نامور مصور صادقین 10 فروری 1987ء کو کراچی میں وفات پاگئے

0
239

صادقین کی وفات

٭ پاکستان کے نامور مصور صادقین کا پورا نام سید صادقین حسین نقوی تھا اور وہ 20جون 1930ء کو امروہہ میں پیدا ہوئے تھے۔ 1948ء میں آگرہ یونیورسٹی سے گریجویشن کرنے کے بعد وہ ہجرت کرکے پاکستان آئے جہاں انہوں نے بہت جلد اپنی منفرد مصوری اور خطاطی کے جھنڈے گاڑ دیئے۔ ان کی شہرت کا آغاز میورلز سے ہوا جو انہوں نے کراچی ایر پورٹ، سینٹرل ایکسائز لینڈ اینڈ کسٹمز کلب، سروسز کلب اور اسٹیٹ بنک آف پاکستان کی لائبریری میں بنائیں۔ کچھ عرصے کے بعد وہ پیرس چلے گئے جہاں انہوں نے اپنے فن کے یادگار نمونے پیش کئے اور کئی بین الاقوامی اعزازات حاصل کئے۔1969ء میں انہوں نے غالب کی صد سالہ برسی کے موقع پر کلام غالب کو بڑی خوب صورتی سے مصور کیا۔ 1970ء میں انہوں نے سورۂ رحمن کی آیات کو انتہائی دلکش انداز میں پینٹ کیا اور مصورانہ خطاطی کے ایک نئے دبستان کی بنیاد ڈالی۔ انہوں نے لاہور کے عجائب گھر کی چھت کو بھی اپنی لازوال مصوری سے سجایا۔ 1981ء میں انہوں نے ہندوستان کا سفر کیا اور ہندوستان کے کئی شہروں میں اپنے فن کے نقوش بطور یادگار چھوڑے۔ 1986ء میں انہوں نے کراچی کے جناح ہال کو اپنی مصوری سے آراستہ کرنا شروع کیا مگر ان کی ناگہانی موت کی وجہ سے یہ کام مکمل نہ ہوسکا۔ وہ ایک بہت اچھے شاعر بھی تھے اور رباعیات کہنے میں خصوصی مہارت رکھتے تھے۔ حکومت پاکستان نے انہیں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا تھا۔
پاکستان کے نامور مصور صادقین 10 فروری 1987ء کو کراچی میں وفات پاگئے۔ وہ کراچی میں سخی حسن کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔
—————————————————————————————————–

جمال احسانی کی وفات

٭ اردو کے ممتاز غزل گو شاعر جمال احسانی 21 اپریل 1951ء کو سرگودھا میں پیدا ہوئے تھے۔ 1970ء کی دہائی میں انہوں نے شاعری کا آغاز کیا اور بہت جلد اردو کے اہم غزل گو شعرا میں شمار ہونے لگے۔ ان کے شعری مجموعوں میں ستارۂ سفر، رات کے جاگے ہوئے اور تارے کو مہتاب کیا شامل ہیں۔ ان تینوں مجموعوں پر مشتمل ان کی کلیات، کلیات جمال کے نام سے بھی اشاعت پذیر ہوچکی ہے۔ دس فروری 1998ء کو اردو کے ممتاز غزل گو شاعر جمال احسانی کراچی میں وفات پاگئے۔ وہ کراچی میں گلستان جوہر کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔
ان کا ایک شعر ملاحظہ ہو:
چراغ سامنے والے مکان میں بھی نہ تھا
یہ سانحہ مرے وہم و گمان میں بھی نہ تھا
—————————————————————————————————–

کجن بیگم کی وفات

٭10 فروری 2000ء کو پاکستان کی مشہور سوزخواں اور نعت خواں محترمہ کجن بیگم کراچی میں وفات پاگئیں۔
کجن بیگم کا اصل نام امام باندی تھا اور وہ 1932ء کے لگ بھگ لکھنؤ کے قریب موضع سادات رسول پور میں پیدا ہوئی تھیں۔1940ء کے لگ بھگ انہوں نے اپنی والدہ حسینی بیگم کے ساتھ سوز خوانی کا آغاز کیا۔ قیام پاکستان کے بعد 1950ء میں انہوں نے ریڈیو پاکستان سے سوز خوانی شروع کی۔ 1952ء میں ان کی شادی اختر وصی علی سے ہوگئی جو خود بھی ایک بہت اچھے سوز خواں تھے۔ کجن بیگم نے کلاسیکی موسیقی کی تربیت بھی حاصل کی تھی۔ وہ ٹھمری ، دادرا ، غزل اور پوربی گیت گانے میں مہارت رکھتی تھیں اور رسولن بائی اور ہیرا بائی برودہ کر کے اسلوب میں گاتی تھیں۔ انہیں فضل احمد کریم فضلی نے فلم چراغ جلتا رہا میں گانا گانے کی پیشکش کی تھی مگر ان کے والد نے اس کی اجازت نہیں دی تاہم کجن بیگم نے اپنی صاحبزادی مہناز کے فلمی گانے پر پابندی نہیں لگائی جو پاکستان کی صف اوّل کی گلوکارہ شمار ہوتی ہیں۔ حکومت پاکستان نے 2000ء میں کجن بیگم کو صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا تھا

وقار زیدی ۔ کراچی

SHARE

LEAVE A REPLY