لیجئے ،پچھلے دِنوں ننگے بھوکے بھارتیوں کی لوک سبھا میں بھارتی وزیرخزا نہ ارون جینلی نے آئندہ مالی سال برائے یکم اپریل تا 31مارچ 2017-18 کابجٹ پیش کردیاگیا ہے حیرت انگیز طور پرجس میں اُنہوں نے اپنے بھارتیوں کی خستہ حالی یکسر نظر انداز کرتے ہوئے بھارتی دفاعی اور فوجی بجٹ میں آنکھیں بند کرکے یکمشت 10فیصدکا اضافہ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے سینہ ٹھونک کر اِسے اپنے مفلوک ا لحال بھارتیوں کو زندہ رکھنے کی نوید دینے کابھی عندیہ دیااور کہا کہ اِس مالی سال میں بھارتی بجٹ کا کل حجم 214 کھرب 70ارب روپے تو ہے مگر قسم ہے گنگاجمنا کی اوربھگوان کی کرپا سے ہم نے اپنے عوام کو زندہ رکھنے اور اِن کی ایک پل بھی نہ رکنے والی ترقی و خوشحالی کے خاطر اِس بجٹ میں سے فوجی بجٹ کے لئے27کھرب 40ارب روپے (تقریبا ساڑے 27ارب ) رکھے ہیں(آج جس کی مالیت پاکستانی روپوں میں لگ بھگ 42 کھرب 59ارب روپے بنتی ہے) ۔

جبکہ اِس پر اپنے جوشیلے انداز سے ارون جینلی کا کہناتھاکہ بھارتی عوام کویہ سُن کر بھی خوش ہوگی اورآج بھارت سمیت دنیا کے جس کونے میں بھی جیسا بھی بھارتی ہوگاوہ بھی بھارتی عوام کی طرح خوشی سے دھمال اور بھنگڑے ڈالے گا کہ صرف یہ بھارتی ہردلعزیز وزیراعظم نریندر مودی جی کی حکومت کا کارنامہ ہے کہ اُسے نے عوام کی حالتِ زار کی فکر کئے بغیر اپنے عوام کو زندہ رکھنے والے ہلدی ملے پانی کے ساتھ چنے کی دال اور سُوکھی روٹی کھا کر سرحدوں پر اپنے وزن سے زیادہ بھاری بندوقیں اُٹھاکر ڈیوٹیاں دینے والے بھارتی فوجیوں کی پنشن کے86ہزار کروڑروپے شامل کئے نہیں ہیں یعنی یوں یہ کہ حکومت نے مجموعی بجٹ کا 12.78فیصددفاع کے لئے مختص کیا ہے اِس سے نئے جنگی جہاز جدید اسلحہ اور بہت کچھ خریدا جا ئے گا جب یہ سب کچھ کرلیا جا ئے گا تو پھر یقینی طور پر اِس کے بعد بھارتی لو ک سبھا میں نریندرمودی کے ہمراہ بھارتی غریب عوام کے منتخب نمائندے جو اپنے غریب عوام کی قسمت بدلنے اور اِن کے بنیادی حقوق اور بنیادی ضرورتوں جیسے اچھی و سستی خوراک ، بہترین تعلیم ، بہتری اور جدید سفری سہولیات ، جدید اور سستے علاج و معالج روٹی ، کپڑااور مکان جیسی کی بنیادی سہولیات ہر شہر اور گاو ¿ں کے بھارتیوں کی دہلیز تک پہنچانے اور بندوبست کرنے کا پروگرام لے کر آئے تھے وہ یہ سب کچھ بھولا کر بس امریکا اور اسرائیل و فرانس سے جدید جنگی ہتھیاروں کی خریداری میں لگے ہو ئے ہیں اور جب ایک سال بعد نیا مالی بجٹ پیش کیا جا ئے گا تو پھر سب کے سب شرابیں پی کر خوشی سے نا چیں گے گا ئیں گے اور خوشیاں منا ئیں گے کہ ہم نے اپنے بھارتی عوام کو کس طرح اِن کی ترقی اور خوشحالی کے خواب دکھا کر بے وقوف بنایا اور بجٹ سے رقم نکال کر بھاری تعداد میں جنگی سازوسامان خریدااور اِس پر اپنا اپنا کمیشن بھی کمایا جبکہ مگر اُدھر دوسری جا نب برسوں سے بھوک اور افلاس کی دلدل میں دھنستے چلے جا نے والے کمزور اور بے خون کے لاغر بھارتی اپنی قسمت پر روتے رہیں گے اور پھر یہی ہیں گے کہ ہم تو پہلے ہی ننگے بھوکے اور غربت کی وجہ سے مررہے ہیں اِس حال میں ہمیں پہنچانے والے ما ضی اور حال حکمرانوں ، سیاستدانوں اور بھارتی افواج کے سربراہان کو جنگ نہ لڑ کر بھی بس اپنے جنگی ہتھیاروں کی بدولت خطے میں اپنی چوہدراہٹ قا ئم کرنے کی پڑی ہوئی ہے تو پھر ایسے حکمرانوں اور سیاستدانوں اور بھارتی افواج کے سربراہوں کی دہت تیری کی ..

