مزید منا سک ِ حج

گزشتہ قسط میں ہم حج پر با ت کرتے ہو ئے حضرت جا بر (رض) بن عبداللہ کی حدیث بیان کر رہے تھے ۔اب اس کا با قی حصہ بیان کر تے ہیں ۔وہ آگے بیان فر ما تے ہیں کہ ہم جب کعبہ میں داخل ہو ئے تو رسول (ص) اللہ نے حجر ِ اسود کو بو سہ دیا۔ پھر آپ (ص) نے تین چکر تیز، تیز چل کر لگا ئے اورچار چکر عام رفتار سے چل کر لگا ئے اور جب آپ (ص) طواف سے فارغ ہو ئے تو آپ مقام ِ ابرا ہیم کی طرف تشریف لے گئے، اور اس کی پشت پر دو نفل (کھڑے ہوکر) پڑھے جس میں سو رہ قل یا ایہا الکا فرون اور سورہ اخلاص پڑھی۔پھر واتخذوامن مقام ِ ابرا ہیم مصلٰی ۔۔الخ کی تلاوت فر ما ئی۔ اس کے بعد حجر اسود کو بو سہ دیا پھر صفا کی طر ف تشریف لے گئے۔اور ان الصفا والمر و ة من شا ئر اللہ کی تلا وت فر ما ئی پھر فر ما یا کہ جس طرح اللہ نے آغا ز کیا ہم بھی اسی سے کر تے ہیں پس آپ (ص) صفا پر چڑھ گئے اور جب آپ (ص) نے بیت اللہ کی طرف دیکھا تو تکبیر کہی پھر فر ما یا لا الہ الا اللہ واحدہ لا شریک لہ ،لہ الملک و لہ الحمد و ہو علٰی کل شی قدیر لا الہ الٰہ اللہ واحدہ انجتر و صدق واحد ہ و ھزم۔۔او غلب الا حزاب واحد ہپھر آپ نے دعا فر ما ئی پھر یہ ہی تلا وت فرما تے ہو ئے اترنا شروع کیا حتیٰ کہ آپ (ص) کے قدم ِمبا رک ہموارزمین پرٹک گئے ،تو آپ دوڑنے لگے اور جب چڑھا ئی شروع ہو ئی تو آہستہ روی اختیا ر فر ما ئی ۔پھر بیت اللہ کی طرف دیکھ کر وہی فر ما یا جو کہ صفا پر فر ما یا تھا اور جب مروہ کے پا س سات چکر پو رے کر کے فر ما یا کہ اپنے معاملہ کومیں پہلے سے جا نتا تو پِیٹھ نہ پھیر تااور انپے سا تھ قر با نی کے جانور نہ لا تااور اِسے عمرہ بنا تا۔پس جس کے پا س قر با نی کا جا نور نہ ہو (ہمراہ نہ لا یا ہو) وہ حلال ہو جا ئے اور اسے عمرہ بنا لے لہذا(جو قر با نی کے جا نور لے کر نہیں چلے تھے ) سب لو گ حلا ل ہو گئے۔حضرت سراقہ (رض) بن ما لک بن جعشم نے جو وادی کے نشیب میں تھے نے پو چھا کہ حضور (ص) یہ حکم اسی سال کے لیئے ہے یا ہمیشہ کے لیئے تو رسول (ص) اللہ نے اپنی انگلیاں تین با رایک دو سری میں پیوست فر ما کر فر ما یا کہ قیا مت کے روز تک لیئے عمرہ حج میں شا مل ہو گیا ۔

