بائیس لاپتہ ہندوستانیوں کی داعش میں شمولیتب

0
105

ہندوستان کے 22 لاپتہ شہریوں کی جانب سے افغانستان جاکر داعش میں شمولیت اختیار کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔

افغان نیوز ویب سائٹ خاما کی ایک رپورٹ کے مطابق مذکورہ لاپتہ ہندوستانی شہریوں نے رواں سال یکم جولائی کو داعش میں شمولیت اختیار کی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ انکشاف گذشتہ ماہ نئی دہلی ایئر پورٹ سے گرفتار ہونے والے 29 سالہ خاتوں نے دوران تفتیش کیا۔

گرفتار خاتوں کے مطابق داعش میں شمولیت اختیار کرنے والوں میں 13 مرد اور 6 خواتین جبکہ 3 بچے بھی شامل ہیں، مذکورہ افراد ہندوستان کی ریاست کریالہ کے مختلف اضلاع سے مئی اور جولائی میں لاپتہ ہوئے تھے۔

افغان میڈیا کے مطابق مذکورہ تفتیش سے منسلک نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) نے بتایا کہ لاپتہ ہونے والے افراد ممبئی ایئر پورٹ کے ذریعے پہلے کویت، دبئی اور دیگر خیلجی ممالک گئے، جہاں سے انھوں نے براستہ ایران افغانستان کا سفر کیا۔

واضح رہے کہ یہ انکشاف ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب داعش نے مبینہ طور پر افغان طالبان سے امن معاہدہ اور ملک میں اپنے قدم مضبوط کرلیے ہیں۔

اس سے قبل افغانستان میں موجود اتحادی افواج کے حکام کا کہنا تھاکہ مذکورہ گروپ کو عراق اور شام میں موجود ان کے سربراہان نے خود مختار مقامی گروپ قرار دے دیا ہے جو مقامی طور پر افغان صوبے ننگرہار میں کارروائیوں میں مصروف ہے۔

خیال رہے کہ داعش میں یورپ سے نوجوانوں کی بڑی تعداد کی شمولیت کی رپورٹس سامنے آتی رہی ہیں، تاہم اب داعش ایشیائی ممالک کی جانب توجہ دے رہی ہے۔

گذشتہ سال ہندوستان کے ایک ہزار سے زائد علماء نے ایک فتویٰ جاری کیا تھا جس میں داعش کو غیر اسلامی قرار دیا گیا تھا.

ہندوستان نے گزشتہ سال دسمبر 2014 میں شدت پسند تنظیم پر پابندی عائد کر کے داعش کو کالعدم تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا تھا۔

گذشتہ روز ایک اعلیٰ امریکی کمانڈر کا کہنا ہے کہ افغانستان میں سرگرم شدت پسند تنظیم داعش میں موجود 70 فیصد جنگجوؤں کا تعلق کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے ہے جو ملک سے بے دخل کیے جانے کی بناء پر داعش کا حصہ بن گئے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل یورپ سے آنے والی خبروں میں دعویٰ کیا جارہا تھا کہ داعش کے جنگجوؤں سے ملاقات اور تنظیم میں شمولیت کیلئے سیکڑوں نوجوان لڑکیاں شام اور عراق کے ان علاقوں کا رخ کررہی ہیں جن پر داعش کا قبضہ ہے۔

ان یورپی ممالک میں برطانیہ، فرانس، جرمنی، اٹلی اوردیگر شامل ہیں۔

یہ بھی یاد رہے کہ داعش میں شمولیت کیلئے نوجوان لڑکیوں کے ساتھ ساتھ نوجوان لڑکوں کی بھی بڑی تعداد نے شام اور عراق کا رخ کیا ہے، اور اقوام متحدہ کے حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ ‘عراق و شام میں 30 ہزار غیر ملکی جنگجو موجود’ ہیں۔

داعش کے جنگجو انٹر نیٹ پر موجود سماجی رابطوں کی ویب سائٹس کی مدد سے نوجوانوں کو اپنی انتہا پسند تعلیمات کی جانب راغب کررہے ہیں۔

SHARE

LEAVE A REPLY