پاک فوج کے سربراہ ۔جنرل سر ڈگلس ڈیوڈ گریسی

(11 / فروری 1948 تا 16 / جنوری 1951)
جب پاکستان وجود میں آیا تو جنرل سر ڈگلس ڈیوڈ گریسی کو کمانڈر انچیف جنرل میسروی کا ڈپٹی نامزد کیا گیا چنانچہ جنرل میسروی کی ریٹائرمنٹ کے بعد گریسی بری فوج کے اگلے کمانڈر انچیف بن گئے۔
جنرل سر ڈگلس گریسی 3 ستمبر 1894 کو مظفر نگر میں پیدا ہوئے تھے۔ انھوں نے 1915ء میں انڈین آرمی میں کمیشن حاصل کیا اور دونوں عالمی جنگوں میں حصہ لیا۔ قیام پاکستان کے بعد وہ پاکستانی فوج کے دوسرے کمانڈر ان چیف مقرر ہوئے ۔
جنگ کشمیر کے موقع پر بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے جنرل گریسی کو کشمیر میں پاکستانی فوج اُتارنے کا حکم دیا جس کی تعمیل کرنے سے جنرل گریسی نے انکار کردیا ۔جنرل گریسی اُس وقت قائم مقام کمانڈر ان چیف تھے۔
بتایا جاتا ہے کہ جنرل گریسی نے یہ موقف اختیار کیا کہ جس طرح ڈومینین کے گورنر جنرل کو تاجِ برطانیہ نے نامزد کیا ہے اسی طرح ڈومینین کا کمانڈر انچیف بھی تاجِ برطانیہ کا نامزد کردہ ہے اور یہی آئینی صورت سرحد پار ہندوستان میں بھی ہے۔ چنانچہ تاجِ برطانیہ کی رضامندی کے بغیر گورنر جنرل اور کمانڈر انچیف فوج کو ڈومینین کی حدود سے باہر پیش قدمی کا حکم نہیں دے سکتے اور وہ بھی ایسی صورت میں جبکہ مہاراجہ کشمیر ہندوستان سے بہ رضا و رغبت الحاق کر چکے ہیں۔
جنرل گریسی اس وقت سپریم کمانڈرفیلڈ مارشل آکن لیک کے احکامات کے تابع تھے ، دوسرے ان کا خیال تھا کہ پاکستان کی فوج اپنے ابتدائی دنوں میں بھارتی فوج کا مقابلہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہو گی اور ان کے انکار کی یہی وجہ تھی۔ جنرل گریسی نے سپریم کمانڈر کو صورت حال سے آگاہ کیا جس کے بعد فیلڈ مارشل کلاؤڈ آکن لیک فوری طور پر لاہور آئے اور قائد اعظم سے ملاقات کر کے احکامات نہ ماننے کی وجوہات سے آگاہ کیا ۔مگر بعد ازاں جب بھارتی فوج کے کشمیر پر حملوں میں اضافہ ہو گیا تو پاکستانی فوج نے جنر ل گریسی کے احکامات کے تحت جنگ میں شامل ہو گئیں ۔جنرل گریسی نے اپنے بھارتی ہم منصب سے شکایت کی بھارتی فوج کے مظالم سے تنگ آکر مغربی پنجاب کی طرف ہجرت کرنے پر مجبور ہیں۔جنرل بُوچر نے جنرل گریسی سے معاملے کی تحقیقات کا وعدہ کیا اورجموں کا دورہ کیا جس کے بعد انہوں نے بھارتی فوج کے بریگیڈئیر بکرم سنگھ کو برطرف کر دیا ۔بہر کیف اقوام متحدہ کی مداخلت پر اس جنگ کا اختتام ہوا ۔ جنرل گریسی کی شہرت آج بھی قائد اعظم کے احکامات کی نا فرمانی کرنے والے جنرل کے طور پر کی جاتی ہے جو کہ حقیقت نہیں کیوں کہ جس وقت یہ واقعہ ہوا اُس وقت جنرل گریسی قائم مقام کمانڈر ان چیف تھے ، اور اگر قائد اعظم جنرل گریسی سے ناراض ہوتے تو انہیں مستقل کمانڈر ان چیف مقرر نہ کرتے۔
جنرل گریسی 16جنوری 1951کو کمانڈر ان چیف کے عہدے سے سُبک دوش ہو گئے ان کا انتقال 5 جون 1964 کو برطانیہ میں ہوا۔
——————————

