سپریم کورٹ .اسحاق ڈار نے منی لانڈرنگ کےاعترافی بیان کی مکمل تردید کردی

0
186

سپریم کورٹ میں پاناما کیس کے دوران اسحاق ڈار نے منی لانڈرنگ کےاعترافی بیان کی مکمل تردید کردی ۔وکیل شاہد حامد نے عدالت کو بتایا کہ پہلے سے لکھے بیان پر اسحاق ڈار سے زبردستی دستخط کرائے گئے ۔

پاناما پیپرز کیس کی سماعت پانچ رکنی بینچ نے جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں کی ہے،پاناما کیس کی سماعت پیر کی صبح تک ملتوی کردی گئی۔

اسحاق ڈار کے وکیل شاہد حامد نے عدالت کو بتایا کہ نیب ریفرنس میں بھی وہی الزامات تھے جو ایف آئی اے نے اپنے مقدمہ میں لگائے۔

عدالت نے کہاکہ ہائی کورٹ نے اس کیس کو تکنیکی بنیادوں پر ختم کیا تھا۔

پانچ رکنی بنچ کے سربراہ آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیے ہیں کہ جب تک عدالت مطمئن نہیں ہوتی انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہوتے، آئینی عدالت انصاف کی فراہمی تک یہ کیس سنتی رہے گی۔

عدالت نے پراسیکیوٹر جنرل نیب سے حدیبیہ پیپر ملز ریفرنس میں اسحاق ڈار کے اعترافی بیان سے متعلق ریکارڈ پیش کرنا کا حکم دیا۔

جسٹس آصف کھوسہ نے کہا نیب پراسیکیوٹر جنرل بتائیں سیکشن 26 ای کے تحت معافی مشروط ہوتی ہے یا غیر مشروط، اسحاق ڈار کا بیان معافی دینے کے بعد ریکارڈ کیا گیا یا پہلے؟

شاہد حامد نے دلائل میں کہا کہ اٹھارہ ملین ڈالر کی منی لانڈرنگ کا بیان درست نہیں۔

جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ کیا اسحاق ڈار اپنے بیان حلفی سے انکاری ہیں؟

شاہد حامد نے کہا کہ اسحاق ڈار اپنے بیان کی مکمل تردید کرتے ہیں ،ایک پہلے سے لکھے گئے بیان پر زبردستی دستخط کرائے گئے ، بیان لینے کے بعد دوبارہ حراست میں لے لیا گیا،2001 تک فوج کی تحویل میں رہے۔

شاہد حامد نے کہاکہ 1994 میں حدیبیہ انجینئرنگ اور حدیبیہ پیپر ملز کے خلاف ایف آئی ار کاٹی گئیں، جن میں میاں محمد شریف، حسین نواز، عباس شریف، نواز شریف، شہباز شریف اور حمزہ شہباز نامزد تھے،ان ایف آئی آرز پر چالان پیش ہوا اور کیس کا فیصلہ 1997 میں ہوا، ماتحت عدالت نے تمام نامزدملزمان کے خلاف چالان ختم کرتے ہوئے بری کر دیا۔

جسٹس آصف کھوسہ نے کہا کہ اس کیس میں صرف چالان ختم ہوا، ایف آئی آر موجود ہے، ایک درخواست میں صرف چالان ختم ہوا اور ملزمان بری ہو گئے یہ کیسے ممکن ہوا؟

جسٹس اعجاز افضل نے کہا عدالت عالیہ رٹ پٹیشن میں ایسا فیصلہ کیسے دے سکتی ہے؟

شاہد حامد نے کہا کہ اسحق ڈار کا بیان صرف کاغذ کا ٹکڑا ہے۔

جسٹس آصف کھوسہ نے کہا یہ کاغذ کا ٹکڑا نہیں، شواہد کا حصہ ہے جس پر کبھی کارروائی نہیں ہوئی۔

جسٹس آصف کھوسہ نے استفسار کیا کیا کسی بھی ملزم کو شامل تفتیش کیے بغیر کیس ختم کر دیا گیا؟ اگر کوئی شامل تفتیش نہ ہو تو 12 ارب کا معاملہ ختم کر دیا جائے گا۔

کیس کی مزید سماعت اب پیر کی صبح ساڑھے نو بجے ہو گی

SHARE

LEAVE A REPLY