روشنی حرا سے (133)۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی

0
57

منا سک حج اور دیگر مصروفیات

ہم گزشتہ نشست میں حضو ر (ص) کے آخری حج پر با ت کر تے ہو ئے یہاں تک پہنچے تھے کہ حضور (ص)طواف کر نے کے بعد چا ہ ِ زم زم پر تشریف لے گئے اور پا نی پیا اور سینہ مبا رک پر ڈالا ۔آئیے اب آگے بڑھتے ہیں۔جیسا ہم پہلے عرض کر چکے ہیں کہ حضور (ص)نے خو د کو پہلے عمرہ کے بعد حلال نہیں کیا اس لیئے کہ بعض محدثین کے بقول حج کے سلسلہ میں آخری وحی سعی کے دوران آئی اور یہ با ت اس سے بھی ظا ہر ہو تی ہے کہ سعی ختم کر نے کے بعد حضور (ص) نے فر ما یا کہ مجھے اپنے معا ملہ کا علم ہو تا تو میں اپنے آپکو (ص) پا بند نہ کر تا اور قربا نی کا جانور ہمرا ہ نہ لا تا اور جو لو گ قر با نی کے جا نور نہیں لا ئے ہیں ۔وہ خو د کو حلال کر لیں یعنی احرا م سے واپس با ہر آجا ئیں۔لہذا اس مرتبہ ( طواف ِ زیا رہ کے مو قعہ پر) آپ نے طواف فر ما یا مگر سعی نہیں فر ما ئی ۔ جس سے کچھ امامِ ِ اہل ِ سنت متفق ہیں۔ مگر امام ابو حنیفہ کے نزدیک دو نوں حا لتوں میں سعی کر نی لا زمی ہے ۔واللہ عالم ۔اب سوال یہ ہو تا ہے کہ حضور (ص) نے ایسا کیو ں فر ما یا اس کی وجہ یہ ہے کہ حضور (ص) امت پر شفقت اور اس کے لیئے آسا نی کے قا ئل تھے ۔جب اللہ سبحانہ تعا لیٰ نے یہ سہو لت دوران سعی عطا فر ما دی تو وہ خود (ص) تو اپنی نیت پر قا ئم رہے مگر جو قر با نی کے جا نور نہیں لا ئے تھے ان کو اجا زت مر حمت فرما دی کہ وہ احرام سے واپس با ہر آجا ئیں، کیو نکہ اتنے لمبے عرصے تک احرام میں رہنا صبر آز ما کا م ہے اور ہر ایک میں قوت ِ بردا شت حضو ر (ص) جیسی تو نہ تھی ۔وہ (ص)امت پر اتنے شفیق تھے کہ فر ما تے تھے کہ اگر تمہا رے سا منے دو راستے ہو ں تو ہمیشہ آسا ن راہ اختیا ر کرو ۔اور ایک صحا بی کو جو لمبی سو رتیں پڑھنے کے نما ز میں عا دی تھی ان کوفر ما یا کہ چھو ٹی سور تیں پڑھا کرو کیا لو گو ں کو اسلام سے بھگا نا چا ہتے ہو۔اب اس کے بعد دو سرا جو محدثین کے لیئے متنا زعہ مسئلہ ہے وہ یہ ہے کہ حضور (ص) نے ظہر کے بعد طواف ِ زیا رہ کیا ،یا رات کو عشا کے بعد۔ اس سلسلہ میں بہت سی احا دیث ہیں ۔اور دو نوں کے با رے میں شہادتیں اور دلا ئل مو جود ہیں مگر ہم اس خیا ل سے متفق ہیں کہ حضو ر (ص) نے دو نوں وقت طواف کعبہ کیا ایک مرتبہ ظہر کے بعد اور دوسرا عشا کے بعد ۔ایک طواف ِ زیا رہ تھا اور دوسرا طواف ِ وداع ۔واللہ عا لم۔ اسی طر ح اس پر بھی اختلا ف ہے کہ حضو ر (ص) نے خطبہ حجة الوداع مقام ِ عر فا ت میں دیا یاطواف ِ زیا رہ کے بعد منٰی کے میدا ن میں ۔ہم ایک پچھلے با ب میں اس پر کا فی بحث کر چکے ہیں اورا حا دیث کے حوالے دے چکے ہیں۔اور ہم نے یہ ثابت کیا تھا کہ خطبہ دو نوں ہی جگہ دیا اور اس کے لیئے حضور (ص) کے اس ارشا د سے استدلال لیا تھا کہ ”مجھے (ص) معلوم ہوا کہ کچھ لو گ عرفہ سے جا چکے ہیں لہذا میں (ص) نے ان کی وجہ سے منیٰ میں دو با رہ یہ با تیں ان تک پہنچا ئیں “۔ دوسرے آپ اس خطبہ کو ملا حظہ فر ما ئیں گے جو ہم پیش کر نے جا رہے ہیں تو یہ با ت آپ پر مزید واضح ہو جا ئیگی کہ یہ دو خطبے ہیں اس میں کچھ با تیں تو وہی ہیں جو کہ آپ گزشتہ قسط میں پڑھ چکے ہیں مگر یہاں کچھ کا اضا فہ ، بذات خو د اس کا ثبو ث ہے کہ یہ دو سرا خطبہ ہے ۔یہ ابو داود (رح)نے اور اما م احمد (رح) نے متعدد حوالو ں سے بیا ن کیا ہے ۔ابو دا ود تحریر فر ما تے ہیں کہ علی (رض) بن زیدکے ذریعہ سے یہ روایت پہنچی کہ ان سے ابو حرہ یا ابو حمزہ (رض) رقاشی نے بیان کیا کہ ا یا م تشریق میں وہ حضور (ص) کے نا قہ کی مہا ر پکڑے ہو ئے تھے اور لو گو ں کو سا منے سے ہٹا رہے تھے ۔اور یہ کہ ایام ِ تشریق کے در میا نے روز حضور (ص) نے خطبہ دیا ۔

