لندن میں قومی ایئر لائن کی پرواز پی کے 757سے گرفتار ہونے والے شخص کی شناخت خالد البقا کے نام سے ہوئی ہے۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ 52سالہ خالد بقا برطانوی شہری ہے، جو پرائری روڈ، بارکنگ ایسٹ لندن کا رہنے والا ہے، اس پر جھوٹی نمائندگی کر کے فراڈ کا الزام ہے۔

خالد بقا کو ہائی بری کارنر مجسٹریٹ لندن کی عدالت میں 23فروری کو پیش ہونے کاحکم دیا گیا ہے۔

پاکستان سے برطانیہ جانے والی پی کے 757 کی کہانی لاہور کے علامہ اقبال ائیرپورٹ سےشروع ہوتی ہے ، جہاں سے منگل کی صبح 11بجکر 10منٹ پر پی آئی اے کی فلائٹ ہیتھرو لندن کے لیے شیڈیول تھی، 134 مسافروں میں موجود ایک شخص خالد البقا کو جیسے ہی بورڈنگ پاس ملا،ہیتھرو ائیرپورٹ پر پولیس الرٹ ہوگئی۔

یہ وہی خالد البقا تھا جسے2012ءمیں دہشت گردی کے الزامات میں گرفتار کیا گیا تھا اور ایک سال بعد دو سال قید کی سزا ہوئی تھی، جس پر انتہاپسندی پر مبنی تین سو سی ڈیز رکھنے کا الزام بھی تھا، سب سے بڑھ کر ان سی ڈیز میں بم بنانے کے طریقے، نائن الیون دھماکوں کے مناظر، سیون سیون لندن دھماکوں میں ملوث مجرم کی وصیت اور اس کا اقبالی بیان بھی موجود تھا، یہ خالد البقا لاہور امیگریشن سے آرام سے نکل گیا اور جہاز ٹیک آف کرگیا۔

لیکن پھر کہانی میں ایسا ٹوئسٹ آیا کہ جہاز میں بیٹھے مسافر پہلے حیران پھر پریشان ہوگئے، برطانوی ایئر اسپیس میں داخل ہوتے ہی پی آئی اے کی فلائٹ کو رائل ایئرفورس کے جنگی جہازوں نے گھیر لیا، طیارے کا رخ تبدیل کرواکر اسے لندن کے ریلیف ائیرپورٹ اسٹین اسٹڈ پر لینڈنگ کروائی گئی اور یہیں پولیس نے خالد البقا کو بھی گرفتار کرلیا۔

لندن پولیس کا کہنا ہے کہ ایک عورت اور مرد نے دو الگ الگ فون کالز پر جہاز میں بم کی موجوگی کی اطلاع دی، دہشت گردی کے خطرے پر جنگی جہازوں کی حفاظت میں جہاز کو اسٹین اسٹڈ میں لینڈ کرایا گیا۔

دوسری جانب پی آئی اے حکام نے برطانوی وزارت دفاع کے رد عمل کو ضرورت سے زیادہ قرار دیا ہے، قومی ایئرلائن کا کہنا ہے کہ بم کی اطلاع پر پولیس نے طیارے کے عملے سے رابطہ کیا جس پر انہوں نے ایسی کسی بھی صورت حال کی تردید کی، اس کے باوجود لڑاکا طیاروں کے زور پر لینڈنگ کراکر دنیا بھر میں اسکینڈل کھڑا کیا گیا، لیکن قومی ایئرلائن کی پرواز سے ایک سزا یافتہ مجرم کی گرفتاری سے ملک کی کتنی نیک نامی ہوئی اس چبھتے سوال کا جواب کسی کے پاس نہیں

SHARE

LEAVE A REPLY