چوہدری رحمت علی کی وفات

٭3 فروری 1951ء کو لفظ پاکستان کے خالق چوہدری رحمت علی نے وفات پائی۔
چوہدری رحمت علی 16 نومبر 1897ء کو مشرقی پنجاب کے ضلع ہوشیار پور میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے پہلی مرتبہ 1915ء میں اسلامیہ کالج لاہور میں بزم شبلی کے افتتاحی اجلاس میں یہ تجویز پیش کی تھی کہ ہندوستان کے شمالی علاقوں کو ایک مسلم ریاست میں تبدیل کردیا جائے۔ 1929ء میں وہ انگلستان چلے گئے جہاں 28 جنوری 1933ء کو انہوں نے ایک کتابچہ نائو آر نیور شائع کیا۔ اس کتابچے میں انہوں نے برصغیر کے مسلمانوں کے لیے ایک علیحدہ وطن کا تصور پیش کیا اور اس کا نام ’’پاک ستان‘‘ تجویز کیا یہ پاک ستان آگے چل کر پاکستان بن گیا۔
چوہدری رحمت علی کے خواب کو 14 اگست 1947ء کو تعبیر مل گئی مگر وہ پاکستان کی جغرافیائی حیثیت سے مطمئن نہ تھے۔ 1948ء میں وہ پاکستان تشریف لائے لیکن قائد اعظم کی وفات کے بعد مسلم لیگی قیادت کے رویہ سے مایوس ہوکر واپس انگلستان لوٹ گئے جہاں انہوں نے 3 فروری 1951ء کوکیمبرج ایک ہسپتال میں غریب الوطنی‘ ناداری اور بیماری کے عالم میں وفات پائی اور وہیں آسودہ خاک ہوئے۔ لفظ پاکستان کے خالق کو دفن ہونے کے لیے پاکستان میں دو گز زمین بھی نہ مل سکی۔
——————–

نواب بہادر یار جنگ کی پیدائش

٭ جدوجہد آزادی کے نامور رہنما نواب بہادر یار جنگ کا اصل نام محمد بہادر خان تھا اور وہ 3 فروری 1905ء کو حیدرآباد دکن میں پیدا ہوئے تھے۔
وہ ایک شعلہ بیان مقرر تھے۔ 1927ء میں انہوں نے مجلس تبلیغ اسلام کے نام سے ایک جماعت قائم کی بعدازاں وہ علامہ مشرقی کی خاکسار تحریک اور مجلس اتحاد المسلمین کے سرگرم کارکن رہے۔ وہ آل انڈیا مسلم لیگ کے اہم رہنمائوں میں شامل تھے اور قائداعظم محمد علی جناح کے قریبی رفقا میں شمار ہوتے تھے۔ مارچ 1940ء میں آل انڈیا مسلم لیگ کے جس اجلاس میں قرارداد پاکستان منظور ہوئی اس میں آپ نے بڑی معرکہ آرا تقریر کی تھی۔ نواب بہادر یارجنگ آل انڈیا اسٹیٹس مسلم لیگ کے بانی اور صدر بھی تھے۔ آپ کو قائد ملت اور لسان الامت کے خطابات سے نوازا گیا تھا۔
نواب بہادر یار جنگ 25 جون 1944ء کو حیدر آباد دکن میں وفات پا گئے۔
—————–

