وزیرداخلہ چوہدری نثار نے سانحہ کوئٹہ ازخود نوٹس کیس میں اپنا جواب سپریم کورٹ میں جمع کروا دیا ہے۔جواب میں کہا گیا کہ چودھری نثار کی سربراہی میں وزارت داخلہ نے دہشت گردی کے خاتمے کےلیے بے پناہ اقدامات کیے ، سانحہ کوئٹہ کمیشن نے وزارت داخلہ سے متعلق آبزرویشن میں حقائق سامنے نہیں رکھے ، اعتراضات کےلیے مکمل ریکارڈ فراہم نہیں کیا گیا۔

چوہدری نثار کے وکیل مخدوم علی کی جانب سے 64صفحات پر مشتمل جواب سپریم کورٹ میں جمع کرایا گیا جس میں کہا گیا کہ کوئٹہ کمیشن نے سانحہ کوئٹہ کے حوالے سے وزارت داخلہ کو ذمہ دار قرار دیا تھا،عدالت نے وزارت داخلہ سے 6 فروری تک جواب طلب کیا تھا۔6 اکتوبر 2016 میں سپریم کورٹ نے سانحہ کوئٹہ پہ کمیشن کی تشکیل کا حکم جاری کیا تھا۔

جواب کے متن میں یہ بھی کہا گیا کہ اعتراضات دائر کرنے کے لیے وزارت داخلہ کو رپورٹ سے منسلک مکمل ریکارڈ فراہم نہیں کیا گیا ، کوئٹہ کا واقعہ ایک قومی سانحہ ہے جسکی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ملک میں تمام سیکیورٹی ادارے پوری ذمہ داری کیساتھ کام کر رہے ہیں ۔

جواب میںمزیدکہا گیاہے کہ پاک فوج، وزرات داخلہ اور وزیر داخلہ چودھری نثار نے ملکر دہشت گردی کو ختم کرنے اور لا اینڈ آرڈر کی صورت حال بہتر بنانے کے لیے کام کیا، کمیشن رپورٹ میں بلوچستان حکومت نے وزرات داخلہ کو جماعت الاحرار اور لشکر جھنگوی کو کالعدم قرار دینے کا کہاگیا۔ بلوچستان حکومت کی جانب سے صرف ایف آئی آر کا اندراج کرایا گیا۔ بلوچستان حکومت نے متعلقہ شدت پسند تنظیموں کو کالعدم قرار دینے کے حوالے سے نہیں کہا۔

وزارت داخلہ نے اگست 2016 کے واقعے کے بعد دہشت گرد تنظیموں کے خلاف فوری ایکشن لیا اور دہشت گرد تنظیموں کو کالعدم قرار دینے کا عمل شروع کیا۔ شدت پسند تنظیموں کو کالعدم قرار دینے اور مکمل پابندی لگانے کے عمل کو تین ماہ لگے۔دہشت گرد تنظیم پر پابندی ایک دم نہیں لگائی جا سکتی، طریقہ کار فالو کرنا پڑتا ہے۔

وزارت داخلہ میڈیا، سوشل میڈیا یا دہشت گرد تنظیم کے دعوے پر کالعدم قرار دینے کا فیصلہ نہیں لے سکتی، اگر حکومت سوشل میڈیا کے دباؤ میں آ کر پابندیاں لگانا شروع کر دے تو اصل مجرمان تک نہیں پہنچ سکتی، لشکرجھنگوی العالمی، جماعت الاحرار دونوں تنظیمیں لشکر جھنگوی اور تحریک طالبان مہمند سے منسلک ہیں۔ لشکر جھنگوی اور تحریک طالبان مہمند کو 2001 میں کالعدم قرار دیا گیا تھا۔

کمیشن رپورٹ میں یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ وزرات داخلہ اور سیکیورٹی ایجنسیز دہشت گردوں کے خلاف کاروائی کرنے میں ہچکچاہٹ سے کام لے رہی ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ وزرات داخلہ نے انٹیلی جنس ایجنسیوں سے شدت پسند تنظیموں کو کالعدم قرار دینے کے حوالے سے رپورٹ طلب کی۔ انٹیلی جنس ایجنسیوں سے رپورٹ لینا غیر منطقی بات نہیں بلکہ شدت پسند تنظیم کو کالعدم قرار دینے کا طریقہ کار ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ لاہور چرچ 2015 میں ہونے والے دھماکوں کے بعد جماعت الاحرار پر پابندی نہیں لگائی گئی۔لاہور چرچ حملے سے متعلق پنجاب حکومت کی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ ذمہ داروں کاتعلق ٹی ٹی پی سے ہے۔

