٭29 جنوری نوبیل انعام یافتہ سائنسدان ڈاکٹر عبدالسلام کی تاریخ پیدائش

0
114

ڈاکٹر عبدالسلام کی پیدائش

٭29 جنوری 1926ء پاکستان کے نوبیل انعام یافتہ سائنسدان ڈاکٹر عبدالسلام کی تاریخ پیدائش ہے۔
ڈاکٹر عبدالسلام موضع سنتوک داس ضلع ساہیوال میں پیدا ہوئے تھے۔ جھنگ سے ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد انہوں نے گورنمنٹ کالج لاہورسے ایم ایس سی کیا۔ ایم ایس سی میں اول آنے پر انہیں کیمبرج یونیورسٹی نے اعلیٰ تعلیم نے اسکالر شپ مل گیا چنانچہ 1946ء میں وہ کیمبرج چلے گئے جہاں سے انہوں نے نظری طبعیات میں پی ایچ ڈی کیا۔ 1951ء میں وہ وطن واپس آئے اور پہلے گورنمنٹ کالج لاہور اور پھر پنجاب یونیورسٹی میں تدریس کے فرائض انجام دینے لگے۔ 1954ء میں وہ دوبارہ انگلستان چلے گئے وہاں بھی وہ تدریس کے شعبے سے وابستہ رہے۔ 1964ء میں ڈاکٹر صاحب نے اٹلی کے شہر ٹریسٹ میں انٹرنیشنل سینٹر برائے نظری طبعیات کی بنیاد ڈالی۔ 1979ء میں انہیں طبعیات کا نوبیل انعام عطا کیا گیا۔ وہ یہ اعزاز حاصل کرنے والے پہلے پاکستانی تھے۔ حکومت پاکستان نے انہیں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی، ستارۂ امتیاز اور نشان امتیاز کے اعزازات عطا کئے تھے۔ انہیں دنیا کی 36یونیورسٹیوں نے ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگریاں عطا کی تھیں اس کے علاوہ انہیں 22ممالک نے اپنے اعلیٰ اعزازات سے نوازا تھا، جن میں اردن کا نشان استقلال، وینزویلا کا نشان اندرے بیلو ، اٹلی کا نشان میرٹ ، ہاپکنز پرائز، ایڈمز پرائز، میکسویل میڈل ، ایٹم پرائز برائے امن، گتھیری میڈل، آئن اسٹائن میڈل اور لومن سوف میڈل سرفہرست ہیں۔
ڈاکٹر عبدالسلام نے نظری طبعیات اور تیسری دنیا کی تعلیمی اور سائنسی مسائل کے حوالے سے 300 سے زیادہ مقالات تحریر کئے جن میں سے چند کتابی مجموعوں کی صورت میں بھی شائع ہوچکے ہیں۔
ڈاکٹر عبدالسلام نے 21 نومبر 1996ء کو لندن میں وفات پائی وہ ربوہ میں آسودۂ خاک ہیں
——————————–

پاکستان رائٹرز گلڈ کا قیام عمل میں آیا

٭29 جنوری 1959ء کو کراچی کے کے جی اے ہال میں پاکستان بھر سے آئے ہوئے 212 ادیبوں کا ایک کنونشن شروع ہوا جو تین دن تک جاری رہا اس کنونشن میں پاکستان کے ادیبوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے ایک انجمن کا قیام عمل میں لایا گیا جس کا نام پاکستان رائٹرز گلڈ رکھا گیا۔
پاکستان رائٹرز گلڈ کے پہلے اجلاس کی صدارت بنگالی زبان کے معروف شاعر کوی جسیم الدین نے کی جب کہ اس میں خطبہ استقبالیہ پیش کرنے کا اعزاز اردو کے مشہور ادیب شاہد احمد دہلوی کے حصے میں آیا کنونشن کی افتتاحی تقریر مرزا محمد سعید نے کی۔
کنونشن کے آخری اجلاس کی جو 31 جنوری 1959 ء کو منعقد ہوا۔ صدارت مولوی عبدالحق نے کی اس اجلاس میں صدر مملکت جنرل ایوب خان نے ایک عام مہمان کی طرح شرکت کی۔ اس اجلاس میں رائٹرز گلڈ کا منشور پڑھنے کا اعزاز ابن الحسن کے حصے میں آیا جسے اتفاق رائے سے منظور کرلیا گیا۔
پاکستان رائٹرز گلڈ پاکستان کے ادیبوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے قائم ہوئی تھی چنانچہ اس کی بڑی پزیرائی ہوئی پاکستان کے طول و عرض کے قریباً سبھی معتبر ادیب اور شاعر اس ادارے کے رکن بنے۔ رائٹرز گلڈ کے زیر اہتمام متعدد ادبی انعامات کا آغاز بھی ہوا جو ملک کے سب سے بڑے اور سب سے اہم ادبی انعام قرار پائے۔
لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اس تنظیم کی فعالیت کم ہوتی چلی گئی‘ ان دنوں یہ ادارہ برائے نام ہی زندہ ہے۔
—————————–

مقصود احمد کے 99 رنز اورمیران بخش کا منفرد اعزاز

٭یہ 29 جنوری 1955ء کا واقعہ ہے۔لاہور میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ٹیسٹ میچ جاری تھا۔ ایسے میں جب پاکستان کے کھلاڑی مقصود احمد کا انفرادی اسکور 99 رنز پر پہنچا تو انہیں گپتے کی گیند پر تھمانے نے اسٹمپڈ کردیا۔ مقصود احمد کے آئوٹ ہونے کی خبر سن کر نواب شاہ میں ایک شخص دل کا دورہ پڑنے سے ہلاک ہوگیا۔جبکہ ملک کے کئی حصوں سے کئی افراد کے بے ہوش ہونے کی خبریں بھی موصول ہوئیں۔
مقصود احمد ٹیسٹ کرکٹ میں 99 رنز کے اسکور پر آئوٹ ہونے والے پاکستان کے پہلے کھلاڑی تھے۔وہ اس کے بعد بھی کبھی سنچری اسکور نہیں کرسکے۔ وہ دنیا کے ان 9 کھلاڑیوں میں شامل ہیں جن کا ٹیسٹ کرکٹ میں زیادہ سے زیادہ انفرادی اسکور 99 رنز ہے۔ ان کھلاڑیوں میں پاکستان کے عاصم کمال بھی شامل ہیں۔
اسی ٹیسٹ میچ میں پاکستان کی ٹیم میں ایک نیا کھلاڑی میران بخش بھی شامل تھا۔ جس کی عمراس ٹیسٹ میچ کے آغاز کے وقت 47 سال 284 دن تھی یوں میران بخش کو یہ منفرد اعزاز حاصل ہوا کہ انہوں نے پاکستان میں سب سے زیادہ عمر میں اپنا پہلا ٹیسٹ میچ کھیلا۔اس پہلے ٹیسٹ میں میران بخش نے 86 رنز کے عوض 2 وکٹیں حاصل کیں اور ایک رن بناکر ناٹ آئوٹ رہے

وقار زیدی ۔ کراچی

SHARE

LEAVE A REPLY