وائٹ ہاؤس نے ایران کے رہبر اعلیٰ کے ڈونلڈ ٹرمپ سے متعلق بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کو یہ سمجھ لینا چاہیئے کہ “(امریکہ میں) ایک نئے صدر آ چکے ہیں۔”

منگل کو معمول کی نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کے ترجمان شان سپائسر کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ 2015ء میں امریکہ اور دیگر پانچ عالمی طاقتوں کے ساتھ ہونے والے تہران کے جوہری معاہدے کی ایران کی طرف سے “خلاف ورزیوں یا بظاہر خلاف ورزیوں” پر خاموش نہیں رہیں گے۔

انھوں نے کہا کہ ٹرمپ “جس طرح مناسب سمجھیں گے اپنے اقدام جاری رکھیں گے۔۔۔وہ یہ کسی بھی چیز سے صرف نظر نہیں کریں گے۔”

سپائسر نے یہ بات خامنہ ای سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہی جن کا منگل کو ہی ایک بیان سامنے آیا تھا جو کہ گزشتہ ماہ ڈونلڈ ٹرمپ کے امریکی منصب صدارت سنبھالنے کے بعد ایرانی راہنما کی طرف سے پہلا بیان تھا۔

خامنہ ای کی ویب سائٹ کے مطابق وہ تہران میں فوجی عہدیداروں کی ایک تقریب سے خطاب کر رہے تھے جس میں انھوں نے 29 جنوری کو کیے گئے میزائل تجربے کے تناظر میں ٹرمپ کی اس حالیہ تنبیہ کا تذکرہ کیا جس میں امریکی صدر نے کہا تھا کہ ایران “نظر میں” ہے۔

اس میزائل تجربے کو وائٹ ہاوس خطے کی سلامتی اور امریکی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف قرار دیا تھا۔

خامنہ ای کا کہنا تھا کہ “ٹرمپ کہتے ہیں کہ آپ کو مجھ سے خوفزدہ ہونا چاہیے۔ نہیں، ایران کے عوام دس فروری کو ان (ٹرمپ) کے الفاظ کا جواب دے دیں گے اور ایسی دھمکیوں پر اپنے موقف کا اظہار کریں گے۔”
دس فروری کو ایران میں 1979ء کے انقلاب کی سالگرہ منائی جاتی ہے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کی قرارداد ایران کو ایسے میزائلوں کے تجربے سے باز رہنے کا کہتی ہے جو کہ جوہری ہتھیار لے جانے صلاحیت رکھتے ہوں، لیکن اس بارے میں قرارداد اسے پابند نہیں کرتی۔

وائٹ ہاؤس 29 جنوری کے میزائل تجربے کو جوہری معاہدے کی براہ راست خلاف ورزی تو قرار نہیں دیتا لیکن اس کے بقول یہ معاہدے کی “روح” کے منافی ہے۔

خامنہ ای نے اپنی تقریر میں یہ بھی کہا تھا کہ وہ ٹرمپ کے ممنون ہیں جنہوں نے ان کے بقول “امریکہ کا اصل چہرہ دکھا دیا ہے۔”

ان کا مزید کہنا تھا کہ ایران اور دیگر چھ مسلم اکثریتی ممالک کے شہریوں پر امریکہ کے سفر پر عارضی پابندی کے ٹرمپ کا حکم نامہ “امریکیوں کے انسانی حقوق کی حقیقت” کو ظاہر کرتا ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY