ایٹمی توانائی کی ایرانی تنظیم کے ذمے داران نے اعلان کیا ہے کہ روس کی جانب سے غیر خالص یورینیم آکسائڈ یعنی یَلو کیک کی چوتھی اور آخری کھیپ منگل کے روز ایران پہنچے گی۔ عالمی طاقتوں کے ساتھ طے پائے جانے والے نیوکلیئر معاہدے کے تحت فراہم کیے جانے والے یلو کیک کی آخری کھیپ کا وزن 149 ٹن ہوگا۔
تنظیم کے سربراہ علی اکبر صالحی نے فارس نیوز ایجنسی کو بتایا کہ ” یلو کیک کی پہلی کھیپ 26 جنوری کو طیارے کے ذریعے پہنچی تھی”۔
انہوں نے مزید بتایا کہ نیوکلیئر معاہدے کے نافذ العمل ہونے کے بعد جنوری 2016 سے اب تک 210 ٹن غیر خالص یورینیم آکسائڈ درآمد کی جا چکی ہے اور اس کے بدلے 3.5 فی صد تک افزودہ کیے جانے والے یورینیم کو بیرون ملک بھیجا گیا۔
ایران نے جولائی 2015 میں عالمی طاقتوں کے مجموعے “5+1” ( امریکا ، فرانس ، برطانیہ ، جرمنی ، روس اور چین) کے ساتھ ایک نیوکلیئر معاہدے پر دستخط کیے تھے جس کے نتیجے میں برسوں سے جاری بحران ختم ہو گیا۔
مذکورہ معاہدے کے تحت تہران اپنے نیوکلیئر پروگرام پر روک لگانے پر آمادہ ہوگیا۔ اس میں ایران کے کم افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو تقریبا 10 برس کے لیے کم کر کے 300 کلو گرام تک لانا شامل ہے۔ اس کے مقابل بین الاقوامی پابندیوں کو جزوی طور پر اٹھا لیا جائے گا۔

SHARE

LEAVE A REPLY