٭8 فروری ۔ پشاور میں حیات محمد خان شیرپاو بم دھماکے میں ہلاک

0
248

حیات محمد خان شیرپائو کا قتل

٭8 فروری 1975ء کو پشاور یونیورسٹی میں شعبہ تاریخ کی ایک تقریب میں صوبہ سرحد کے سینئر وزیر حیات محمد خان شیرپائو ایک بم کے دھماکے نتیجے میں ہلاک کردیے گئے۔
حیات محمد شیر پائو‘ وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے بااعتماد ساتھی تھے۔ وہ پاکستان پیپلز پارٹی کے بنیادی ارکان میں سے ایک تھے۔ دسمبر 1967ء میں وہ پیپلز پارٹی‘ صوبہ سرحد کے صدر منتخب ہوئے اس حیثیت میں انہوں نے صوبہ سرحد میں پیپلز پارٹی کی تنظیم میں بڑا فعال کردار ادا کیاتھا۔
دسمبر 1970ء کے عام انتخابات میں وہ سرحد اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور مرکز پیپلز پارٹی کی حکومت کے قیام کے بعد صوبہ سرحد کے گورنر مقرر ہوئے۔ 2 مئی 1972ء کو وہ مرکزی کابینہ میں شامل ہوئے اور تقریباً دو برس کابینہ میں شامل رہے۔ 4 جون 1974ء کو انہیں سرحد کی صوبائی کابینہ میں سینئر وزیر کے طور پر شامل کرلیا گیا۔
جیساکہ پہلے بیان کیا جاچکا ہے‘ 8 فروری 1975ء کو ایک بم دھماکے میں انہیں ہلاک کردیا گیا‘ اس حادثے کے وقت وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو‘ امریکا کے دورے پر تھے‘ وہ وہاں سے فوراً لوٹے اور انہوں نے فوری طور پر صوبہ سرحد میں حزب اختلاف کے رہنمائوں کو گرفتار کرکے نیشنل عوامی پارٹی کو خلاف قانون قرار دے دیا۔
—————–

میران بخش کی وفات

٭8 فروری 1991ء کو پاکستان کے ایک معروف ٹیسٹ کرکٹر میران بخش راولپنڈی میں وفات پاگئے۔
میران بخش 20 اپریل 1907ء کو راولپنڈی ہی میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے یوں تو صرف دو ٹیسٹ میچ کھیلے مگر وہ کرکٹ کی تاریخ میں اس اعتبار سے ایک یادگار کھلاری بن گئے کہ انہوں نے اپنا پہلا ٹیسٹ میچ 47 سال 284 دن کی عمر میں کھیلا تھا اور یوں وہ اپنا اولین ٹیسٹ کھیلنے والے دنیا کے معمر ترین کھلاڑی بن گئے۔
یہ ٹیسٹ میچ 29 جنوری 1955ء سے یکم فروری 1955ء تک لاہور کے باغ جناح اسٹیڈیم میں کھیلا گیا تھا۔ میران بخش نے اس ٹیسٹ میچ میں ناٹ آئوٹ رہتے ہوئے ایک رن اسکور کیا اور دو کھلاڑیوں کو کلین بولڈ کیا۔ اس سے اگلے ٹیسٹ میچ میں جو پشاور میں کھیلا گیا، انہوں نے نہ کوئی رن اسکور کیا اور نہ ہی کسی کھلاڑی کو آئوٹ کیا، یوں ٹیسٹ کرکٹ میں بیٹنگ میں ان کا اوسط اسکور ایک رن قرار پایا جبکہ بائولنگ میں ان کا اوسط 57.5 رنز رہا۔
میران بخش پاکستان کی جانب سے ٹیسٹ کیپ حاصل کرنے والے 21 ویں کھلاڑی تھے۔
——————-

