٭23 جنوری 1963ء کو محمد علی بوگرا ڈھاکا میں وفات پاگئے

0
234

محمد علی بوگرا کی وفات

٭23 جنوری 1963ء کو پاکستان کے سابق وزیر اعظم اور اس وقت کے وزیر خارجہ جناب محمد علی بوگرا ڈھاکا میں وفات پاگئے۔
محمد علی بوگرا 10 اکتوبر 1909ء کو بوگرا کے مقام پر پیدا ہوئے تھے۔ 1937ء میں وہ بنگال کی مجلس قانون ساز کے رکن منتخب ہوئے۔ قیام پاکستان کے بعد وہ پاکستان کی وزارت خارجہ میں شامل ہوگئے اور برما‘ کینیڈا اور امریکا میں پاکستان کے سفیر بنائے گئے۔ 17 اپریل 1953ء کو خواجہ ناظم الدین کی برطرفی کے بعد غلام محمد نے انہیں پاکستان کا وزیر اعظم بنا دیا۔ وزیر اعظم بننے کے بعد وہ مجلس دستور ساز کے رکن منتخب ہوئے۔ اکتوبر 1954ء میں جب غلام محمد نے دستور ساز اسمبلی توڑی تو انہیں دوبارہ وزیر اعظم بنایا گیا یوں 24 اکتوبر 1954ء سے 7 جولائی 1955ء تک محمد علی بوگرا ایک ایسی حکومت کے سربراہ رہے جس کی اپنی کوئی اسمبلی نہیں تھی۔ 11 اگست 1955ء کو وہ وزارت عظمیٰ سے مستعفی ہوگئے اور دوبارہ امریکا میں سفیر مقرر کردیے گئے۔ 1962ء میں وہ بوگرا کے حلقے سے قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور صدر ایوب خان کی کابینہ میں وزیر خارجہ کے طور پر شامل ہوئے۔ انتقال کے وقت وہ اسی منصب پر فائز تھے۔
——————————–

محمد خالد اخترکی پیدائش

٭ اردو کے نامور ادیب محمد خالد اختر 23 جنوری 1920ء کو الہ آباد تحصیل لیاقت پور ضلع بہاولپور میں
پیدا ہوئے۔ ان کی تصانیف میں ان کا ناول چاکیواڑہ میں وصال سرفہرست ہے جسے اس کے اسلوب کے باعث فیض احمد فیض نے اردو کا اہم ترین ناول قرار دیا تھا۔ محمد خالد اختر کی دیگر تصانیف میں 2011ء، کھویا ہوا افق، مکاتب خضر، چچا عبدالباقی، لالٹین اور دوسری کہانی اور یاترا کے نام شامل ہیں۔ 2001ء میں انہیں دوحہ قطر میں عالمی اردو ایوارڈ سے نوازا گیا تھا۔
٭2 فروری 2002ء کو اردو کے نامور ادیب محمد خالد اختر کراچی میں وفات پاگئے۔
محمد خالد اختر کراچی میں پی ای سی ایچ سوسائٹی کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔
—————————