کمیشن رپورٹ میں کہا گیا کہ برطانیہ نے بھی جماعت الاحرار کو کالعدم قرار دیا ہے۔ ہر ملک کے اپنے قوانین، اصول اور طریقہ کار ہے۔ پاکستان نے اپنے طریقہ کار کے مطابق تنظیموں کو کالعدم قرار دیا۔

اہل سنت والجماعت کو اسلام آباد میں جلسہ کرنے کی اجازت دینے کا اختیاراسلام آباد انتظامیہ کا ہے، اجازت نامہ وزیر داخلہ نہیں دیتا اور نا ہی وزیر داخلہ اسلام آباد میں جلسہ کی اجازت نہیں لی گئی۔جواب میں کہا گیا کہ آبپارہ میں ہونے والا جلسہ دفاع پاکستان کونسل کا تھا اوراسی جماعت کو این او سی دیا گیا تھا۔ کمیشن نے دفاع پاکستان کے جلسے کو اہل سنت والجماعت کا جلسہ قرار دے دیا۔

وزیر داخلہ پر مولانا احمد لدھیانوی سے ملاقات کا الزام لگایا گیا، جس ملاقات کا تذکرہ کیا گیا وہ مولانا سمیع الحق کی سربراہی میں دفاع پاکستان کونسل کے علماء سے ملاقات تھی جو کہ کالعدم جماعت نہیں ہے۔ وزیر داخلہ کے علم میں نہیں تھا کہ مولانا سمیع الحق کیساتھ احمد لدھیانوی بھی ہوں گے۔

جواب میں وزرات داخلہ کی گزشتہ تین سال کی کارکردگی کی تفصیلات بھی بتائی گئیں۔ وزیر داخلہ چوہدری نثار کی سربراہی میں گزشتہ تین سال میں دہشت گردی کو ختم کرنے کے لیے منسٹری نے بے پناہ اقدامات کیے، ملک کی سیکیورٹی کی صورت حال اسکا منہ بولتا ثبوت ہے۔ منسٹری نے طالبان رہنماؤں سے مذاکرات کو کامیاب بنانے کی حتی الامکان کوشش کی۔ شدت پسندوں نے مذاکرات کامیاب نہ ہونے دیے۔

ملک میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے نیکٹا کو فعال کیا گیا، دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خاتمے کے لیے نیشنل ایکشن پلان بنایاگیا، سیکیورٹی کی صورتحال کےباعث اقوام متحدہ امن مشن پر جانے والے پولیس افسران پر پابندی لگائی گئی۔ کراچی میں قیام امن کے لیے آپریشنز کیے گئے۔ کراچی میں ٹارگٹ کلنگ اور دیگر جرائم میں کمی واقع ہوئی ہے۔

آپریشنز سے کراچی میں دہشت گردی 80 فیصد جبکہ ٹارگٹ کلنگ 50 فیصد کم ہوئی ہے، نفرت انگیر تقاریر اور میڈیا پر دہشت گرد تنظیموں کے بیانات پر مکمل پابندی لگائی گئی۔

سپاہ صحابہ پاکستان، ملت اسلامیہ اور اہل سنت والجماعت کالعدم جماعتیں ہیں، سپاہ صحابہ پاکستان اور ملت اسلامیہ مولانا احمد لدھیانوی سے منسلک ہیں۔ ریکارڈ میں اہل سنت والجماعت کے رہنما احمد لدھیانوی کا نام نہیں۔

انسداد دہشت گردی ایکٹ کے مطابق یہ ضروری نہیں کہ شدت پسند تنظیم کے سربراہ کو بغیر کسی دفعہ کے دہشتگرد قرار دیا جائے۔ کسی شخص کو دہشت گرد ثابت کرنے کے لیے اس پر دہشت گردی کی دفعات کا ہونا لازم ہے

SHARE

LEAVE A REPLY