مقبول بٹ کو پھانسی کی سزا

٭11 فروری 1984ء کو دہلی کی تہاڑ جیل میں کشمیری حریت پسند رہنما مقبول بٹ کو پھانسی کی سزا دے دی گئی۔
مقبول بٹ کا تعلق آزاد کشمیر سے تھا اور انہوں نے کشمیر کو مسلح جدوجہد کے ذریعہ آزاد کروانے کے لئے قومی محاذ آرائی قائم کیا تھا۔ 1965ء میں پاک بھارت جنگ کے بعد وہ سرحد پار کرکے مقبوضہ کشمیر چلے گئے جہاں انہیں بھارت کے ایک انٹیلی جنس آفیسر کے قتل کے الزام میں سزائے موت سنائی گئی۔ مقبول بٹ اس سزا کے بعد جیل سے فرار ہوکر پاکستان آگئے۔ یہاں کچھ عرصے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنے کے بعد 1976ء میں وہ دوبارہ مقبوضہ کشمیر چلے گئے جہاں بھارتی پولیس نے انہیں گرفتار کرکے 11 فروری 1984ء کو تختہ دار پر چڑھا دیا۔ مقبول بٹ کو پھانسی دینے کا فوری سبب انگلینڈ میں ہندوستانی سفارتی مشن کے اہلکار مہاترے کا قتل بنا تھا جسے مقبول بٹ کے ساتھیوں نے انہیں رہا کروانے کے لئے اغوا کیا تھا مگر بھارتی حکومت کی سرد مہری کے باعث اسے قتل کرنے پر مجبور ہوگئے تھے۔
—————————

پاکستان کا پہلا ایک روزہ بین الاقوامی میچ

٭1971ء سے کرکٹ کی دنیا میں ٹیسٹ اور فرسٹ کلاس کرکٹ کے بعد ایک نئی طرح کے مقابلوں کا آغاز ہوا۔ یہ ایک روزہ بین الاقوامی میچ تھے۔ جنہیں کم وقت اور کم اوورز میں مکمل ہونے اور سب سے بڑی بات یہ کہ فیصلہ کن ہونے کے باعث بہت پسند کیا گیا۔
ایک روزہ بین الاقوامی میچوں کے ابتدائی چار میچ انگلستان اور آسٹریلیا کے درمیان کھیلے گئے۔ اس سلسلے کا پانچواں میچ 11 فروری 1973ء کو نیوزی لینڈ میں کرائسٹ چرچ کے مقام پر لنکسٹر پارک (Lancaster park) کے میدان میں نیوزی لینڈ اور پاکستان کی ٹیموں کے درمیان کھیلا گیا یہ ان دونوں ٹیموں کا اولین ایک روزہ بین الاقوامی میچ تھا۔
پاکستانی ٹیم کے کپتان انتخاب عالم اور نیوزی لینڈ کی ٹیم کے کپتان بی ای کونگڈن تھے۔ پاکستان نے ٹاس جیت کر نیوزی لینڈ کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دی۔ یہ چالیس اوورز کا میچ تھا مگر نیوزی لینڈ کی ٹیم 38.3 اوورز میں 187 رنز بنا کر آئوٹ ہوگئی‘ نیوزی لینڈ کی طرف سے سب سے زیادہ اسکور (47 رنز) ایم جی ہرجس نے اسکور کیا جب کہ پاکستان کی طرف سے سرفراز نواز نے 46 رنز کے عوض چار وکٹ حاصل کیے۔ اس اسکور کے جواب میں پاکستانی ٹیم 33.3 اوورز میں صرف 165 رنز بنا سکی۔ پاکستان کی طرف سے سب سے زیادہ اسکور (37 رنز) صادق محمد نے اسکور کیا اور نیوزی لینڈ کی طرف سے ڈی آر ہیڈلے نے 34 رنز کے عوض 4 وکٹیں حاصل کیں یوں یہ میچ نیوزی لینڈ نے 22 رنز سے جیت لیا۔
————————

تنویر ڈار کی وفات

٭ پاکستان ہاکی کے مشہور کھلاڑی تنویر ڈار 4 جون 1937ء کو امرتسر میں پیدا ہوئے تھے۔ اپنے بڑے بھائی منیر ڈار کو ہاکی کھیلتا دیکھ کر انہیں بھی ہاکی کھیلنے کا اشتیاق ہوا اور 1966ء میں منیر ڈار کی ہاکی سے ریٹائرمنٹ کے بعد پاکستان کی ہاکی ٹیم کے مستقل فل بیک بن گئے۔ انہوں نے 1968ء کے اولمپکس، 1970ء کے ایشیائی کھیلوں اور 1971ء کے عالمی کپ میں اپنی اعلیٰ صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔ ان تینوں ٹورنامنٹس میں پاکستان نے پہلی پوزیشن حاصل کی۔ تنویر ڈار نے مجموعی طور پر80 بین الاقوامی میچ کھیلے اور مجموعی طور پر 48 گول اسکور کئے۔ 1971ء کے عالمی کپ میں انہوں نے تین ہیٹ ٹرکس اسکور کیں۔ ان کا یہ ریکارڈ آج بھی ناقابل تسخیر ہے۔
ہاکی کے مشہور کھلاڑی تنویر ڈار 11فروری 1998ء کو وفات پاگئے۔

وقار زیدی ۔ کراچی

SHARE

LEAVE A REPLY