حنیف محمد کے 337رنز

٭23 جنوری 1958ء کو پاکستان کے مشہور ٹیسٹ کرکٹر حنیف محمد نے پاکستان کی تاریخ کی طویل ترین اننگز کھیلنے کا اعزاز حاصل کیا۔ انہوں نے 970 منٹ میں 337رنز اسکور کیے۔
دسمبر 1957ء میں پاکستان کی کرکٹ ٹیم ویسٹ انڈیز کے دورے پر روانہ ہوئی جہاں 17 جنوری 1958ء کو پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان بارباڈوس کے کنگسٹن اوول گرائونڈ میں پہلے ٹیسٹ میچ کاآغاز ہوا۔
ویسٹ انڈیز کی ٹیم نے ٹاس جیت کر پہلے کھیلنے کا فیصلہ کیا اور پہلی اننگز میں نو وکٹوں کے نقصان پر 579 رنز بنائے۔ اس کے جواب میں پاکستان کی ٹیم پہلی اننگز میں فالو آن کاشکار ہوکر صرف 106 کے اسکور پرڈھیر ہوگئی۔ پاکستان کو اننگز کی شکست سے بچنے کے لیے 473 رنز درکار تھے۔ خیال تھا کہ ویسٹ انڈیز یہ میچ بڑی آسانی سے جیت جائے گا۔
حنیف محمد اور امتیاز احمد نے 20 جنوری 1958ء کو 2 بجکر 37 منٹ پر اننگز کا آغاز کیا۔ پھر اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ تاریخ کا حصہ ہے۔حنیف محمد 23جنوری تک کریز پر رہے۔ انہوں نے 970منٹ کی طویل اننگز کھیلی۔ اور 26 چوکوں‘ 16 تگی‘ 40 دگی‘ اور 105 سنگلز کی مدد سے 337 رنز اسکور کیے۔ اس وقت عالمی ریکارڈ 364 رنز تھا جو لین ہٹن نے قائم کیا تھا۔ حنیف محمد صرف 28 رنز کی کمی سے یہ ریکارڈ توڑنے میں ناکام رہے۔ تاہم اس ریکارڈ سے قطع نظر حنیف محمد کا970 منٹ تک کریز پر رہنے کا ریکارڈ آج بھی ناقابل تسخیر ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان کا دوسری اننگز میں 657 رنز اور پہلی اور دوسر ی اننگز کے درمیان 551 رنز کے فرق کا ریکارڈ بھی آج تک دنیا کی کوئی ٹیم نہیں توڑ سکی ہے۔
حنیف محمدنے اسی اننگز کے دوران ٹیسٹ کرکٹ میں اپنے ایک ہزار رنز بھی مکمل کیے۔ وہ یہ اعزاز حاصل کرنے والے پہلے پاکستانی کھلاڑی تھے۔
———————–

لقمان کی وفات

٭23 جنوری 1994ء کو پاکستان کے نامور ہدایت کار لقمان لاہور میں وفات پاگئے ۔
لقمان 1924ء کے لگ بھگ دہلی میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے شوکت حسین رضوی سے تدوین کاری اور ہدایت کاری کے اسرار و رموز سیکھے اور قیام پاکستان سے پہلے ایک فلم ہم جولی کی ہدایات دیں۔
قیام پاکستان کے بعد لقمان، لاہور میں اقامت پذیر ہوئے اور ایک فلم شاہدہ کی ہدایات دیں۔ یہ وہی فلم ہے جس کے بارے میں لقمان کا دعویٰ تھا کہ یہ پہلی فلم تھی جو مکمل طور پر قیام پاکستان کے بعد تیار ہوئی۔ (تفصیلات کے لئے دیکھیے: مارچ 1949ء)۔ شاہدہ کامیاب نہیں ہوسکی جس کے بعد لقمان نے کئی برس بڑے مشکل حالات کا سامنا کیا۔ اس کے بعد ان کی اگلی فلم محبوبہ بھی ناکامی سے دوچار ہوئی۔ مگر 1955ء میں بننے والی فلم پتن نے ان پر کامیابی کے دروازے کھول دیئے۔ لقمان کی دیگر فلموں میں لخت جگر، آدمی، ایاز، فرشتہ، محل، افسانہ، اک پردیسی اک مٹیار، پاکیزہ، دنیا نہ مانے، پرچھائیں اور وفا کے نام سرفہرست ہیں۔
لقمان لاہور میں مسلم ٹائون کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے۔
—————————–

ایم ایم شریف کی وفات

٭23 جنوری 1979ء کو صوبہ سرحد کے نامور خطاط، نقاش اور مصور جناب ایم ایم شریف نے پشاور میں وفات پائی اور وہیں آسودۂ خاک ہوئے۔
ایم ایم شریف کا تعلق گوجرانوالہ کے ایک خطاط گھرانے سے تھا۔ وہ نامور خطاط احمد علی منہاس کے بھتیجے تھے۔وہ 1901ء میں راولپنڈی میں پیدا ہوئے تاہم انہوں نے عمر کا بیشتر حصہ پشاور میں بسر کیا۔ انہوں نے خطاطی میں نئی نئی جدتیں اور طرز پیدا کیں اور اسے مصوری سے ہم آمیز کیا۔ آپ کے ایک خط، خط ابری کے موجد تسلیم کئے جاتے ہیں۔ آپ کے فن کے نمونے آپ کی کتاب یدبیضا میںموجود ہیں جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ کس قدر قادر القلم تھے۔ پاکستان کے نامور خطاط حافظ یوسف سدیدی ڈرائنگ میں آپ کے شاگرد تھے۔

وقار زیدی ۔ کراچی

SHARE

LEAVE A REPLY