امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سپریم کورٹ کے جسٹس انتونین اسکالیا کی وفات کے بعد سے خالی ہونے والی نشست پر کولوراڈو کے وفاقی جج نیل گورسچ کو عدالتِ عظمیٰ کا جج نامزد کیا ہے۔

جسٹس انتونین کا انتقال گزشتہ سال فروری میں ہوا تھا۔

صدر ٹرمپ نے گورسچ کی نامزدگی کا اعلان منگل کو وائٹ ہاؤس میں منعقد ہونے والی ایک تقریب میں کیا، جو ٹی وی پر براہ راست نشر کی گئی۔

اس موقع پر صدر ٹرمپ نے گورسچ کا تعارف کرواتے ہوئے کہا کہ وہ ایسے جج ہیں جن کی ملک کو اشد ضرورت ہے اور انہوں نے کہا کہ ان کی قابلیت کے بارے میں کوئی شک نہیں ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ گورسچ “باکمال ذہنی صلاحیت، بے مثال قانونی تعلیم، اور آئین کی اس کے متن کے مطابق تشریح کرنے کا عزم رکھتے ہیں۔”

سپریم کورٹ کے جج کے طور پر گورسچ کی نامزدگی کی توثیق امریکی سینیٹ سے ضروری ہے۔ وائٹ ہاؤس کے ترجمان شان سپائسر نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ اس نامزدگی سے متعلق کانگرس کے ارکان کے لیے بریفنگ کا ایک سلسلہ شروع کرنا کا ارادہ رکھتی ہے۔

ریپبلکنز کو سینیٹ میں 48 کے مقابلے میں 52 ووٹوں کی برتری حاصل ہے۔ دوسری طرف ڈیموکریٹ سینیٹر چک شومر نے کہا کہ ان کو اس نامزدگی کے بارے میں “شدید تحفظات” ہیں اور انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت اس بات پر اصرار کرے گی کہ نامزد (جج) سینیٹ سے توثیق کے لیے 60 ووٹ حاصل کریں۔

سینٹ میں توثیق کا عمل اس حوالے سے متنازع ہو سکتا ہے کیونکہ گزشتہ سال سابق صدر براک اوباما نے سپریم کورٹ کے جج کی خالی ہونے والی نشست کے لیے جس جج کو نامزد کیا تھا، ریپبلکنز نے اُن کی نامزدگی کی توثیق کی سماعت شروع کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

سینیٹر ٹیڈ کروز نے کہا کہ سینیٹ کو اس (نامزدگی کی توثیق) کی طرف تیزی سے پیش رفت کرنی چاہیے اور ان کے خیال میں گورسچ کی توثیق ہو جائے گی۔

SHARE

LEAVE A REPLY