آپ (ص) نے فر ما یا، اے لوگو! کیا تمہیں معلوم ہے کہ تم کس ما ہ اور کس دن اور کس شہر میں ہو ؟ انہوں نے کہا کہ حر مت وا لے شہر اور دن میں ہیں۔ آپ (ص) نے فر ما یا! بیشک تمہا رے خو ن تمہا رے ما ل اور تمہاری عزتیں اسی طر ح تم پر حرام ہیں۔جیسی کہ اس دن اس ما ہ اور شہر کی حر مت تمہارے لیئے ہے۔یہا ں تک کہ تم اللہ سے جا ملو۔پھر فر ما یا میری (ص) بات سنو ،تم زندہ رہو گے( میرے بعد ) آگا ہ ہو کہ ظلم نہ کر نا! ظلم نہ کر نا ! ظلم نہ کر نا ! کسی مسلمان کا ما ل اس کی رضا کے بغیر حلال نہیں،وا ضح ہو کہ جا ہلیت کا ہر خو ن ،ما ل اور بڑا ئی قیا مت تک میرے دو نوں پا ؤں کے نیچے ہے اور سب سے پہلے میں (ص) حا رث بن ربیع بن عبد المطلب (اپنے چچا زاد)کا خو ن معا ف کر تا ہو ں جو بنی سعد میں دایہ تلا ش کر رہے تھے کہ ہذیل نے انہیں قتل کر دیا۔اور آگا ہ ہو کہ جا ہلیت کا ہر سود معا ف کر د یا گیا ہے اور اللہ نے فیصلہ کیا ہے کہ سب سے پہلے عباس (رض)بن عبد المطلب کا سود ساقط کرے ۔ تمہارے لیئے تمہا رے راس المال( اصل مال بغیر سود کے ) ہیں ۔