اِس سارے منظر اور پس منظر میں راقم الحرف سخت تشویش لاحق ہورہی ہے اور اِس کا یہ کہنا ہے کہ آج ہمارے خودساختہ ازلی دُشمن اور پڑوسی مُلک بھارت نے اپنے دفاعی بجٹ میں 10فیصد تو اضافہ کردیاہے مگر یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب ایک طرف ننگے بھوکے اور افلاس کی دلدل میں غرق غریب بھا رتیوں کا شمار دنیا کے غریب ترین ممالک کے سب سے خستہ حال با شندوں میں ہوتا ہے تو پھر بھارتی حکمران اپنے عوام کے حالتِ زندگی بہتر کرنے کی بجا ئے اِنہیں ننگا بھوکا رکھ کر مہنگے اور جدید جنگی ہتھیار کی دوڑ میں آگے نکلنے کے لئے کیونکہ پا گل ہو ئے جا رہے ہیں حا لا نکہ بھارت میں بھوک اور غربت کی وجہ سے بھارتیوں کی اموات کی شرح بھی خطے کے دیگر ممالک کی نسبت سب سے زیادہ ہے تو پھر بیچارے پہلے سے بھوکے ننگے مرتے کٹے جسم فروشی کا دھندا کرتے بھارتیوں کو روٹی اورکپڑے دے کر اِنہیں زندگی عطا کرنے کے انتظامات کو یکسر نظر انداز کرکے بھارتی حکمران بھلا کیسے بھارتیوں کومہنگے اور جدید جنگی ہتھیار کے حصول کی نوید سُنا کر زندہ رکھ سکتے ہیں؟؟ بڑے افسوس کی بات یہ ہے کہ نہ تو کبھی ما ضی کے بھارتی حکمرانو اور سیاستدانو کو اپنے افلاس زدہ مسکین اور بدحال عوام نظر آئے اور اِسی طرح آج نہ ہی موجودہ بھارتی جنگی جنون میں مبتلا پاگل نفسیاتی وزیراعظم نریندرمودی کو اپنے غربت کے باعث لاغر اور کمزورجسموں والے غریب عوام دِکھا ئی دے رہے ہیں آج اگر اِسے کچھ سُجھائی اور دِکھائی دے رہاہے تو بس اُسے بھی اپنے پریشان حال غریب عوام سے زیادہ اپنے سرپر سوار جنگی جنون ہی دِکھا ئی دے رہاہے جِسے تقویت دینے کے خاطر ہی اِس جنونی مودی نے اپنی امریکا اور اسرائیل سے گٹھ جوڑقا ئم کرلی ہے جس کا مقصد صرف یہی ہے کہ اِن دنیا کے بدنامِ زما نہ دہشت گرد اعظموں سے اپنی دوستی بڑھا ئی جا ئے اور امریکا اور اسرائیل سے جنگی سازوسامان خریدے جا ئیں اور پاکستان کو جنگی دھمکیاں دے کر اِسے دبا کر رکھا جا ئے یوں خطے میں اپنی چودہداہٹ قا ئم کی جا ئے اِس صورتِ حال میں پاکستان سمیت خطے کے دیگر ممالک کے امن پسند باشندوں کو سمجھ نہیں آرہاہے کہ بھارتی وزیراعظم نریندرمودی المعروف موذی، ہندوستانی سیاستدانوں، بھارتی افواج و میڈیا اور ننگے بھوکے افلاس زدہ بھارتیوں کا یہ جنگی جنون بھارت سمیت سارے خطے کو کِدھر لے کر جا ئے گا اَب یہ تو آ نے والا وقت ہی بتا ئے گا کہ کم بخت خطے میں مودی اور بھارتیوں کے سر سے اُونچا ہونے والا جنگی جنون خود بھارت کے لئے بھی مشکلات کا باعث بنے گا۔

SHARE

LEAVE A REPLY