٭ کرکٹر ڈاکٹر جہانگیر خان یکم فروری 1910ء کو جالندھر میں پیدا ہوئے

0
114

ڈاکٹر جہانگیر خان کی پیدائش

٭ مشہور ٹیسٹ کرکٹر ڈاکٹر جہانگیر خان یکم فروری 1910ء کو جالندھر میں پیدا ہوئے۔
انہیں یہ اعزاز حاصل تھا کہ وہ ٹیسٹ کرکٹ میں ہندوستان کی نمائندگی کرنے والی پہلی کرکٹ ٹیم کے رکن تھے۔ اس ٹیم نے اپنا پہلا ٹیسٹ 25 جون 1932ء کو لارڈز کے میدان میں کھیلا تھا۔ اس ٹیم میں ڈاکٹر جہانگیر خان بطور بائولر شامل کئے گئے تھے اور انہوں نے اس میچ میں 4 وکٹیں حاصل کی تھیں۔ ڈاکٹر جہانگیر خان کا ٹیسٹ کیریئر بہت مختصر رہا۔ انہوں نے کل 4 ٹیسٹ کھیلیں جن میں 5.57 کے اوسط سے 39 رنز اسکور کئے اور 63.75 کی اوسط سے 4 وکٹیں حاصل کیں اور 4 کیچ بھی لئے۔
تاہم ڈاکٹر جہانگیر خان کو دنیائے کرکٹ میں زندہ جاوید کرنے والا واقعہ ایک چڑیا کی ہلاکت کا واقعہ تھا۔ یہ تاریخی واقعہ 4 جولائی 1936ء کو پیش آیا تھا۔ جہانگیر خان کیمبرج یونیورسٹی کی جانب سے ایم سی سی کے خلاف میچ میں حصہ لے رہے تھے۔ ایم سی سی کی ٹیم بیٹنگ کررہی تھی۔ جہانگیر خان نے اسٹرائیکنگ اینڈ پر کھڑے ہوئے بیٹسمین ٹی این پیئرس کو بائولنگ کرانے کے لئے دوڑنا شروع کیا جیسے ہی گیند جہانگیر خان کے ہاتھ سے فضا میں بلند ہوئی ایک چڑیا گیند کے راستے میں آگئی اور اس سے ٹکرا کر وہ چڑیا وہیں ہلاک ہوگئی۔ آج تک وہ تاریخی گیند اور چڑیا کا حنوط شدہ جسم لارڈز گرائونڈ کے لانگ روم میں محفوظ ہے۔
ڈاکٹر جہانگیر خان کے صاحبزادے ماجد خان اور دو بھانجوں جاوید برکی اور عمران خان نے بھی ٹیسٹ کرکٹ میں پاکستان کی نمائندگی کی اور انہیں پاکستان کی کپتانی کا اعزاز بھی حاصل ہوا۔ ان کے علاوہ ڈاکٹر جہانگیر خان کے پوتے اور ماجد خان کے فرزند بازید خان بھی ٹیسٹ کرکٹ میں پاکستان کی نمائندگی کرچکے ہیں۔
٭23جولائی 1988ء کو ڈاکٹر جہانگیر خان لاہور میں وفات پاگئے۔
—————————

نور محمد لاشاری کی وفات

٭یکم فروری 1997ء کو پاکستان ٹیلی وژن کے مشہور فنکار نور محمد لاشاری کراچی میں وفات پاگئے۔
نور محمد لاشاری بھان سعید آباد کے مقام کوٹ لاشاری کے رہنے والے تھے۔ ابتدائی تعلیم کے حصول کے بعد وہ محکمہ تعلیم سے وابستہ ہوگئے اور تدریس کے فرائض انجام دینے لگے۔ انہوں نے استاد بخاری کی ناٹک منڈلی سے اپنی فنی زندگی کا آغاز کیا۔ ان کی ابتدائی اسٹیج ڈراموں میں بیجل کا نام سرفہرست ہے۔ وہ ایک طویل عرصے تک ریڈیو پاکستان حیدرآباد سے وابستہ رہے اور صداکاری کے جوہر دکھاتے رہے۔ 1967ء میں جب کراچی میں ٹیلی وژن اسٹیشن قائم ہوا تو انہوں نے ہفتہ وار سندھی ڈرامے ناٹک رنگ سے اپنی اداکاری کا آغاز کیا۔ وہ پاکستان ٹیلی وژن کے سینئر اداکاروں میں شمار ہوتے تھے۔ ان کے معروف ڈرامہ سیریلز میں جنگل،دیواریں، چھوٹی سی دنیا، چاند گرہن، دشت اور ماروی کے نام سرفہرست ہیں۔
—————————-
ظہور احمد کی وفات
٭یکم فروری 2009ء کو اسٹیج ،ریڈیو اور ٹیلی وژن کے معروف فنکار ظہور احمد اسلام آباد میں وفات پاگئے اور وہیں آسودۂ خاک ہوئے۔
ظہور احمد 18 ستمبر 1934ء کو ناگ پور بھارت میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے جن اسٹیج ڈراموں میں کام کیا۔ ان میں نظام سقّہ اور تعلیم بالغان کے نام سرفہرست ہیں جبکہ ان کی فلموں میں ہیرا اور پتھر، ارمان، بادل اور بجلی، شہر اور سائے، مسافر، دل والے اور پیسہ بولتا ہے کے نام شامل ہیں۔ ظہور احمد نے پاکستان ٹیلی وژن کے جن ڈراموں میں یادگار کردار کئے ان میں شریف آدمی، مولا پہلوان، جس کا کوئی نام نہ تھا، خدا کی بستی، دیواریں، چنگیز خان، نور الدین زنگی، پردیس،آہن اور آخری چٹان کے نام خصوصاً قابل ذکر ہیں۔
———————

SHARE

LEAVE A REPLY