اداکارہ سورن لتا کی وفات

٭ سورن لتا 20 دسمبر 1924ء کو راولپنڈی کے ایک سکھ گھرانے میں پیدا ہوئی تھیں۔ سورن لتا کے فنی کیریئر کا آغاز 1942ء میں رفیق رضوی کی فلم آواز میں ایک ثانوی کردار سے ہوا تھا۔ 1943ء میںوہ نجم نقوی کی فلم تصویر میں پہلی مرتبہ بطور ہیروئن جلوہ گر ہوئیں، اس فلم کے ہیرو نذیر تھے۔نذیر کے ساتھ ان کی اگلی فلم لیلیٰ مجنوں تھی۔ یہی وہ فلم تھی جس کے دوران انہوں نے اسلام قبول کرکے نذیر سے شادی کرلی۔ ان کا اسلامی نام سعیدہ بانو رکھا گیا۔ اس زمانے میں انہوں نے جن فلموں میں کام کیا ان میں رونق، رتن، انصاف، اس پار اور وامق عذرا کے نام سرفہرست ہیں۔ قیام پاکستان کے بعد وہ اپنے شوہر نذیر کے ہمراہ پاکستان آگئیں جہاں انہوں نے اپنے ادارے کے بینر تلے فلم سچائی بنائی۔ اس فلم میں ہیرو اور ہیروئن کا کردار نذیر اور سورن لتا نے ادا کیا۔ اسی سال پاکستان کی پہلی سلور جوبلی فلم پھیرے ریلیز ہوئی۔ اس فلم کے فلم ساز ، ہدایت اور ہیرو نذیر تھے جبکہ ہیروئن سورن لتا تھیں۔ پھیرے کی کامیابی کے بعد نذیر اور سورن لتا کی پنجابی فلم لارے اور اردو فلم انوکھی داستان ریلیز ہوئیں۔ 1952ء میں نذیر نے شریف نیر کی ہدایت میں فلم بھیگی پلکیں تیار کی جس میں سورن لتا نے الیاس کاشمیری کے ساتھ ہیروئن کا کردار ادا کیا۔ اس فلم میں نذیر نے ولن کا کردار ادا کیا تھا۔ 1953ء میں سورن لتا کی چار مزید فلمیں شہری بابو، خاتون،نوکراور ہیرریلیز ہوئیں۔ اس کے بعد بھی سورن لتا کی کئی اور فلمیں نمائش پذیر ہوئیں جن میں سوتیلی ماں، صابرہ، نور اسلام، شمع، بلو جی اورعظمت اسلام شامل تھیں۔ عظمت اسلام سورن لتا کی بطور ہیروئن اور نذیر کی بطور فلم ساز اور ہدایت کار آخری فلم تھی۔ اس کے بعد سورن لتا نے چند مزید فلموں میں کریکٹر ایکٹر کردار ادا کئے تاہم چند برس فلمی صنعت سے کنارہ کش ہوگئیں۔
سورن لتا ایک تعلیم یافتہ اداکارہ تھیں ، انہوں نے لاہور میں جناح پبلک گرلز اسکول کی بنیاد رکھی اور آخری وقت تک اس کی روح و رواں اور سربراہ رہیں۔
برصغیر پاک و ہند کی نامور ہیروئن سورن لتا 8 فروری 2008ء کو لاہور میں وفات پاگئیں۔ وہ لاہور میں آسودۂ خاک ہیں۔
———————

نہال عبداللہ کی وفات

٭8 فروری 1983ء کو ریڈیو پاکستان کے معروف موسیقار اور گلوکار نہال عبداللہ کراچی میں وفات پاگئے۔
نہال عبداللہ 1924ء میں قصبہ چڑاوا ریاست جے پور میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم اپنے والد استاد اللہ دیا سارنگی نواز اور اپنے بھائی استاد جمال خان سارنگی نواز سے حاصل کی۔ 1948ء میں وہ ریڈیو پاکستان سے منسلک ہوئے۔ 1951ء میں انہوں نے پاکستان کی قومی ترانے کی کمپوزنگ میں حصہ لیا اور 1953ء میں جب یہ قومی ترانہ ریکارڈ ہوا تو اس میں ان کی آواز بھی شامل تھی۔
نہال عبداللہ نے 1965ء کی پاک بھارت جنگ میں نفیس فریدی کا لکھا ہوا مشہور گیت ’’پاکستانی بڑے لڑیا، جن کی سہی نہ جائے مار‘‘ گاکر بڑی شہرت حاصل کی تھی۔
اس کے علاوہ عزیز حامد مدنی کی مشہور غزل ’’تازہ ہوا بہار کی دل کا ملال لے گئی‘‘ بھی ان کے کریڈٹ پرہے۔ یہ غزل انہوں نے راگ جے جے ونتی میں کمپوز کی تھی اور اسے مہدی حسن کی آواز میں ریکارڈ کیا گیا تھا۔
نہال عبداللہ نے ایک فلم چراغ جلتا رہا کی موسیقی بھی ترتیب دی تھی جس کے ہدایت کار فضل احمد کریم فضلی تھے۔
——————

SHARE

LEAVE A REPLY