میری ماں میرا عشق ۔ فرخندہ رضوی

0
217

انسان کا مقدر ازل سے ابد تک ایک ہی دائرے میں گھومتے رہنا ہے ،دائروں ،نقطوں اور لکیروں ،دھند کی چادر ،اُجلی اُجلی چاندی کے گرد کہانیاں بُننا ،رشتوں کی ڈوریاں احساس میں باندھ لیناانہیں مضبوط کرنا ۔۔ایساہی ایک رشتہ مجھے عشق تھا اُس رشتے سے ۔لفظ ماں ؔ کے ساتھ میرے ذہن میں وہ سب لمحے جس کی بس دو آنکھیں دو ہاتھ ۔۔آنکھوں سے محبت چھلکتی اور ہاتھوں میں پتھر کے بنے موتیوں کی تسبی ۔۔میں نے ہمیشہ یہی روپ اپنی ماں کا دیکھا جب وہ میرے اباّ کے ساتھ تھیں یعنی اُن کی وفات سے پہلے تو بچوں کو بڑا اور نیک ہونے کی دعائیں کرتے اور جائے نماز پر سجدے کرتے دیکھا اور چپکے چپکے آنسو بہاتے اور کبھی کبھی تو ہلکی ہلکی سسکیوں کی آواز سُنا کرتی تھی یہ وہ زمانہ تھا جب ہم سب بہن بھائی ایک ہی گھر میں جس کی چھتیں اور دیواریں بہت کمزور سی تھیں ۔۔
میری ماں ؔ ایک منظم شخصیت ،الفاظ کا انتخاب دُرست ،ادب آداب کی نصیحت ۔نماز و قرآن کی تلقین ،ہر کام کی نوعیت وقت و حالات کے مطابق۔نا شکوہ نا شکایت ۔۔اتنی صابر کہ کبھی اباجی سے گلہ نا کیا ،غریبی کی چادر اُوڑھے دین کا درس دیتی رہتیں ۔۔

ہمہ وقت حالتِ تشکر میں رہیں ۔اپنی اماں ؔ کی کون کون سی صفت بیان کروں ،مجھے لگتالکھتے لکھتے صُبح سے شام بھی ہو جائے تو اُس کے خلوص محبت اور اُن کے سچے موتیوں جیسے جذبوں کو سرِورق اُتارنا سکوں میں سمجھتی ہوں اُس کی محبت کو لفظوں مین پرونا آسان نہیں ۔ابھی تک دنیا میں کوئی ایسا پیمانہ نہیں بنا کہ ماں کی محبت کو ماپا جاسکے ۔۔کبھی کبھی ہمارے پیارے رشتوں کو آزمائش میں قدرت بھی ڈال دیتی ہے

والد محترم کی وفات کے بعد وہ ایک ایسی چھت کے نیچے آ بسیں جہاں چودہ سال گزارنے کے باوجو جو اُن کی نا تھیں بے شک میں نے انہیں پھولوں کی طرح سنبھال کر رکھا،محبت و عزت سے سَر ماتھے پر بیٹھائے رکھا ۔۔ان کی ایک مسکراہٹ پر اپنی ساری محبت قربان کر ڈالی ۔مگر انہیں اکثر راتوں کو اُٹھ اُ ٹھ کر روتے دیکھا ۔ہر عورت کی ایک ننھی سی خواہش یہی کہ اُسکا اپنا گھر بھی کہیں ہو ۔۔میں سمجھتی ہوں بدنصیب ہوتی ہے وہ اولاد جو زندگی میں ماں باپ کی قدر نہیں کرتی ماں تو ایسی ہستی کہ جو محبت کا ایک سمندر جو کبھی خشک نہیں ہوتا ۔میری زندگی کی خوبصورت تصویر ایک یہی تو تھی ۔جب بھی خود سے سوال کرتی ہوں شاید میں بہت کچھ ایسا نا کر سکی جو مجھے کرنا چاہیے تھا ۔دوراہے پر چلنا اتنا آسان تو نہیں ہوتا مجھے اکثر ہی لگتا وہ میری ماں نہیں بلکے میں اُن کی ماں ہوں ۔۔

اپنے آنچل سے جب بھی اُن کی آنسوؤں بھری آنکھوں کو صاف کرتی ،نہلانے کے بعد بالوں میں کنگھی کرتی تو بہت سی سوچیں ذہن میں اُبھر آتیں ۔خداتعالی نے یہ کائنات تو بہت حسین تخلیق کی ہے ۔۔عبادتوں ،چاہتوں ،وفاؤں ،دعاؤں کے بے شمار رنگ ماں میں منتقل کر ڈالے میرے پروردیگار نے ۔۔میری خوش نصیبی یہ رہی کہ میں نے تمام نعمتوں سے اپنی جھولی بھری میں نے اُن کے اُٹھے ہوئے ہاتھوں میں اپنے لیے دعاؤں کے خزانے دیکھے وہ محبتیں قدم قدم میری رہنمائی کرتی رہیں ۔آج بھی ماں ؔ کے قدموں کی آہٹ میرے کانوں میں جلترنگ کی طرح بج اُٹھتی ہے ،اُس کی آنکھوں کی ہر عبارت پڑھی ہے میں نے ،کہتے ہیں رشتے صرف خون کے نہیں ہوتے احساس کی گرمی انہیں مضبوطی دیتی ہے ،مجھے لگتا ہے چودہ سال کا عرصہ اتنی رفتار سے ایسے گزرہ کہ ہر پَل میرے دل و دماغ پر نقش چھوڑتا گیا ۔باقی سبرشتے ریت کی مانند ہاتھ کی انگلیوں سے نکلتے ہی چلے گے ۔۔

َمَیں اپنا وہ گھر جس کے صحن کی ایک نُکر میں تین چار مٹی کے گھڑے پانی سے بھرے پڑے اور ایک کونے میں مٹی کا بنا چولہا جس پر میری اماں ؔ صُبح و شام کھانا بناتی ،کبھی کبھی گیلی لکڑیاں سلگاتے سلگاتے آنکھیں آنسو ؤں سے بھر جاتیں دھواں جب آنکھوں کو چُبنے لگتا تو اپنے ڈوپٹے اور کبھی کبھی قمیض کے گھیرے سے دھواںِ بھری آنکھوں کو صاف کرتیں وہ منظر کبھی دھندلاتا نہیں ۔۔۔بچھڑے ہوئے سالوں کی روشن یادیں مجھے لگا میں نے وقت کی کشتی کے سپرد کر رکھی تھیں جو ابھی تک پانی پر تیر رہی ہیں میری ہر سانس میں اُن یادوں کی تپش بسی مجھے روز اول کی طرح بے چین کئے رکھتی ہے ۔۔۔

وہ بس آخری لمحہ کہیں ٹھہر سا گیا ہے میری زندگی کی ہر سانس میں، ڈوبتے سورج کا سا منظر دل کی دھڑکنیں مدھم مدھم ہوتی جا رہی تھیں

اُن آنکھوں سے زندگی کی روشنی موت کے اندھروں میں بدلتی جا رہی تھی ،بہت سے سوال تھے اُن آنکھوں میں میں چاہ کر بھی کوئی جواب نا دے پائی ۔۔میں جاتے ہوئے لمحے اور بے حرارت جسم سے لرز رہی تھی ،میرے آنسو پلکوں سے ڈھلتے ہوئے اماں کے بے جان وجود میں سما رہے تھے ،میری سسکیاں میری آئیں پکارتی رہ گیں مگر وہ وقت مقرر تھا ۔میں تہہ داماں تہہ دَست قدرت کا تماشہ دیکھی رہ گئی ۔۔۔
بس سوچتی ہوں میری محبت کا دوسرا نام ہی تو ہے میری ماں

فرخندہ رضوی

SHARE

LEAVE A REPLY