اورجست کے نام شامل ہیں۔ مرے موسم مرے خواب پر انہیں اکادمی ادبیات پاکستان نے ہجرہ ایواڈ بھی عطا کیا تھا۔ وہ کراچی میں عزیز آباد کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔
ان کا ایک شعر ملاحظہ ہو:

ہم روح سفر ہیں ہمیں ناموں سے نہ پہچان
کل اور کسی نام سے آجائیں گے ہم لوگ
——————————————

علامہ سید عرفان حیدر عابدی کی وفات

٭22 جنوری 1998ء کو پاکستان کے نامور خطیب اور شاعر علامہ سید عرفان حیدر عابدی ٹریفک کے ایک حادثے میں خالق حقیقی سے جاملے۔
علامہ سید عرفان حیدر عابدی 1950ء میں خیرپور میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے تعلیمی مراحل خیرپور، جامشورو اور جامعہ کراچی سے مکمل کئے اور عربی اور فارسی کی تعلیم اپنے والد اور تایا سے حاصل کی۔
علامہ سید عرفان حیدر عابدی نے 1970ء کی دہائی میں خطیب کی حیثیت سے جو شہرت مقبولیت اور پذیرائی حاصل کی وہ بہت کم خطیبوں کے حصے میں آتی ہے۔وہ نہ صرف کراچی بلکہ پاکستان بھر میں بے انتہا مقبول خطیب کی حیثیت سے جانے جاتے تھے۔ وہ ایک اچھے شاعر اور نثر نگار بھی تھے۔ وہ اسلامی نظریاتی کونسل کے رکن بھی رہے اور انہوں نے سندھ میں امامیہ کونسل کے کنوینر کے حیثیت سے بھی دینی و ملی خدمات انجام دیں۔ انہوں نے چند برس پاکستان ٹیلی وژن سے مجالس شام غریباں سے بھی خطاب کیا۔ وہ کراچی میں مسجد خیرالعمل، انچولی سوسائٹی کے احاطے میں آسودۂ خاک ہیں

وقار زیدی ۔ کراچی

SHARE

LEAVE A REPLY