درایں اثنا حضرت علی کرم اللہ یمن سے تشریف لے آئے اور جب انہوں نے حضرت فا طمہ کو دیکھا کہ وہ حلال ہو گئیں ( یعنی احرام سے با ہر آگئیں ہیں) اور رنگدار کپڑے پہنے ہوئے ہیں اور آنکھو ں میں سرمہ لگا یا ہوا ہے۔حضرت علی کرم للہ وجہہ نے اس با ت کو برا منا یا (وجہ پوچھی) تو انہوں نے بتا یا کہ اس با ت کا حکم میرے (ص) والدِ محترم نے دیا ہے ۔اس پر وہ حضو ر (ص) کی خدمت ِ اقدس میں حا ضر ہو ئے اور حضو ر (ص) سے سا را ماجرا بیان فر ما یا ۔ حضو ر (ص)نے فر ما یا ”ہاں! اس نے درست کہا “ آپ (ص) نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے پو چھا تم نے کس چیز کی تکبیر کہی تھی ؟تو انہو ں نے جواب دیا کہ میں نے کہا تھا کہ میں وہ تکبیر کہتا ہوں جو تیرے رسول (ص) نے کہی تھی ،اور میرے ساتھ قر با نی کے جا نور بھی ہیں ۔تو آپ (ص) نے فر ما یا تم حلا ل نہ ہو نا ۔جیسے ہم پہلے بیان کر چکے ہیں جن کے پا س قر با نی کے جا نور تھے بشمول حضور (ص) اور بشمول حضرت علی کرم للہ وجہہ وہ احرام میں ہی مکہ میں مقیم رہے اور جب یو م ِ ترویہ آیا ( یعنی آٹھویں ذوالحجہ ) تو منٰی کی طر ف وہ سب کے ساتھ حج کی تکبیر کہہ کر روانہ ہو ئے ۔رسول (ص) اللہ نے اپنی سواری کی اونٹنی قصواءکو طلب کیا اور سوار ہو ئے اور وہاں مغرب عصر عشا ءکی اور فجر کی نمازیں ادا فر ما ئیں، پھر تھو ڑی دیر ٹھہرے یہاں تک کہ سورج طلو ع ہو گیا تب عرفہ کی طرف روانہ ہو ئے، اور آپ (ص) نے اپنا با لوں والا خیمہ نمرہ میں لگا نے کا حکم دیا جبکہ قریش پہلے مشعر الحرام تک جاتے تھے، مگر رسول (ص) اللہ وہاں سے گزر کرعرفہ میں قیام فر ما ہوئے اور فرمایا کہ وقوفِ عرفہ حج ہے۔ اسوقت تک قیام فرما رہے جب سورج ڈھل گیا تو قصواءکو پھر طلب فر ما یا اور وادی کے نشیب میں آکر لوگوں سے خطا ب فر ما یا(اس خطاب کو خطبہِ وداع بھی کہا جا تا ہے) کہ: ”تمہا رے خو ن اور تمہا رے اموال تم پر اسی طر ح حرام ہیں جیسے کہ تمہارا یہ دن یہ مہینہ اور یہ شہر ِ حرام ہے ۔ مطلع ہو کہ جا ہلیت کے خو ن بھی میرے پیر کے نیچے رکھے ہو ئے ہیں،اور میں (ص) اپنے خو نوں میں پہلا خو ن یعنی ابن ِ ربیع بن حا رث کا خو ن سا قط کر تا ہو ں جو بنی سا عد میں دایہ کی تلا ش کر رہا تھا اور اس کو ہذیل نے قتل کر دیا تھا ۔اور جا ہلیت کا سود بھی سا قط ہے اور ہما رے خاندان کے سودوں میں سب سے پہلا سود عبا س بن عبد المطلب کا سود ہے جسے میں مکمل طو ر پر سا قط کر تا ہو ں۔اور عورتوں کے با رے میں اللہ سے ڈرو ۔ تم نے انہیں اللہ کی ذمہ داری پرحا صل کیا ہے اور کلا م الٰہی سے ان کی شرمگا ہوں کو حلال کیا ہے اور تمہا را ان پر یہ حق ہے کہ جو چیز تم نا پسند کر تے ہو یعنی تمہارا بستر کسی اور کو پا مال نہ کر نے دیں ۔پس وہ اگر ایسا کر یں تو ان کے خلاف تادیبی کاروائی کرو اور ان کا تم پر یہ حق ہے کہ تم رواج کے مطا بق ان کے لبا س اور نا ن و نفقہ کا خیال رکھو اور میں تم میں اللہ کی کتا ب چھو ڑ کر جا رہا ہو ں اور جب تک تم اس پر کا ربند رہو گے گمرا ہ نہیں ہو گے اور تم سے میرے (ص)با رے میں در یا فت کیا جا ئے گا پس تم کیا کہو گے ؟لو گو ں نے کہا کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ (ص)نے ابلا غ کا حق ادا کر دیا، اور خیر خوا ہی کر دی ہے ۔