استاد اللہ رکھا خان طبلہ نواز کی وفات

٭3 فروری 2000ء برصغیر کے مشہور طبلہ نواز استاد اللہ رکھا خان قریشی کی تاریخ وفات ہے۔
استاد اللہ رکھا خان 29 اپریل 1919ء کو جموں میں پیدا ہوئے تھے۔ 12 برس کی عمر میں طبلہ بجانے کی تربیت کا آغاز ہوا۔ وہ موسیقی کے پنجاب گھرانے کے نامور طبلہ نواز میاں قادر بخش کے شاگرد تھے۔ استاد اللہ رکھا خان نے طبلہ نوازی کا آغاز آل انڈیا ریڈیو کے لاہور اسٹیشن سے کیا تاہم بعد میں وہ آل انڈیا ریڈیو کے بمبئی اسٹیشن میں بطور اسٹاف آرٹسٹ ملازم ہوگئے۔ 1943ء سے 1948ء کے دوران وہ فلمی دنیا سے بھی منسلک رہے تاہم بعد میں انہوں نے مشہور موسیقاروں کی سنگت کا آغاز کیا۔ انہیں جن موسیقاروں کی سنگت کا اعزاز حاصل ہوا ان میں استاد بڑے غلام علی خان، استاد علاء الدین خان، استاد وسنت رائے اورنامور ستار نواز استاد روی شنکر کے نام سرفہرست ہیں۔ استاد اللہ رکھا خان نے دنیا بھر میں اپنے فن کا مظاہرہ کیا اور طبلہ نوازی کے فن کو مقبول بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کے صاحبزادے استاد ذاکر خان کا شمار بھی دنیا کے مقبول طبلہ نوازوں میں ہوتا ہے۔ بھارتی حکومت نے انہیں پدم شری کا اعزاز عطا کیا تھا۔
————————

ام کلثوم کی وفات

٭3 فروری 1975ء کو عالم اسلام کی عظیم گلوکارہ ام کلثوم وفات پاگئیں۔
ام کلثوم31 دسمبر 1898ء کو مصر کے ایک کسان گھرانے میں پیدا ہوئی تھیں۔ 1920ء کی دہائی میں ان کا شمار عرب کی نامور گلوکارائوں میں ہونے لگا۔ 1934ء میں انہوں نے ریڈیو قاہرہ سے اپنا پہلا پروگرام پیش کیا جس کے باعث ان کی آواز ساری عرب دنیا میں گونجنے لگی۔ ام کلثوم کی آواز میں ایک ایسا کھرج تھا جو بہت کم لوگوں کو ودیعت ہوا ہے۔ اپنے بچپن میں انہوں نے افلاس کے دن دیکھے تھے اور بدوئوں اور دیہات میں بسنے والے مصریوں کے لوک گیت بھی سنے تھے۔ ام کلثوم نے اپنے بچپن کے تجربات کو اپنی آواز میں سمویا یوں عرب کلاسیکی موسیقی کا وہ دور جو صدیوں سے فراموش چلا آرہا تھااسے نشاۃ الثانیہ عطا کیا۔ ام کلثوم نے عربی کے قدیم اور کلاسیکی راگوں میں عربی کے قدیم اور لوک گیتوں کو گا کرلازوال شہرت حاصل کی۔ام کلثوم کے مداحوں میں شاہ فاروق اور صدر ناصر شامل تھے۔ شاہ فاروق نے انہیں مصر کا سب سے بڑا اعزاز الکمال میڈل عطا کیا تھا‘ انہیں بنت نیل‘ کوکب مشرق‘ بلبل صحرا اور صوۃ العرب جیسے خطابات بھی ملے تھے۔
ام کلثوم نے شاعر مشرق علامہ اقبال کی نظموں شکوہ جواب شکوہ کا عربی ترجمہ بھی گایا تھا اور یوں علامہ اقبال کا پیغام دنیائے عرب تک پہنچایا تھا۔ شکوہ جواب شکوہ کا یہ منظوم عربی ترجمہ صاوی شعلان نے کیا تھا اور اس کی موسیقی ریاض الضباطی نے ترتیب دی تھی۔ام کلثوم کی اس خدمت کے اعتراف کے طور پر 18 نومبر 1967ء کو حکومت پاکستان نے انہیں ستارہ امتیاز عطا کرنے کا اعلان کیا ۔ 2 اپریل 1968ء کوقاہرہ میں منعقد ہونے والی ایک خصوصی تقریب میں مصر میں پاکستان کے سفیر سجاد حیدر نے انہیں یہ اعزازعطا کیا۔
دماغ کی شریان پھٹ جانے کے باعث ام کلثوم 3 فروری 1975ء کو وفات پاگئیں اور یوں یہ آواز ہمیشہ کے لیے خاموش ہوگئی۔

وقار زیدی ۔ کراچی

SHARE

LEAVE A REPLY