اس کے بعد فر ما یا (ص) کہ اللہ کے نزدیک مہینوں کی تعدادکتاب الٰہی میں با رہ ہے جس وقت اس نے زمین اور آسمان کو تخلیق کیا تھا جن میں سے چا ر حر مت والے ہیں۔یہ قا ئم رہنے والا دین ہے۔پس تم ان مہینوں میں اپنے آپ پر ظلم نہ کرو۔اور خبردار میرے بعد پلٹ کر کا فر نہ بن جا ناایک وقت آئیگا کہ تم ایک دوسرے کو قتل کرو گے اور یہ بھی واضح ہو کہ شیطا ن اس با ت سے ما یو س ہو چکا ہے کہ نما زی اس کی پرستش کر ینگے( کیو نکہ نما ز بر ائیوں اور فواحشا ت سے رو کتی ہے ) لیکن وہ تمہیں آپس میں ایک دو سرے کے خلا ف اکسا ئے گا۔اور عورتوں کے با رے میں اللہ سے ڈرو وہ تمہا رے پاس (مثل ) قیدی کے ہیں وہ اپنے با رے میں کچھ اختیا ر نہیں رکھتی ہیں (تمہا ری رہین ِ منت ہیں ) لہذا بیشک ان کا تم پر حق ہے اور تمہا را بھی ان پر حق ہے کہ تمہا را بستر تمہا رے سوا کو ئی پا ما ل نہ کرے اور جنہیں تم نا پسند کرتے ہو تمہا رے گھر نہ آنے دیں ۔اگر تم ان میں خیا نت پا ؤ تو انہیں نصیحت کرو ۔اور ان کو بستروں میں چھو ڑ دو (یعنی ان کے بستر الگ کردو ) اگر پھر بھی نہ ما نیں تو ایسی ضرب لگا ؤ جو شدید نہ ہو( لیکن) معروف طر یقہ کے مطا بق ان کی خوراک تمہا رے ذمہ ہے۔اور تم نے انہیں اللہ کے عطا کردہ قا نون کے تحت حا صل کیا ہے ۔اور اللہ کے حکم سے ان کے فروج کو حلال کیا ہے۔اور آگا ہ ہو کہ جس کے پاس کوئی اما نت ہو تو وہ اس کو (خو شی خو شی )ا دا کرے جس نے اس پر امین بنا یا ہے ۔اور اپنے (ص) ہا تھ پھیلا کر فر مایاکیا میں نے پیغام پہنچا دیا ہے،کیا میں نے پیغام پہنچا دیا ہے، کیا میں نے پیغام پہنچا دیا ہے ۔پھر فر ما یا کہ حا ضر آدمی غا ئب کو پہنچا دے۔بیشک جن تک بات پہنچا ئی جا تی ہے ۔ان میں بہت سے لوگ با ت کہنے والے سے زیا د ہ یادرکھنے والے زیا دہ ہو تے ہیں ۔حافط ابو بکر البزاز نے بھی یہ خطبہ تحریر کیا ہے مگر اس میں کچھ باتوں کا اضافہ ہے وہ تحریر کرتے ہیں کہ مجھ سے حضرت ولید (رض) بن عمرو بن مسکین نے بیان کیا کہ۔ سورہ نصر اسی دوران منٰی میں نا زل ہو ئی اور وہ ایام ِتشریق کا درمیا نہ دن تھا۔ لہذا حضور (ص)کو پتہ چل گیا کہ ان کا آخری وقت آپہونچا ہے اس لیئے حضو ر (ص) نے اسے حجةالوداع بنا یا۔اور اپنا نا قہ قصویٰ لا نے کا حکم دیا پھر آپ کے لئے اس پر کجا دہ ڈالدیا گیا اور اس پر سوار ہو ئے اور لو گو ں کے در میا ن عقبہ میں کھڑے ہو ئے اور جسقدر اللہ نے چا ہا اتنے مسلما ن آپ (ص) کے ارد گردجمع ہو گئے ۔ پھر اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا فر ما ئی۔( اس کے بعد خطبہ وہی ہے صرف کچھ اضا فے ہیں جو ہم یہاں پیش کر رہے ہیں کہ اس میں اور با توں کے علا وہ حر مت والے مہینوں کی وضا حت کی گئی ہے) ۔کہ حضور (ص) نے فر ما یا اللہ تعالیٰ نے جب سے زمین وآسما ن کو خلق کیا زمانہ اسی ہیئت پر گھوم رہا ہے مہینوں کی تعداد با رہ ہے ( ان میں)حرمت والے مہینے چا ر ہیں رجب منفرد ہے ۔ جو جما دی الثا نی کے بعد اور شعبان سے پہلے ہے ذو العقد ذوا لحجہ اور محرم ( ایک دوسرے سے متصل ہیں ) اورفرمایا (ص) کہ تم مہینوں کو آگے پیچھے نہ کر نا، جیسے کہ کفا ر کیا کرتے تھے وہ ایک سا ل صفر کو حلال کرتے تو ایک سال محرم کو حرام کر لیتے ایک سال صفر کو حرام کر لیتے اور ایک سال محرم کو حلال کر لیتے۔اس سے کفر میں اضا فہ ہو تا ہے ۔ (وہ اس لیئے کرتے تھے ) تاکہ اللہ کی حرام کر دہ گنتی سے مما ثلت کر لیں اور اس کو نسئی کہتے تھے۔ شیطا ن اپنی عبا دت سے قیامت تک کے لیئے نا امید ہو گیا ہے مگر وہ تمہا ری چھو ٹی چھو ٹی با توں (گنا ہ صغیرہ ) سے خو ش ہو تا ہے۔پس تم اپنے دین کے با رے میں اس سے چھو ٹے چھو ٹے کا مو ں میں محتا ط رہو۔اور تم میں ایک چیز چھو ڑے جا رہا ہو ں اگر تم اس کو تھا مے رہو گے تو گمراہ نہیں ہو گے اور وہ ہے اللہ کی کتا ب اس پر عمل کرو (بعض دوسری احا دیث میں سنت اور عترت کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔مولف ) واللہ عالم ۔ اور نہ میرے (ص) بعد کو ئی نبی ہے نہ تمہارے بعد کو ئی امت ہے ۔اور اس کے بعد آپ نے دو نوں ہا تھ پھیلا ئے اور فر ما یا ”یا اللہ گواہ رہنا “۔
( باقی آئندہ)

SHARE

LEAVE A REPLY