تب حضو ر (ص) نے انگشت ِ شہا دت کو آسمان کی طرف اٹھا کر اس سے لوگوں کی طرف اشا رہ کر تے ہو ئے تین مرتبہ فر ما یا کہ ”اللہ تو گواہ رہنا “ پھر اذان کہی گئی اور پھر اقامت اور اس کے بعد ظہر کی نما ز ادا کی اس کے بعد اقامت کہی گئی اور عصر کی نما ز ادا فر ما ئی۔ ان دو نوں نما زوں کے در میا ن اور کچھ نہ تھا ۔پھر رسول (ص)اللہ اسوار ہوئے اور موقف میں تشریف لے آئے آپکی نا قہ قصواءکا پیٹ چٹان سے ٹکرانے لگا (غالباً پہاڑ کی نا ہموار زمین کی وجہ سے )آپ نے جبل المشا ة کو اپنے سامنے رکھا اور رخِ مبا رک قبلہ کی طرف کیا اور یہاں تک اقا مت پذیر رہے کہ سو رج غروب ہو گیا اور کچھ زردی بھی چلی گئی، حتیٰ کہ سورج کی ٹکیہ بھی غائب ہو گئی۔ پھرآپ (ص) نے حضرت اسامہ (رض) بن زید کو اپنے پیچھے بٹھا لیا اور قصواءکی مہا ر کو کھینچا یہاں تک کہ اس کا سر آپ کی زانوئے مبارکہ سے ٹکرانے لگیں ۔آپ (ص) اپنے دائیں حصہ والوں سے فرمانے لگے ”لو گوں سکون اختیار کرو “ اور جب کبھی آپ (ص)پہاڑ پر آتے تو اس کی مہا ر ڈھیلی چھو ڑ دیتے تا کہ وہ آسا نی سے چڑھ سکے۔ حتیٰ کہ آپ (ص) مزدلفہ میں پہنچ گئے اور فرمایا یہ وقوف ہے۔ وہاں (بھی ) ایک اذان اور دو اقامتوں کے سا تھ مغرب اور عشا ءکی نما زیں ادا فرمائیں ۔اور ان دو نوں کے درمیان کو ئی تسبیح نہیں کی ۔پھر رسول (ص) اللہ محو ِ استرا حت ہو گئے یہاں تک فجر ظاہرہو گئی ( روشنی پہاڑ پر نظر آنے لگی )۔ پھر آپ (ص) نے ایک اذان اور ایک اقامت سے فجر کی نما ز ادا فر ما ئی ، یہاں تک فجر نما یا ں ہو گئی ،پھر آپ (ص) قصواءپر سوار ہو ئے مشعر الحرام کی طرف تشریف لا ئے اور قبلہ رخ ہو کر کھڑے رہے اور اللہ کی حمد اور تکبیر کہی تسبیح کی ،تو حید بیا ن فر ما ئی ۔یہاں تک کہ دن بہت روشن ہو گیا۔تب آپ (ص) نے اپنے پیچھے حضرت فضل (رض) بن عبا س کو بٹھا یا اور روانہ ہو گئے جب بطن ِ محسر میں پہنچے تو کچھ تیز چلنے لگے پھر اس درمیا نی راستہ پر چل پڑے جو جمرہ کبرا (بڑے شیطاں ) کی طرف جا تا تھا،یہاں آپ (ص)اس جمرہ کے پا س آئے جو درخت کے پا س ہے اور اس کو آپ نے سا ت سنگریزے وادی کے نشیب کی طرف سے ما رے اور ہر مرتبہ تکبیر کہی ۔ پھر آپ (ص) قر با ن گا ہ میں تشریف لے آئے اور اپنے (ص)دست ِ مبا رک سے تریسٹھ جا نور قربان کیئے اور فرمایا کہ یہ قربان گاہ ہے پھر 37جا نور حضرت علی نے قر با ن کیئے ۔ اس کے بعدہر جا نور سے ایک ایک ٹکرا لانے کا انکو حکم دیا، اس کو ایک ہا نڈی میں پکا یا، اسکا گوشت دو نوں نے تنا ول فر ما یا اور شوربہ پیا اور پھر رسول (ص) اللہ سوار ہو ئے اور مکہ معظمہ کی طرف روانہ ہو گئے، وہاں جا کر ظہر کی نما ز پڑھی اور زمزم پر تشریف لے گئے بنی عبد المطلب کے پا س جو وہاں پا نی پلا رہے تھے آپ (ص) نے فر ما یا بنی عبد المطلب ڈول نکا لو،اگر تمہا رے حوض پر غالب آجا نے کا ڈر نہ ہو تا تو میں (ص) بھی تمہا رے ساتھ ڈول نکا لتا۔ پس انہوں نے ڈول پکڑا یا اور آپ (ص) نے پا نی پیا ۔اسی حدیث کو مسلم ، نسا ئی ، ابو داؤد نے بھی روایت کیا ہے مگر راوی ان میں مختلف ہیں اور کچھ تھو ڑے بہت اضا فے بھی ہیں جبکہ امام احمد نے اختصار سے کام لیا ہے۔ ( باقی اگلے بدھ کو پاکستان ٹائمز میں پڑھیے)

SHARE

LEAVE A REPLY