یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

اگر تو آپ رات گئے تک جاگنے اور صبح جلد اٹھنے کے عادی ہیں تو اس کو فوری ترک کردیں کیونکہ یہ چیز ذیابیطس ٹائپ ٹو کا خطرہ 45 فیصد تک بڑھا دیتی ہے۔

ویسے تو نیند کی کمی کئی دیگر امراض کا باعث بھی بنتی ہے مگر اس کی وجہ سے ذیابیطس کا خطرہ بہت زیادہ ہوجاتا ہے۔

ہاورڈ یونیورسٹی کے ٹی ایچ چن اسکول آف پبلک ہیلتھ کی تحقیق کے دوران ایک لاکھ سے زائد خواتین کی نیند کے اوقات کا جائزہ 2000 سے 2011 تک لیا گیا۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ سونے میں مشکل یا کم نیند کے جسمانی طور پر اثرات مرتب ہوتے ہیں جیسے تناﺅ کا باعث بننے والے ہارمون کی سطح بڑھ جاتی ہے جو کہ انسولین کی حساسیت کا بڑھاتا ہے۔

اسی طرح نیند کی کمی ذہنی تناﺅ کا بھی خطرہ بڑھاتی ہے جو کہ بڑھ کر ذیابیطس کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ چھ گھنٹے یا اس سے کم نیند لینے والے افراد جو خراٹے لینے کے عادی بھی ہو، میں ذیابیطس کا خطرہ 400 فیصد تک بڑھ جاتا ہے یا یوں کہا جائے کہ اس مرض کا شکار ہونا یقینی ہوجاتا ہے۔

محققین کا کہنا تھا کہ نیند کا معیار اور وقت ذیابیطس کی روک تھام کے لیے بہت اہمیت رکھتا ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY