امریکی صدر ٹرمپ اور برطانوی وزیر اعظم تھریسا مے کی ملاقات

0
201

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ روس کے خلاف تعزیرات اٹھانے کا معاملہ ’’قبل از وقت ہے‘‘۔

تاہم، اُنھوں نے اِس اعتماد کا اظہار کیا کہ اُن کے عہدہٴ صدارت کے دوران ’’روس اور چین کے ساتھ تعلقات میں بہتری آئے گے‘‘۔

صدر ٹرمپ نے یہ بات برطانوی وزیر اعظم تھریسا مے سے بات چیت کے بعد جمعے کی شام وائٹ ہاؤس میں اخباری نمائندوں کے سوال کے جواب میں کہی۔

صدر نے کہا کہ غیر ملکی سربراہان سے بات چیت کے دوران، بقول اُن کے، ’’میں امریکی عوام کی حقیقی نمائندگی کروں گا‘‘۔

اس سے قبل، اُنھوں نے بتایا کہ برطانوی وزیر اعظم کے ساتھ اُن کی بات چیت انتہائی کامیاب رہی، جس میں کئی امور پر گفتگو ہوئی، جن میں باہمی تعلقات کے علاوہ، دفاع، نیٹو، اسلامی شدت پسندی کا خاتمہ، تجارت اور دیگر عالمی امور شامل ہیں۔

جب اُن سے پوچھا گیا آیا زیرِ حراست مبینہ دہشت گردوں کی تفتیش کے دوران اذیت کے طریقہ ٴ کار کے معاملے پر اُن کی کیا رائے ہے، صدر ٹرمپ نے کہا کہ اُن کے خیالات ’’وہی ہیں‘‘۔ تاہم، امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس، جو دفاع اور سلامتی کے امور کا وسیع تر تجربہ رکھتے ہیں، ’’اُنھیں اِس رائے کو موقوف کرنے کا پورا اختیار ہے‘‘۔

تفتیشی طریقہٴ کار کے حوالے سے، اُنھوں نے کہا کہ میٹس مروجہ فوجی روایات کے خلاف نہیں جائیں گے۔

عہدہٴ صدارت سنبھالنے کے بعد، تھریسا مے وہ پہلی غیر ملکی سربراہ ہیں جن کی ٹرمپ سے واشنگٹن میں ملاقات ہوئی۔

مے نے کہا کہ بات چیت کے دوران، بہت سے امور پر ٹرمپ اور اُن کے خیالات یکساں تھے۔ ٹرمپ نے کہا کہ مستقبل میں امریکہ اور برطانیہ کے تعلقات میں بہتری آئے گی۔

صدر ٹرمپ نے دونوں ملکوں کے درمیان ’’خصوصی تعلقات‘‘ کا ذکر کیا، اور تھریسا مے نے اِس سے اتفاق کیا؛ اور یکساں معاشی مفادات اور مشترکہ اقدار کا حوالہ دیا۔ تاہم، مے نے کہا کہ نئے صدر نے یقین دلایا ہے کہ نیٹو کے معاملے کے وہ ’’100 فی صد‘‘ حامی ہیں۔

نیٹو کے موضوع پر ٹرمپ کے بیانات کے نتیجے میں یورپی دارالحکومتوں میں تشویش کا عنصر پھیلا تھا، جن میں اُنھوں نے کہا تھا کہ نیٹو اب متروک ہو چکا ہے اور یہ کہ رُکن ملکوں کو اپنے دفاع کے لیے اخراجات میں اپنے حصے کی ادائگی کرنی چاہیئے۔

وائٹ ہاؤس کے ’ایسٹ روم‘ میں اخباری نمائندوں نے میکسیکو اور روس کے بارے میں صدر ٹرمپ کے متنازع مؤقف پر سوال اٹھایا۔ اُن سے پوچھا گیا آیا ہفتے کو روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ٹیلی فون پر ہونے والی گفتگو میں تعزیرات اٹھائے جانے پر بات ہوگی۔ ٹرمپ نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ’’ایسا لگتا ہے تمام ملکوں کے ساتھ اچھے تعلقات استوار ہون گے‘‘، جس میں چین بھی شامل ہے۔

جب یہی سوال تھریسا مے سے کیا گیا، تو اُن کا جواب تھا کہ برطانیہ اس بات کا خواہاں ہے کہ روس کے خلاف تعزیرات جاری رہنی چاہئیں، جب تک وہ ’’مِنسک سمجھوتے‘‘ پر مکمل طور پر عمل درآمد نہیں کرتا، جس سے روس کے حامی باغیوں اور یوکرین کے درمیان لڑائی بند نہیں ہو جاتی۔

VOA

SHARE

LEAVE A REPLY